المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. حِكَايَةُ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ حِينَ أَصَابَتْهُ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ
آبی اللحم کے مولیٰ (غلام) کا قصہ جب وہ شدید قحط میں مبتلا ہوئے
حدیث نمبر: 7363
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"إذا أتيتَ على راعٍ فنادِه ثلاثَ مرَّات، فإنْ أجابكَ وإلَّا فاشرَبْ من غير أن تُفسِدَ، وإذا أتيتَ على حائطِ بُستانٍ فنادِ صاحبَ البستانِ ثلاثَ مرَّات، فإنْ أجابكَ وإلَّا فكُلْ من غير أن تُفسِدَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7180 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7180 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی کنویں پر آؤ تو اس کے مالک کو تین آوازیں ضرور دو، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں سے پی سکتے ہو، لیکن اس کا بقیہ پانی خراب نہ ہونے دینا۔ اور جب تم کسی باغ میں جاؤ، باغ کے مالک کو تین مرتبہ آواز دو، اگر وہ تمہیں جواب دے دے تو ٹھیک ہے، ورنہ تم (اجازت کے بغیر) کھا سکتے ہو، لیکن کچھ بھی خراب نہ کیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7363]
حدیث نمبر: 7364
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه إسحاق بن الحارث، عن عمِّه إسحاق بن عبد الله [و] عن (2) أبي بكر بن زيد (3) ، عن عُميرٍ مولى آبي اللحم - وكان عميرٌ مولًى لبني غِفار - قال: أقبلتُ مع ساداتي نريدُ الهجرةَ حتى [إذا] دَنَوْنا من المدينة تركوني في ظهورِهم ودخلوا المدينةَ، فأصابتني مَجَاعةٌ شديدة، فقال لي بعضُ من مرَّ بي من أهل المدينة: لو دخلتَ بعضَ حوائطِ المدينة فأصبتَ من ثمرِها، فدخلتُ حائطًا، فأتيتُ نخلةً فقطعتُ منها قِنوَينِ (4) ، فإذا صاحبُ الحائطِ، فخرج بي حتى أتى رسولَ الله ﷺ، فسألني عن أمرِي فأخبرتُه، فقال:"أيُّهما أفضلُ؟ فأشرتُ إلى أحدِهما، فأمرني بأخذِه، وأمر صاحبَ الحائطِ بأخذِ الآخرِ، وخلَّى سبيلي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7181 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7181 - صحيح
آبی اللحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بنی غفارہ کے غلام تھے، آپ فرماتے ہیں: ہم اپنے آقاؤں کے ہمراہ ہجرت کر کے آ رہے تھے، ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ چکے تھے، کہ ان لوگوں نے مجھے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور خود مدینہ شریف پہنچ گئے، مجھے بہت سخت بھوک لگ گئی، مدینہ کے کوئی لوگ میرے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے کہا: اگر تم مدینے کے کسی باغ میں چلے جاؤ تو تمہیں کھانے کے لئے کھجوریں مل سکتی ہیں۔ میں ایک باغ میں چلا گیا، ایک درخت پر چڑھا اور دو گچھے توڑ لئے، اچانک باغ کا مالک آ گیا، وہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کھجوریں توڑنے کی وجہ پوچھی تو میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں گچھوں میں سے اچھا کون سا ہے؟ میں نے ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ وہ گچھہ میں لے لوں، اور باغ کے مالک کو کہا کہ دوسرا تم لے لو، اور اس کا پیچھا چھوڑ دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7364]