المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لَا يَجُوزُ بَيْعَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا بَيْعُ مَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ .
ایک ہی سودا میں دو سودے جائز نہیں، نہ اس چیز کی بیع جو ملکیت میں نہ ہو، نہ قرض کے ساتھ بیع، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں۔
حدیث نمبر: 2216
أخبرَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا علي بن محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب القرشي، حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا يزيد بن زُرَيع الرَّمْلي، حدثنا عطاءٌ الخُراساني، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: قلت: يا رسولَ الله، إني أسمعُ منك أشياءَ أخافُ أن أنساها، فتأذنُ لي أن أكتُبَها؟ قال:"نعم". قال: فكان فيما كَتَبَ عن رسولِ الله ﷺ: أنه لما بَعَثَ عَتَّابَ بن أَسِيدٍ إلى أهل مكة، قال:"أخبِرْهُم أنه لا يجوزُ بيعانِ فِي بَيعٍ، ولا بَيعُ ما لا يُملَكُ، ولا سلفٌ وبَيعٌ، ولا شرطانِ في بَيعٍ" (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے کئی باتیں سنتا ہوں اور مجھے خدشہ ہے کہ کہیں میں ان کو بھول نہ جاؤں۔ کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں ان کو لکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تو انہوں نے جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے لکھا تھا، اس میں سے یہ بھی تھا کہ آپ نے جب عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ کی طرف بھیجا تو فرمایا: ان کو یہ بتا دو کہ ایک سودے میں دو سودے جائز نہیں ہیں اور ایسی چیز کی فروخت بھی جائز نہیں ہے جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی بیع بشرط قرض جائز ہے اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2216]
حدیث نمبر: 2217
أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد بن قُرقُوب التمّار بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو اليمان، أخبرني شعيب بن أبي حمزة، عن الزُّهْري، عن عُمارة بن خُزيمة، أنَّ عمَّه حدثه - وكان من أصحاب النبي ﷺ. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسن بن علي بن زياد، قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أخي أبو بكر، عن سُليمان بن بلال، عن محمد بن أبي عَتيق، عن ابن شهاب، عن عُمارة بن خُزيمة، أنَّ عمَّه أخبره - وكان من أصحاب رسول الله ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ ابتاعَ فرسًا من رجل من الأعراب، فاستَتْبعَه رسولُ الله ﷺ ليقضيَ ثمنَ فرسِه، فأسرع رسولُ الله ﷺ المشيَ، وأبطأ الأعرابيُّ، فطَفِقَ رجالٌ يَعترِضُون الأعرابيَّ ويُساوِمونه الفرسَ، ولا يَشعُرون أنَّ رسولَ الله ﷺ قد ابتاعَه، حتى زاد بعضُهم الأعرابيَّ في السَّومِ، فلما زادُوا، نادى الأعرابيُّ: يا رسولَ الله، إن كنتَ مبتاعًا هذا الفرس فابتَعْه، وإلّا بِعتُه، فقامَ رسولُ الله ﷺ حين سمع نداءَ الأعرابيِّ، حتى أتى الأعرابيَّ، فقال رسول الله ﷺ:"أوَلَيس قد ابتَعْتُ منكَ؟" قال: لا، والله ما بِعتُكَهُ، قال:"بل ابتَعْتُه منكَ"، فطَفِقَ الناس يَلُوذُون برسول الله ﷺ وبالأعرابيِّ وهما يَتراجَعان، فَطَفِقَ الأعرابيُّ يقول: هَلُمَّ شهيدًا أني بايَعْتُك، فقال خُزيمةُ: أشهدُ أنك بايَعْتَه، فأقبَلَ رسولُ الله ﷺ على خُزيمة، فقال:"بمَ تَشهدُ؟" فقال: بتصديقِك، فجعلَ رسولُ الله ﷺ شهادةَ خُزيمةَ شهادةَ رجُلين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ورجاله باتفاق الشيخين ثقاتٌ، ولم يُخرجاه، وعُمارة بن خزيمة سمعَ هذا الحديث من أبيه أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2187 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ورجاله باتفاق الشيخين ثقاتٌ، ولم يُخرجاه، وعُمارة بن خزيمة سمعَ هذا الحديث من أبيه أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2187 - صحيح
سیدنا عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ کے چچا، صحابی رسول ہیں، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا۔ آپ اس کو اپنے ساتھ لے کر چل دیئے تاکہ اس کو گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا تیز چل رہے تھے اور دیہاتی آہستہ چل رہا تھا، کچھ لوگ اس دیہاتی کے ساتھ گھوڑے کا سودا کرنے لگ گئے کیونکہ ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ گھوڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خرید چکے ہیں (گھوڑے کی قیمت لگاتے لگاتے) ایک صحابی نے (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لگائی ہوئی قیمت سے) زیادہ دام بول دیئے۔ جب اس کے گھوڑے کا بھاؤ زیادہ لگ گیا تو اس نے وہیں سے آواز دی: اگر آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں ورنہ میں یہ بیچ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیہاتی کی آواز سُن کر رُک گئے، جب وہ دیہاتی آپ کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے یہ گھوڑا تجھ سے خرید نہیں لیا ہے؟ اس نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ میں نے آپ کو یہ نہیں بیچا بلکہ یہ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ہے۔ اس پر آپ کے اور اعرابی کے درمیان بات بڑھ گئی اور لوگ آپ کے اور اس اعرابی کے گرد جمع ہو گئے۔ اعرابی نے کہا: آپ کوئی گواہ پیش کریں کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کو بیچا ہے تو سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ بولے! میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ گھوڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہو کر بولے: تم نے کس بنا پر گواہی دے دی؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کی تصدیق کی بنا پر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حالانکہ شیخین کے اتفاق کے ساتھ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور عمارہ بن خزیمہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بھی سنی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2217]
حدیث نمبر: 2218
حدَّثَناه الأستاذُ أبو الوليد، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق، قالا: حدثنا عَبْدة بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني محمد بن زُرَارة بن عبد الله بن خُزيمة بن ثابت، حدثني عُمارة بن خُزيمة، عن أبيه خُزيمة بن ثابت: أنَّ رسول الله ﷺ ابتاعَ من سَواء بن الحارث المُحاربي (1) فرسًا، فجَحَدَهُ، فشَهِدَ له خُزيمةُ بن ثابت، فقال له رسول الله ﷺ:"ما حَمَلَك على الشهادة ولم تَكُنْ معه؟" قال: صدَقْتَ يا رسول الله، ولكن صدَّقتُك بما قُلتَ، وعرفتُ أنك لا تقول إلّا حقًّا، فقال:"مَن شَهِدَ له خُزيمةُ أو شَهِدَ عليه فحَسْبُه" (2) .
سیدنا عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواء بن حارث المحاربی سے ایک گھوڑا خریدا، بعد میں وہ مکر گیا تو سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں) گواہی دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تم (خریدتے وقت) وہاں پر موجود نہیں تھے تو تم نے اس کی گواہی کیسے دے دی؟ (سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: یا رسول اللہ! آپ سچ فرما رہے ہیں لیکن میں نے تو آپ کی بات سن کر گواہی دی ہے اور میں یہ جانتا ہوں کہ آپ حق کے سوا کچھ بولتے ہی نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے متعلق خزیمہ گواہی دے، تو یہ (صرف ایک آدمی کی) گواہی کافی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2218]
حدیث نمبر: 2219
أخبرني أبو عون محمد بن أحمد بن ماهَان الجزّار بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن جابر، قال: بِعْنا أمهاتِ الأولاد على عهد رسول الله ﷺ وأبي بكر، فلما كان عمرُ نهانا فانتَهَينا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2189 - على شرط مسلم وشاهده صحيح
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2189 - على شرط مسلم وشاهده صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں ” ام ولد “ کو بیچا کرتے تھے۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے ہمیں اس سے روک دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ایک صحیح حدیث اس حدیث کی شاہد بھی ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2219]
حدیث نمبر: 2220
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب ويوسف بن يعقوب، قالا: حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شعبة، عن زيدٍ العَمِّي، عن أبي الصِّدِّيق الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كنا نبيعُ أمهاتِ الأولاد على عهدِ رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2190 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2190 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ” ام ولد “ کو بیچا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2220]
حدیث نمبر: 2221
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن حسين بن عبد الله، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"أيُّما أَمةٍ وَلَدَت من سيِّدها، فهي حُرّةٌ بعد موتهِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابعه أبو بكر بن أبي سَبْرة القرشي عن حُسين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ: حِينَ وَلَدَتْهُ: «أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا» _x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابعه أبو بكر بن أبي سَبْرة القرشي عن حُسين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ: حِينَ وَلَدَتْهُ: «أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا» _x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك
سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اپنے آقا کے لیے بچہ پیدا کرے تو وہ اس (آقا) کے موت کے بعد آزاد ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو حسین بن عبداللہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن سبرہ نے شریک کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہیں) سیدنا ابوبکر بن سبرہ کی سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کی ماں (ماریہ قبطیہ) کے متعلق فرمایا: اس کے بچے نے اس کو آزاد کرا دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2221]
حدیث نمبر: 2222
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا أبو عِصمة سهل بن المتوكِّل، حدثنا عبد الله بن مسلمة القَعْنبي، حدثنا أبو بكر بن أبي سَبْرة، عن حُسين بن عبد الله، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأم إبراهيم حين وَلَدتْه:"أعتقَها ولدُها" (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی زوجہ) امِ ابراہیم (سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے بارے میں، جب انہوں نے (صاحبزادے ابراہیم کو) جنم دیا، فرمایا: ”اسے اس کے بیٹے نے آزاد کر دیا“۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں: (اس کی سند میں شامل راوی) حسین متروک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2222]