🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. التَّوْبِيخُ لِمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلَمْ يُضَحِّ .
اس شخص کے لیے سخت وعید جس کے پاس مال ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7755
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا عُبيد الله (1) ابن موسى، عن إسرائيل، عن سماك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: ﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ﴾ [الأنعام: 121] ، قال يقولون: ما ذُبِحَ فذُكِرَ اسمُ الله عليه فلا تأكلوه، وما لم يُذكَرِ اسمُ الله عليه فكُلوه، فقال الله ﷿: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7564 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ الانعام کی آیت نمبر 121 وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو اس وقت تم مشرک ہو کے بارے میں فرمایا: وہ لوگ کہتے تھے کہ جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس کو مت کھایا کرو، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس کو کھا لیا کرو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ (الأنعام: 121) اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بے شک حکم عدولی ہے ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7755]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7756
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا عبد الله بن عيَّاش، حدثنا عبد الرحمن الأعرَج، عن أبي هريرة قال: قال النبيُّ ﷺ:"مَن كان له مالٌ فلم يُضحِّ، فلا يَقرَبَنَّ مُصلَّانا". وقال مرةً:"مَن وَجَدَ سَعَةً فلم يَذبَحْ، فلا يَقرَبنَّ مُصلَّانا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7565 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب مت آئے۔ اور ایک موقع پر فرمایا: جو وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7756]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7757
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الله بن عيَّاش، أنَّ عبد الرحمن الأعرج حدَّثه عن أبي هريرة قال: مَن وَجَدَ سَعَةً فلم يُضحِّ معنا، فلا يَقرَبنَّ مُصلَّانا (1) . أوقَفَه عبدُ الله بن وهب، إلَّا أنَّ الزيادة من الثقة مقبولةٌ، وأبو عبد الرحمن المُقرئ فوقَ الثقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص وسعت پاتا ہو، لیکن ہمارے ساتھ قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ ٭٭ عبداللہ بن وہب نے اس کو موقوف رکھا ہے، تاہم ثقہ کی زیادتی قبول ہوتی ہے۔ اور ابوعبدالرحمن مقری کا مرتبہ تو ثقہ سے بھی بلند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7757]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں