المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
433. تَفْسِيرُ سُورَةِ أَبِي لَهَبٍ - حِكَايَةُ أَخْذِ الْأَسَدِ ابْنَ أَبِي لَهَبٍ
تفسیر سورہ ابی لہب - ابولہب کے بیٹے کو شیر کے ہلاک کرنے کا قصہ
حدیث نمبر: 4028
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المزكِّي بمَرْو، حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا العبَّاس بن الفضل الأنصاري، حدَّثنا الأسوَد بن شَيْبان، عن أبي نَوفَل بن أبي عَقرَب، عن أبيه قال: كان لهبُ بن أبي لهبٍ يَسُبُّ النبيَّ ﷺ، فقال النبي ﷺ:"اللهمَّ سلِّطْ عليه كَلْبَك"، فخرج في قافلةٍ يريد الشام، فنزلوا منزلًا، فقال: إِنِّي أخافُ دعوةَ محمدٍ، قالوا له: كلَّا، فحَطُّوا مَتاعَهم (2) حولَه وقعدوا يَحرُسونه، فجاء الأسدُ فانتزَعَه فذهبَ به (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3984 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3984 - صحيح
ابونوفل بن ابی عقرب اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ لہب ابن ابی لہب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکا کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: اے اللہ! اس پر اپنا کوئی کتا مسلط فرما دے۔ وہ ایک قافلے کے ہمراہ شام کی جانب نکلا اور قافلے نے شام پر پڑاؤ کیا۔ اس نے کہا: مجھے محمد کی دعا سے خوف آتا ہے۔ لوگوں نے اس کو تسلی دی اور اس کے اردگرد اپنا سامان اتارا اور اس کی حفاظت کرنے بیٹھ گئے۔ ایک شیر آیا اس نے ان سے (لہب کو) جھپٹ کر چھینا اور لے کر بھاگ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4028]
حدیث نمبر: 4029
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدَّثنا الفضل بن محمد، حدَّثنا أحمد بن حَنبَل، قال: قُرِئَ على سفيان بن عُيينة وأنا شاهدٌ: الزُّهْرِيُّ، عن عُبيد الله، عن ابن عباس: ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾، قال: كَسْبُه: ولدُه (1) . قال أحمدُ بن حَنبَل: لم يَذكُر ابن عُيينة سماعَه فيه، ثم بَلَغني أنه سمعه من عمر بن حَبِيب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3985 - عمرو بن حبيب واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3985 - عمرو بن حبيب واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ” مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَا لُہٗ وَ مَا کَسَبَ “ (کی تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: اس کا کسب اس کی اولاد ہے۔ ٭٭ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن عیینہ نے ہمیں اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا پھر مجھے پتہ چل گیا کہ انہوں نے یہ حدیث عمر بن حبیب سے سنی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4029]
حدیث نمبر: 4030
وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدَّثنا الفضل، حدَّثنا أحمد بن حَنبَل، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيم، عن أبي الطُّفَيل قال: كنت عند ابن عبَّاس يومًا، فجاءه بنو أبي لهبٍ يختصمون في شيءٍ لهم، فقام يُصلِحُ بينهم، فدَفَعه بعضُهم فوَقَع على الفِراش، فغَضِبَ ابن عبَّاس وقال: أخرِجوا عني الكَسْب الخبيثَ - يعني: ولدَه - ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ (2) . ﷽ [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3986 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3986 - على شرط البخاري
سیدنا ابوالطفیل فرماتے ہیں: میں ایک دن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ابولہب کے بیٹے کسی بات میں جھگڑتے ہوئے آپ کے پاس آ گئے۔ آپ ان میں صلح کرانے کے لئے کھڑے ہوئے تھے کہ ان میں سے ایک نے آپ کو دھکا دیا جس کی وجہ سے آپ زمین پر گر پڑے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بات پر بہت غصہ آیا۔ آپ نے فرمایا: اس خبیث کمائی (یعنی خبیث بچے) کو یہاں سے نکال دو: مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَا لُہٗ وَ مَا کَسَبَ ” اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو اس نے کمایا “ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4030]