🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ
باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1577
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالنُّفَيْلِيُّ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1577]
جناب مسروق نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ الزکاة 5 (623)، سنن النسائی/الزکاة 8 (2452)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 12 (1803)، (تحفة الأشراف: 11363)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 12 (24)، مسند احمد (5/230، 233، 247)، دی/الزکاة (1663) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (623) نسائي (2454) ابن ماجه (1803)
الأعمش مدلس وعنعن
ومسروق تكلموا في سماعه عن معاذ رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1578
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، لَمْ يَذْكُرْ ثِيَابًا تَكُونُ بِالْيَمَنِ، وَلَا ذَكَرَ يَعْنِي مُحْتَلِمًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ جَرِيرٌ،وَيَعْلَى، وَمَعْمَرٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ يَعْلَى، وَمَعْمَرٌ: عَنْ مُعَاذٍ، مِثْلَهُ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا، لیکن اس میں یہ کپڑے یمن میں بنتے تھے کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ راوی کی تشریح یعنی «محتلمًا» کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے جریر، یعلیٰ، معمر، شعبہ، ابو عوانہ اور یحییٰ بن سعید نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ہے، یعلیٰ اور معمر نے اسی کے مثل اسے معاذ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1578]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف بھیجا، اور اسی کے مثل ذکر کیا۔ اس روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ کپڑے ہیں جو یمن میں ہوتے ہیں اور نہ لفظ «مُحْتَلِمًا» ہی ذکر کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو جریر، یعلیٰ، معمر، شعبہ، ابوعوانہ اور یحییٰ بن سعید نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے مسروق سے (مرسل) نقل کیا ہے، جبکہ یعلیٰ اور معمر نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل (متصل) بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1578)، (تحفة الأشراف:11363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثين السابقين (1576،1577)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1579
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: سِرْتُ، أَوْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ:" لَا تَأْخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ، وَلَا تَجْمَعَ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا تُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَكَانَ إِنَّمَا يَأْتِي الْمِيَاهُ حِينَ تَرِدُ الْغَنَمُ، فَيَقُولُ: أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ"، قَالَ: فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى نَاقَةٍ كَوْمَاءَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا صَالِحٍ، مَا الْكَوْمَاءُ؟ قَالَ: عَظِيمَةُ السَّنَامِ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَيْرَ إِبِلِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، قَالَ: فَخَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، ثُمَّ خَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَقَبِلَهَا، وَقَالَ: إِنِّي آخِذُهَا وَأَخَافُ أَنْ يَجِدَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِي:" عَمَدْتَ إِلَى رَجُلٍ فَتَخَيَّرْتَ عَلَيْهِ إِبِلَهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا يُفَرَّقُ.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود گیا، یا یوں کہتے ہیں: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محصل کے ساتھ گیا تھا اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کی کتاب میں لکھا تھا: ہم زکاۃ میں دودھ والی بکری یا دودھ پیتا بچہ نہ لیں، نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق اس وقت آتا جب بکریاں پانی پر جاتیں اور وہ کہتا: اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو، ایک شخص نے اپنا کوبڑے کوہان والا اونٹ کو دینا چاہا تو مصدق نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اس شخص نے کہا: نہیں، میری خوشی یہی ہے کہ تو میرا بہتر سے بہتر اونٹ لے، مصدق نے پھر لینے سے انکار کر دیا، اب اس نے تھوڑے کم درجے کا اونٹ کھینچا، مصدق نے اس کے لینے سے بھی انکار کر دیا، اس نے اور کم درجے کا اونٹ کھینچا تو مصدق نے اسے لے لیا اور کہا: میں لے لیتا ہوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر غصہ نہ ہوں اور آپ مجھ سے کہیں: تو نے ایک شخص کا بہترین اونٹ لے لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر اس میں «لا تفرق» کی بجائے «لا يفرق» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1579]
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل کے ساتھ) چلا، یا کہا کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل کے ساتھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد (تحریر) میں یہ تھا: زکوٰۃ میں کوئی دودھ والا جانور (بکری وغیرہ) یا دودھ پیتا بچہ نہ لینا، جدا جدا جانوروں کو جمع نہ کرنا اور نہ اکٹھے (رہنے، چرنے والوں) کو جدا جدا کرنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تحصیلدارِ زکوٰۃ ان کے پانیوں (چشموں، کنوؤں یا تالابوں) پر پہنچتا تھا، جب بکریاں پانی پینے کے لیے آتی تھیں، تو وہ (مالکوں سے) کہتا تھا: اپنے مالوں کی زکوٰۃ پیش کرو۔ راوی نے بیان کیا، چنانچہ ایک شخص نے «كَوْمَاءَ» بڑے کوہان والی اونٹنی کا قصد کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوصالح! «كَوْمَاءَ» کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: بڑے کوہان والی، تو عامل نے لینے سے انکار کر دیا (کیونکہ وہ بہت عمدہ تھی)۔ مال والے نے کہا: میں پسند کرتا ہوں کہ آپ میری بہترین اونٹنی وصول کریں، مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ تو وہ دوسری پکڑ لایا جو اس سے ذرا کم درجے کی تھی، تو اس نے وہ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ ایک اور لے آیا جو اس سے بھی کم درجے کی تھی، تو اس نے وہ لے لی اور کہنے لگا: میں یہ لے تو رہا ہوں مگر اندیشہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر خفا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہیں گے کہ تم اس آدمی کی بہترین اونٹنی لے آئے ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی کی مانند روایت کیا مگر لفظ «لَا يُفَرَّقُ» استعمال کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 12 (2459)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 11 (1801)، (تحفة الأشراف:15593)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/315)، سنن الدارمی/الزکاة 8 (1670) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2459)
ھلال بن خباب اختلط (انظر التقريب : 7334)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1580
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ:" لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ" وَلَمْ يَذْكُرْ رَاضِعَ لَبَنٍ.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھا: زکاۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے، اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1580]
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تحصیلدارِ زکوٰۃ ہمارے ہاں آیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کے وثیقے میں پڑھا: زکوٰۃ کے خوف سے جدا جدا رہنے والے جانوروں کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے مال کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے۔ اس روایت میں «رَاضِعُ لَبَنٍ» یعنی دودھ والے جانور یا دودھ پیتے بچوں کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «لَا تُجْمَعُ» تم جمع نہ کرو اور «لَا يُجْمَعُ» جمع نہ کیے جائیں کا ایک ہی حکم ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:15593) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1801)
شريك القاضي مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1581
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: رَوْحٌ يَقُولُ: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ نَافِعُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ، قَالَ: فَبَعَثَنِي أَبِي فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ، فَأَتَيْتُ شَيْخًا كَبِيرًا يُقَالُ لَهُ: سِعْرُ بْنُ دَيْسَمٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ، يَعْنِي لِأُصَدِّقَكَ، قَالَ ابْنَ أَخِي: وَأَيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ، قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا نَتَبَيَّنَ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ ابْنَ أَخِي: فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي، فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ، فَقَالَا لِي: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ، فَقُلْتُ: مَا عَلَيَّ فِيهَا، فَقَالَا: شَاةٌ، فَأَعْمَدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةٍ مَحْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَاةُ الشَّافِعِ، وَقَدْ" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا"، قُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟، قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ: فَأَعْمَدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا، فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا، ثُمَّ انْطَلَقَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ أَيْضًا: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، كَمَا قَالَ: رَوْحٌ.
مسلم بن ثفنہ یشکری ۱؎ کہتے ہیں نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا، میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، چنانچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا، جس کا نام سعر بن دیسم تھا، میں نے کہا: مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہ بولے: بھتیجے! تم کس قسم کے جانور لو گے؟ میں نے کہا: ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں: میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رہا کرتا تھا، ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں، تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو، میں نے کہا: مجھے کیا دینا ہو گا؟ انہوں نے کہا: ایک بکری، میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا، جس کی جگہ مجھے معلوم تھی، وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا، انہوں نے کہا: یہ بکری پیٹ والی (حاملہ) ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے، پھر میں نے کہا: تم کیا لو گے؟ انہوں نے کہا: ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہو گئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہو گئی ہو، میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا، اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: اسے ہم نے لے لیا، پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کر لیے چلے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے، انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1581]
مسلم بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نافع بن علقمہ نے میرے والد کو ان کی اپنی قوم کا سربراہ، نگران کار اور منتظم بنا دیا اور حکم دیا کہ ان سے زکوٰۃ بھی وصول کریں۔ چنانچہ میرے والد نے مجھے (مسلم کو) ایک جماعت کے پاس بھیجا، میں ایک بڑے بزرگ کے پاس پہنچا ان کا نام سعر (بن ویسم) رضی اللہ عنہ تھا۔ میں نے عرض کیا: میرے والد نے مجھے بھیجا ہے کہ آپ سے زکوٰۃ لے آؤں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم کس قسم کا مال لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چن کر تھنوں کو دیکھ کر عمدہ بکریاں لیتے ہیں۔ وہ کہنے لگے: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان وادیوں میں سے ایک وادی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے جو ایک اونٹ پر سوار تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکوٰۃ دے دیں۔ میں نے پوچھا: مجھ پر ان میں سے کیا واجب ہے؟ انہوں نے کہا: ایک بکری۔ تو میں نے ایک بکری کا قصد کیا جو میں جانتا تھا کہ وہ دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی۔ میں اسے ان کی طرف نکال لے آیا۔ تو وہ کہنے لگے: یہ تو حاملہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور لینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: آپ لوگ کس طرح کی قبول کریں گے؟ وہ کہنے لگے: ایک سال کی بھیڑ یا بکری، جو دوسرے سال میں جا لگی ہو یا دو سال کی جو تیسرے سال میں شروع ہو۔ اب میں ایک بھیڑ لے آیا جو موٹی تازی تھی اور حاملہ نہ ہوئی تھی، «الْمُعْتَاطُ» وہ بکری جو حاملہ تو نہ ہوئی ہو مگر اس عمر کو پہنچ چکی ہو۔ وہ میں ان کے لیے نکال لایا تو انہوں نے کہا: یہ ہمیں دے دو۔ تو انہوں نے اس کو اپنے ساتھ اونٹ پر رکھ لیا اور چل دیے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعاصم نے زکریا سے روایت کرتے ہوئے راوی کا نام مسلم بن شعبہ کہا ہے، جیسے کہ روح نے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 15 (2464)، (تحفة الأشراف:15579)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/414، 415) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مسلم لین الحدیث ہیں، نیز اس میں مذکور معمر شخص مبہم ہے)
وضاحت: ۱؎: روح نے مسلم بن ثفنہ کے بجائے مسلم بن شعبہ کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2464،2465)
مسلم بن شعبة ويقال : مسلم بن ثفنة وثقه ابن حبان وحده وقال الذھبي : لا يعرف (ميزان الإعتدال 101/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ فِيهِ: وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ.
اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1582]
زکریا بن اسحاق نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی اور راوی کا نام «مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ» مسلم بن شعبہ ذکر کیا (نہ کہ «مُسْلِمُ بْنُ ثَفْنَةَ» مسلم بن ثفنہ)، اس میں ذکر کیا «شَافِعٌ» شافع وہ ہوتی ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حمص میں آل عمرو بن حارث حمصی کے ہاں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا، جسے انہوں نے زبیدی سے روایت کیا تھا، کہا «عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيُّ» عبداللہ بن معاویہ غاضری جو غاضرہ قیس سے ہیں، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین کام کیے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ جس نے ایک اللہ کی عبادت کی اور اقرار کیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اور خوشی خوشی ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ دی، کوئی بوڑھا، خارش زدہ، بیمار یا ردی قسم کا جانور نہ دیا بلکہ متوسط مال سے دیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے عمدہ مال کا مطالبہ نہیں کیا ہے اور نہ تمہیں برا مال دینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:9645) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[1582/ا ] إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمَّا جَمَعَ لِي مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهِ إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ، فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ، فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ، وَهَهِيَ ذِهْ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ آجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ" قَالَ: فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ:" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی، میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دو، یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولا: بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ (اس پر) سواری کی جا سکے، یہ لو ایک اونٹنی جوان، بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا: میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے، اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کر دیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا: ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی، لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے نبی! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا، قسم اللہ کی! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا: تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کر دیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے، وہ شخص بولا: اے اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1583]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو صدقے کا عامل بنا کر بھیجا، میں ایک آدمی کے پاس پہنچا، جب اس نے میرے سامنے اپنا مال جمع کر دیا تو میں نے اس پر صرف ایک «بِنْتَ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنی) ہی واجب پائی۔ میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دے دو، تمہاری یہی زکوٰۃ ہے۔ اس نے کہا: یہ نہ دودھ والی ہے اور نہ سواری کے قابل! اس کی بجائے یہ ایک جوان اور موٹی تازی اونٹنی ہے، اسے لے جاؤ۔ میں نے اس سے کہا: جس کا مجھے حکم نہیں ہے میں وہ کیونکر لے سکتا ہوں؟ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے قریب ہی ہیں، اگر چاہو تو ان کی خدمت میں چلے جاؤ اور جو کچھ مجھے دے رہے ہو انہیں جا کر پیش کر دو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول کر لیں تو مجھے بھی قبول ہے، اور اگر وہ نامنظور کریں تو میں بھی قبول نہیں کرتا۔ وہ کہنے لگا: میں یہی کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ چل پڑا اور وہ اونٹنی بھی ساتھ لے گیا جو وہ مجھے دے رہا تھا حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا نمائندہ میرے مال کی زکوٰۃ لینے کے لیے میرے ہاں پہنچا ہے اور قسم اللہ کی! اس سے پہلے نہ تو اللہ کے رسول میرے مال میں تشریف لائے ہیں اور نہ ان کا کوئی نمائندہ ہی۔ سو میں نے اس کے لیے اپنا مال جمع کیا تو اس نے بتایا کہ میرے مال میں صرف ایک «بِنْتَ مَخَاضٍ» واجب ہے، اور اس عمر کا جانور نہ دودھ دیتا ہے اور نہ سواری کے قابل ہوتا ہے۔ سو میں نے اسے ایک شاندار جوان اونٹنی پیش کی کہ اسے قبول کر لے مگر اس نے انکار کر دیا، اور وہ یہ رہی! اے اللہ کے رسول! میں اسے آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں، تو آپ قبول فرما لیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھ پر وہی فرض ہے لیکن اگر تو خوشی سے نیکی کرنا چاہے تو اس کا اللہ تعالیٰ تجھے اجر و ثواب عطا کرے گا اور ہم تجھ سے یہ قبول کر لیتے ہیں۔ اس نے کہا: اور وہ یہ رہی اے اللہ کے رسول! میں اسے لے آیا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول فرما لیجیے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے وصول کر لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف:70)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/142) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (2277 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1584
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1584]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، انہیں شہادتِ توحید «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کی اور اس (شہادت) کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں، دعوت دینا۔ اگر وہ تمہاری یہ بات تسلیم کر لیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ (زکوٰۃ) فرض کی ہے، جو ان کے اغنیاء سے لے کر ان کے فقیروں میں بانٹی جائے گی۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو ان کے عمدہ مالوں سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، بلاشبہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 1 (1395)، 41 (1458)، 63 (1496)، المظالم 9 (2448)، المغازي 60 (4347)، التوحید 1 (7372)، صحیح مسلم/الإیمان 7 (19)، سنن الترمذی/الزکاة 6 (625)، والبر والصلة 68 (2014)، سنن النسائی/الزکاة 1 (2437)، 46 (2523)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 1 (1783)، (تحفة الأشراف:6511)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/233)، سنن الدارمی/الزکاة 1 (1655) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2448) صحيح مسلم (19)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1585
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1585]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوٰۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا اسی طرح ہے جیسے کہ زکوٰۃ نہ دینے والا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 19 (646)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 14 (1808)، (تحفة الأشراف:847) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جیسے گناہ زکاۃ نہ ادا کرنے میں ہے، ویسے ہی گناہ جبراً زکاۃ والے سے زیادہ لینے میں بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (646) ابن ماجه (1808)
سعد بن سنان صدوق لكن : رواية يزيد بن أبي حبيب عن سعد بن سنان منكرة كما في الضعفاء الكبير للعقيلي (119/2) عن أحمد بن حنبل و سنده حسن و ھذه منھا وللحديث شاھد ضعيف عند الطبراني في الكبير (306/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں