🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

226. ذِكْرُ سَادَاتِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
اہلِ جنت کے سرداروں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5003
أخبرني أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حمزة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن الهادِ، عن محمد بن نافع بن عُجَير، عن أبيه نافع، عن علي بن أبي طالب، في قصة بنتِ حمزةَ، قال: فقال جعفرٌ: أنا أحقُّ بها، إنَّ خالتَها عندي، فقال رسولُ الله ﷺ:"أما أنتَ يا جعفرُ، فأشبهتَ خَلْقي وخُلُقي، وأنت من شَجَرتي التي أنا منها"، قال: قد رضيتُ يا رسول الله بذلك،"وأما الجاريةُ فأقضي بها لجعفرٍ، فإنَّ خالتَها عنده، وإنما الخالةُ أمٌّ". فكان أبو هريرة يقول: ما أظلَّتِ الخَضْراءُ على وجهٍ أحبَّ إليَّ بعدَ رسول الله ﷺ من جعفر بن أبي طالبٍ، لقولِ رسول الله ﷺ:"أشبهتَ خَلْقي وخُلُقي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4939 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے بارے میں مروی ہے کہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس (کی کفالت) کا زیادہ مستحق ہوں کیونکہ اس کی خالہ بھی میرے پاس ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر رضی اللہ عنہ! تم صورت و سیرت میں بالکل میرے جیسے ہو، اور تم بھی اسی درخت سے ہو جس سے میں ہوں (یعنی تیرا اور میرا شجرہ نسب بھی ایک ہی ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس پر راضی ہوں، آپ اس بچی کا جعفر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرما دیجئے کیونکہ اس کی خالہ ان کے پاس ہے۔ اور خالہ ماں ہی (کی طرح) ہوتی ہے۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو یہ کہا کہ صورت اور سیرت میں تم بالکل میرے جیسے ہو اس پر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو خوشی کے آثار نظر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھے انہی کے چہرے پر سب سے زیادہ اچھے لگے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5003]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5004
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي العَوّام الرِّيَاحي، حَدَّثَنَا سَعْد بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا عبد الله بن زياد اليَمَامي، عن عِكْرمة بن عمار، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ، قال:"نحن بنو عبد المُطَّلب سادةُ أهلِ الجنةِ، أنا وعليٌّ وجعفرٌ وحمزةُ والحسنُ والحسينُ والمَهديُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4940 - ذا موضوع
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم بنی عبدالمطلب جنتی لوگوں کے سردار ہیں۔ میں، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی (رضی اللہ عنہم اجمعین) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5004]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5005
أخبرني علي بن عبد الرحمن بن عيسى السَّبِيعيّ بالكوفة، حَدَّثَنَا الحُسين بن الحَكَم الحِبَري، حَدَّثَنَا الحسن بن الحسين العُرَني، حَدَّثَنَا أجْلَحُ بن عبد الله، عن الشَّعْبي، عن جابر، قال: لما قَدِمَ رسولُ الله مِن خَيْبَرَ قدم جعفرٌ من الحبشةِ تلقّاهُ رسولُ الله ﷺ فقبَّل جَبْهتَه، ثم قال:"واللهِ ما أدري بأيِّهما أنا أفرَحُ: بفَتحِ خَيْبر، أم بِقُدُومِ جعفر؟" (1) أرسلَه إسماعيلُ بن أبي خالد وزكريا بن أبي زائدة:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال کیا، ان کے چہرے کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ فتح خیبر کی مجھے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی۔ "٭٭ اسی حدیث کو درج ذیل سند کے ہمراہ اسماعیل بن ابی خالد اور زکریا بن ابی زائدہ نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5005]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5006
فيما حدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن أبي خالد وزكريا، عن الشَّعْبي، قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ من خيبرَ، فذكرَ الحديثَ (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ، إنما ظَهَر بمثل هذا الإسنادِ الصحيح مرسلًا، وقد وصله أجْلَحُ بن عبد الله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4941 - مرسلا
جس کے بارے میں ہمیں علی بن عیسیٰ الحیری نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابراہیم بن ابی طالب نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابن ابی عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سفیان نے ابن ابی خالد اور زکریا کے واسطے سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے تشریف لائے... پھر (راوی نے پوری) حدیث ذکر کی۔ یہ حدیث صحیح ہے، لیکن اس جیسی صحیح سند کے ساتھ یہ مرسل (تابعی سے براہِ راست مروی) ظاہر ہوئی ہے، اور اسے اجلح بن عبداللہ نے (صحابی کے ذکر کے ساتھ) موصولاً بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5006]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5007
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا هلال بن العلاء الرَّقّي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رجاء، حَدَّثَنَا المَسعُوديُّ، عن عَدِيّ بن ثابت، عن أبي بُردةَ، عن أبي موسى، قال: لقيَ عمرُ أسماءَ بنتَ عُمَيسٍ، فقال: أنتم نِعْمَ القومُ، لولا أنكم سُبِقتُم بالهجرة، فنحن أفضلُ منكم، [فقالت] (1) : كنتم (2) مع رسولِ الله ﷺ يَحمِلُ راجِلَكُم، ويُعلّم جاهِلَكم، ففررنا بدِينِنا! فقالت: لستُ براجعةٍ حتَّى أدخُلَ على رسول الله ﷺ، فدخلَتْ عليه، فقالت: يا رسولَ الله، إني لقيتُ عُمرَ، فقال: كذا وكذا، فقال:"بلى، لكم هِجْرتانِ: هِجْرتُكم إلى الحَبَشة، وهِجْرتُكم إلى المدينة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4942 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملے، اور کہا: تم بہت اچھے لوگ ہو، اگر تم نے ہجرت ہم سے پہلے نہ کی ہوتی تو ہم لوگ تم سے بہتر ہوتے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہوتے تھے، تمہارے پیدل لوگوں کو سواری پر بٹھاتے اور ان پڑھوں کو تعلیم دیتے تھے، اس طرح ہم نے اپنے دین کو مضبوط کر لیا۔ انہوں نے جواباً فرمایا: میں اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے بغیر واپس نہیں لوٹوں گی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات اور ان سے گفتگو کی مکمل تفصیل کہہ سنائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں، تم نے دو ہجرتیں کی ہیں ایک ہجرت حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5007]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں