🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. النَّهْيُ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحَدِّ
حدودِ الٰہی میں سفارش کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8345
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفرايني، حدَّثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدَّثنا علي بن المديني، قال: كان رَبيبا رسولِ الله ﷺ سَلَمةَ بن أبي سَلَمة وعمر بن أبي سَلَمة، وإنما عاذتِ المخزوميةُ التي سرقت بأحدِهما. قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهْري عن عُرْوةَ عن عائشة: أنَّ المخزوميةَ إنما عاذَتْ بأسامةَ بن زيد (1) ، وهو الصحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8145 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن المدینی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب (لے پالک) سیدنا سلمہ بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ تھے، اور جس مخزومیہ نے پناہ مانگی تھی، اس نے ان میں سے کسی ایک (سلمہ یا ابوسلمہ) کی چوری کی تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زہری سے، انہوں نے سیدنا عروہ کے حوالے سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ مخزومیہ خاتون نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی پناہ چاہی تھی، اور یہی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8345]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8346
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدِّمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن محمد طلحة بن يزيد (2) ابن رُكانة، عن أمِّه عائشةَ بنت مسعود، عن أبيها مسعود قال: لما سرقَتْ تلك المرأةُ القطيفةَ من بيتِ رسول الله ﷺ، أعظَمنا ذلك، وكانت امرأةً من قريش، فجئنا رسول الله ﷺ فكلَّمناه، فقلنا: يا رسولَ الله، نحن نَفْدِيها بأربعينَ أُوقِيَّة، قال:"تُطهَّرُ خيرٌ لها"، فلمَّا سَمِعْنا من قولِ رسول الله ﷺ أتَينا أسامةَ بن زيد، فقلنا: اشفَعْ لنا إلى رسولِ الله ﷺ في شأنِ هذه المرأة، نحن نَفْدِيها بأربعينَ وُقيَّة، فلمَّا رأى رسولُ الله ﷺ جِدَّ الناسِ في ذلك قام خطيبًا، فقال:"يا أيها الناسُ، ما إكثارُكم في حدٍّ من حدودِ الله وَقَعَ على أَمَةٍ مِن إماءِ الله؟! والذي نفسُ محمدٍ بيده، لو كانت فاطمةُ بنتُ محمد نَزلَتْ بالذي نَزلَتْ به هذه المرأةُ لقَطَعَ محمدٌ يدَها". قال: فأيسَ الناسُ، وقَطَع رسولُ الله ﷺ يدَها. قال محمد بن إسحاق: فحدَّثني عبد الله بن أبي بكر: أنَّ رسول الله ﷺ بعد ذلك كان يَرحَمُها ويَصِلُها (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے مخملی چادر چوری کی تو ہم نے اس معاملہ کو بہت سنگین جانا، وہ عورت قریشی تھی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس عورت کی طرف سے 40 اوقیہ ہرجانہ پیش کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو سزا ہونے دو، یہی اس کے حق میں بہتر ہے، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس عورت کے سلسلے میں ہماری سفارش فرما دیں، اس کی جانب سے ہم 40 اوقیہ فدیہ پیش کر دیتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں صحابہ کرام کی گرمجوشیاں دیکھیں تو آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی ایک بندی پر لگنے والی حد کو روکنے کی بہت کوشش کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد سے بھی اس عورت جیسا عمل سرزد ہوتا تو محمد اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا، راوی فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گفتگو کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امیدیں ٹوٹ گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ ٭٭ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابی بکر نے بتایا ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بہت خیال رکھا کرتے تھے اور اس کے ساتھ بہت حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8346]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8347
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي ومحمد بن أحمد بن أنس القُرشي، قالا: حدَّثنا أبو عاصم الضَّحَّاك بن مَخْلَد الشَّيباني، حدَّثنا زكريا بن إسحاق، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس: أنَّ صفوان بن أُمية أتى النبيَّ ﷺ برجلٍ قد سَرَقَ حُلَّةً له، ثم قال: يا رسول الله، هَبْهُ لي، فقال رسول الله ﷺ:"فهَلَّا قبل أن تأتيَنا به" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والحديث المُفسَّر فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8148 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک ایسے آدمی کو لائے جس نے ان کا جبہ چوری کر لیا تھا، پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ میری طرف سے اس کو ہبہ کر دیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہی کام اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں کر لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس موضوع پر تفصیلی حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8347]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8348
ما أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدَّثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدَّثنا عمرو (1) بن طلحة القَنَّاد، حدَّثنا أسباطُ بن نصر الهَمْداني، عن سِمَاك بن حَرْب، عن حُمَيدٍ ابن أخت صفوان، عن صفوان بن أُميّة، قال: كنت نائمًا في المسجد وعليَّ خَمِيصةٌ لي ثمنُ ثلاثين درهمًا، فجاء رجلٌ فاختَلَسَها مني، فأُخِذَ الرجلُ فجِيءَ به إلى النبيِّ ﷺ، فأمرَ به أن يُقطَعَ، فأتيتُه فقلت: أتقطَعُه من أجل ثلاثين درهمًا؟! أنا أبيعُه وأنسِئُه ثمنَها، قال:"فهلا كان هذا قبلَ أن تأتيَني به" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8149 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھ رکھی تھی، اس کی قیمت 30 درہم تھی، ایک آدمی آیا اور اس نے مجھ سے وہ چادر چھین لی، وہ آدمی پکڑا گیا، اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا، (یہ حکم سن کر) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا صرف 30 درہموں کے بدلے میں اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے؟ (مجھے یہ گوارا نہیں ہے) میں یہ چادر اس کو بیچتا ہوں اور اس کے ثمن اس کو معاف کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی کام تم نے اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8348]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں