🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

144. حِكَايَةُ أَسَارَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِيَدِ الْكُفَّارِ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کفار کے ہاتھوں قید کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3402
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان، الجَلّاب، بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا أَبي، حدثنا عُبيد الله بن عَمرو الرَّقِّي، عن عبد الكريم، عن أبي عُبَيدة بن محمد بن عمَّار بن ياسر، عن أَبيه قال: أَخَذَ المشركون عمَّارَ بنَ ياسرٍ فلم يَتركُوه حتى سَبَّ النبيَّ ﷺ وذَكَر آلهتَهم بخير ثم تركوه، فلما أَتى رسولَ الله ﷺ قال:"ما وراءَكَ؟" قال: شرٌّ يا رسولَ الله، ما تُرِكتُ حتى نِلتُ منك وذكرتُ آلهتَهم بخير، قال:"كيف تَجِدُ قلبَك؟" قال: مطمئِنٌّ بالإيمان، قال:"إنْ عادُوا فعُدْ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3362 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا محمد بن عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مشرکوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لیا، پھر انہوں نے آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات اور ان کے بتوں کے حق میں اچھے کلمات نہیں کہہ دیئے (جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا گفتگو اور ان کے بتوں کے بارے میں اچھی گفتگو کی) تو انہوں نے آپ کو رہا کر دیا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: میرا دل ایمان پر مطمئن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دوبارہ بھی ایسا کہنے کی مجبوری آن پڑے تو کہہ سکتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3402]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3403
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إيَاس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ﴾ [النحل: 103] ، قالوا: إنما يُعلَّمُ محمدًا عبدُ ابنِ الحَضرَميِّ، وهو صاحب الكُتُب، فقال الله: ﴿لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ﴾ [النحل: 103] ، ﴿إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ﴾ [النحل: 105] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوِّينا عن سفيان بن عُيَينة تلاوتَه هذه الآيةَ واستشهادَه بها في الكذَّابِين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3363 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَّ ھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ (النحل: 103) یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: ان لوگوں نے یہ کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تو ابن الحضرمی کا ایک غلام سکھاتا ہے اور وہ صاحب کتاب ہے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان، اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ) (النحل: 105) جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ ہم نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے اس آیت کی تلاوت اور اس آیت کے ساتھ ان کا دو جھوٹوں کے بارے میں استشہاد روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3403]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3404
حدَّثَناه أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي - وأنا سألتُه - قال: حدثنا يعقوب بن سفيان الفارسي، حدثني عبد الله بن الزُّبير الحُمَيدي قال: كنَّا قُعودًا مع سفيان بن عُيينة في مسجد الخَيْف بمِنًى إذ قام رجلٌ قاصٌّ، فقال: حدثنا سفيان بن عُيينة، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس؛ ثم أَخَذَ في قَصَصٍ طويل، فقام ابنُ عُيَينة فاتَّكأَ على عصاه، فقال: ﴿إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ﴾ [النحل: 105] ، ما حدَّثتُ بهذا قطُّ ولا أعرفُه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3364 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن الزبیر الحمیدی فرماتے ہیں: ہم منیٰ میں مسجد خیف کے اندر سیدنا سفیان بن عیینہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک قصہ گو شخص کھڑا ہوا اور بولا: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ طَاؤسٍ عَنْ أبیہ عَنِ ابْنِ عَبَّاس یہ سند بیان کرنے کے بعد لمبے چوڑے قصے بیان کرنا شروع کر دیئے، تو سیدنا سفیان بن عیینہ اُٹھ کر کھڑے ہوئے، اپنے عصا مبارک پر ٹیک لگائی اور بولے: جھوٹ تو ان لوگوں نے باندھا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے۔ میں نے یہ حدیث نہ کبھی بیان کی ہے اور نہ ہی میں اس کو جانتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3404]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3405
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزدي، حدثنا معاوية بن عَمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي صادق، قال: قال عليٌّ: إنكم ستُعرَضون على سبِّي فسُبُّوني، فإن عُرِضَت عليكم البراءةُ مني، فلا تَبرَؤوا مني، فإنِّي على الإسلام، فليَمدُدْ أحدُكم عنقَه ثَكِلَتْه أمُّه، فإنه لا دنيا له ولا آخرةَ بعد الإسلام. ثم تلا عليٌّ: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [النحل: 106] (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3365 - صحيح
سیدنا ابوصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنقریب تمہیں، مجھے گالیاں دینے پر مجبور کیا جائے گا (تو تمہیں اس بات کی اجازت ہے) تم مجھے گالیاں دے لینا لیکن اگر تمہیں مجھ سے برات پر مجبور کیا جائے تو تم مجھ سے برات کا اظہار مت کرنا کیونکہ میں اسلام پر قائم ہوں۔ (ایسے حالات میں) اپنی گردن بلند رکھنا، اس کی ماں اس پر روئے (پیار سے یہ جملہ بولا جاتا ہے) اسلام کے بعد اس کے لیے نہ تو دنیا (کی کوئی اہمیت) ہے اور نہ آخرت (کی)، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ (النحل: 106) سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3405]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں