المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. بَيَانُ سَعَادَةِ الْمَرْءِ وَشَقَاوَتِهِ .
آدمی کی سعادت اور بدبختی کا بیان
حدیث نمبر: 2672
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن أبي حُميد، عن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن أبيه، عن جده سعد بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ:"سَعادةٌ لابن آدم ثلاثةٌ، وشَقاوةٌ لابن آدم ثلاثةٌ، فمِن سعادة ابن آدم: المرأةُ الصالحة، والمَسكَنُ الصالح، والمَركَبُ الصالح، ومِن شقاوة ابن آدم المسكنُ الضّيِّق، والمرأةُ السُّوء، والمَركبُ السُّوء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2640 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2640 - صحيح
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں انسان کی خوش بختی ہیں اور تین چیزیں انسان کی بدبختی ہیں۔ خوش بختی یہ ہیں: (1) نیک بیوی (2) اچھا مکان (3) اچھی سواری۔ اور بدبختی یہ ہیں: (1) تنگ مکان۔ (2) بداخلاق بیوی۔ (3) بری سواری۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2672]
حدیث نمبر: 2673
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني زيد بن أَرْطاة، عن جُبير بن نُفَير، عن أبي الدرداء، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ابغُوني ضُعفاءَكم، فإنكم إنما تُرزَقون وتُنصَرون بضعفائِكم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کیا کرو کیونکہ انہی کمزوروں کے طفیل تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور انہی کے طفیل تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2673]
حدیث نمبر: 2674
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثني يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثني ابن وهب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومَ بدرٍ بثلاث مئةٍ وخمسةَ عشرَ من المُقاتِلة، كما خرج طالُوتُ، فدعا لهم رسول الله ﷺ حين خرج، فقال:"اللهم إنهم حُفاةٌ، فاحمِلْهم، اللهم إنهم عُراةٌ، فاكسُهُم اللهم إنهم جِياعٌ، فأشبِعْهم"، ففتح الله لهم يوم بدر، فانقَلَبوا وما منهم رجلٌ إلّا قد رجع بجَمَل أو جَمَلَين، واكتسَوْا وشَبِعُوا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طالوت کی طرح جنگ بدر کے دن 315 اصحاب رضی اللہ عنہم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ اور روانگی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! یہ ننگے پاؤں ہیں تو ان کو جوتے پہنا دے، یہ پیدل ہیں تو ان کو سواریاں دے دے، یہ بے لباس ہیں تو ان کو لباس دے دے، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں تو ان کے پیٹ بھر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے (آپ کی دعا کی برکت سے) جنگ بدر میں ان کو فتح و نصرت عطا فرمائی جب وہ لوٹ کر آ رہے تھے تو ہر شخص کے پاس ایک یا دو اونٹ تھے۔ لباس پہنے ہوئے اور پیٹ بھرے ہوئے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2674]