🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

536. إِيذَاءُ الْكُفَّارِ آلَ يَاسِرَ
کفار کی طرف سے آلِ یاسر کو دی جانے والی اذیتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5745
سمعتُ أبا بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ يقول: سمعتُ أبا مُسلم إبراهيم بن عبد الله يقول: سمعتُ مصعبَ بن عبد الله الزُّبَيري يقول: عَمّار بن ياسر بن عامر بن مالك بن كِنانةَ بن قَيس بن الحُصَين بن الوَذِيم (1) بن ثَعلبةَ بن عَوف (2) بن حارثة بن مالك بن عَنْس (3) بن زيد (4) .
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا نسب یوں بیان کیا ہے عمار بن یاسر بن عامر بن مالک بن کنانہ بن قیس بن حصین بن وذیم بن ثعلبہ بن عمرو بن حارثہ بن مالک بن عنس بن زید ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5745]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5746
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: كان عمّار بن ياسر وأبوه وأمُّه أهلَ بيتِ إسلامٍ، وكان بنو مَخزُوم يُعذِّبُونهم، فقال رسول الله ﷺ:"صبرًا يا آلَ ياسر، فإنَّ مَوعِدَكم الجنةُ". قال: وكان اسمُ أمِّ عمارِ بن ياسر سُمَيَّةَ بنتَ سَلْم بن لَخْمٍ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5646 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن اسحاق کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے والدین اسلام کے گھر والے تھے اور بنو مخزوم ان کو تکالیف پہنچایا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو (صبر کی تلقین کرتے ہوئے) فرمایا: اے آل یاسر صبر اختیار کرو، کیونکہ تم سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام سمیہ بنت مسلم بن لخم تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5746]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5747
أخبرني أحمد بن علي المُقرئ، حدثنا أبو عيسى محمد بن عيسى التِّرمِذي، حدثنا سُرَيج بن يونس، حدثنا أبو معاوية، عن محمد بن إسحاق، عن أبي جَعفر محمد بن عليّ، قال: قال عليٌّ لعَمّار بن ياسر: يا أبا اليَقْظانِ (2) .
ابوجعفر محمد بن علی (یعنی امام محمد الباقر) فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ابویقظان کہہ کر پکارا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5747]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5748
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن زياد بن جِيْلٍ، عن أبي كَعْب الحارثي: أنه دَخَلَ على عثمانَ، فجاء رجلٌ طُوَالٌ أصلعُ في مُقدَّم رأسِه شَعَراتٌ، فقلتُ: من هذا؟ فقالوا: عمارُ بنُ ياسر (3) .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ ایک طویل القامت شخص وہاں پر آیا، ان کے ماتھے کے سامنے کے بال جھڑے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5748]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5749
حدثني علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن مَرْزُوق، أخبرنا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن سَلِمةَ، قال: رأيتُ عمارَ بنَ ياسرٍ يومَ صِفِّينَ آدمَ طُوالًا، بيده الحَرْبةُ (1) .
سیدنا عبداللہ بن سلمہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ صفین میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ دراز قد تھے، آپ کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5749]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5750
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا الحارث بن مُرّة، عن كُلَيب بن مَنْفَعة، عن أبيه، قال: رأيتُ عمار بن ياسر بالكُنَاسةِ أسودَ جَعْدًا، وهو يقرأُ هذه الآيةَ: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ﴾ [الروم: 20] (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5650 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
کلیب بن منفعہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو (کوفہ کے ایک بازار) کناسہ میں دیکھا، آپ سیاہ رنگ کے گھنگریالے بالوں والے تھے، وہ اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے۔ وَمِنْ آیَاتِہ اَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَا اَنْتُمْ بَشَرٌ تُنْتَشِرُوْنَ (الروم: 20) اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر جبھی تم انسان ہو دنیا میں پھیلے ہوئے [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5750]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5751
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسِطيّ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن عمرو بن مُرّة، قال: سمعتُ عبدَ الله بن سَلِمَة يقول: رأيتُ عمارَ بنَ ياسر يومَ صِفِّينَ شيخًا طُوَالًا آخذَ الحَرْبةِ بيدِه ويدُه تُرعَدُ، فقال: والذي نفسِي بيدِه، لقد قاتلْتُ بهذِه مع رسول الله ﷺ ثلاثَ مراتٍ، وهذه الرابعةُ، ثم قال: والذي نفسِي بيدِه، لو ضَرَبُونا حتى يَبلغُوا بنا سَعَفاتِ هَجَرَ لعَرفتُ أنا على الحقّ، وهم على الباطل (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن سلمہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگ صفین میں دیکھا ہے، آپ دراز قد تھے، ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا لیکن ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے اسی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تین جنگیں لڑی ہیں اور یہ چوتھی ہے، پھر انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر وہ ہمیں اتنا ماریں کہ ہمیں مقام ہجر کے کھجوروں کی شاخوں میں لٹکا دیں تب (بھی) میں سمجھوں گا کہ میں حق پر ہوں اور وہ لوگ باطل پر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5751]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں