🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
جب میری امت میں تلوار رکھ دی گئی تو وہ قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8595
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سنان القزاز، حدثنا إسحاق بن إدريس، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، حدثنا أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي، حدثني أبو أسماء الرَّحَبي، أن ثوبان حدثه، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ رَبِّي زَوَى لي الأرضَ حتى رأيتُ مشارقها ومغاربها، وأعطاني الكنزين: الأحمر والأبيضَ، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زُوِيَ لي منها. وإني سألت ربي لأمتي أن لا يُهلِكَها بسَنَةٍ عامة (1) فأعطانيها، وسألته أن لا يُسلّط عليهم عدوًّا من غيرهم فأعطانيها، وسألته أن لا يُذِيقَ بعضهم بأسَ بعض فَمَنَعَنِيها، وقال لي ربي: يا محمد، إني إذا قضيتُ قضاءً لم يُرَدَّ، إني أعطيتُك لأمَّتِك أن لا أُهلِكَها بسَنَةٍ عامة، ولا أُظْهِرَ عليهم عدُوًّا من غيرهم فيستبيحهم بعامَّةٍ ولو اجْتَمَعَ مَن بأقطارها، حتى يكون بعضهم هو يُهلك بعضًا، وبعضُهم هو يسبي بعضًا. وإني لا أخافُ على أمتي إلَّا الأئمة المضلين. ولن تقوم الساعة حتى تَلحَقَ قبائل من أمتي بالمشركين، وحتى تَعبُدَ قبائل من أمتي الأوثان. وإذا وُضِعَ السيفُ في أمتي لم يُرفع عنها إلى يوم القيامة". وأنه قال:"كل ما يوجد في مئة سنة (1) . وسيخرج في أمتي كذَّابون ثلاثون كلُّهم يَزْعُمُ أَنه نبيٌّ، وأنا خاتَمُ الأنبياء لا نبي بعدي. ولن يزال في أمتي طائفة يقاتلون على الحقِّ ظاهرين، لا يضرهم من خَذَلَهم، حتى يأتي أمر الله". قال: وزعم أنه [قال] :"لا يَنزِعُ رجلٌ من أهل الجنة من ثمرِها شيئًا إِلَّا أَخلَفَ اللهُ مكانها مثلها". وأنه قال:"ليس دينارٌ يُنفِقُه رجلٌ بأعظم أجرًا من دينارٍ يُنفِقُه على عياله، ثم دينارٍ يُنفِقُه على فرسه في سبيل الله، ثم دينارٍ يُنفِقُه على أصحابه في سبيل الله". قال: وزعم: أنَّ نبي الله ﷺ عظَمَ شأن المسألة. و"أنه إذا كان يوم القيامة جاء أهل الجاهلية يحملون أوثانهم على ظهورهم، فيسألهم ربهم: ما كنتم تعبدون؟ فيقولون: ربَّنا لم تُرسل إلينا رسولًا، ولم يأتِنا آمِرٌ، ولو أرسلت إلينا رسولًا لكنا أطوع عبادك لك، فيقول لهم ربهم: أرأيتم إن أمرتكم بأمر، أتطيعوني؟ قال: فيقولون: نعم، قال: فيأخذُ مَواثِيقَهم على ذلك، فيأمرهم أن يعمدوا لجهنَّم فيدخلوها، قال: فينطلقون، حتى إذا جاؤوها رأَوْا لها تغيُّظًا وزفيرًا فهابُوا، فرجعوا إلى ربهم فقالوا: ربَّنا فَرِقْنا منها، فيقول: ألم تُعطوني مواثيقكم لتطيعوني؟ اعمدوا لها، فينطلقون، حتى إذا رأوها فَرِقُوا فرجعوا، فقالوا: ربَّنا لا نستطيع أن ندخلها، قال: فيقول: ادخُلوها داخِرينَ"، قال: فقال نبي الله ﷺ:"لو دخلوها أول مرة، كانت عليهم بردًا وسلامًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السياقة، إنما أخرج مسلم (1) حديث معاذ بن هشام عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرَّحَبي عن ثوبان مختصرًا. [وأما حديث عِمران بن حُصَين] :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8390 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک میرے رب نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھ لیا، اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے: سرخ (سونا) اور سفید (چاندی)، اور یقیناً میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین کو میرے لیے سمیٹا گیا ہے، اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اسے عام قحط «بِسَنَةٍ عامَّةٍ» کے ذریعے ہلاک نہ کرے تو اللہ نے یہ دعا قبول فرما لی، اور میں نے سوال کیا کہ ان پر ان کے علاوہ (غیر مسلم) دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کی بیخ کنی کر دے تو اللہ نے یہ بھی عطا فرما دیا، اور میں نے سوال کیا کہ وہ انہیں آپس میں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ نہ چکھائے تو اللہ نے مجھے اس سے روک دیا، اور میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر دیتا ہوں تو اسے بدلا نہیں جا سکتا، میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ (عہد) دے دیا ہے کہ میں انہیں عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر ان کے علاوہ کسی ایسے دشمن کو مسلط کروں گا جو ان سب کو تباہ و برباد کر دے اگرچہ زمین کے تمام اطراف سے دشمن ان کے خلاف اکٹھے ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ (پیشواؤں) کے سوا کسی کا ڈر نہیں، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہ جا ملیں اور بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں، اور جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ بھی (ہونا) ہے وہ سو سال کے اندر ہے، اور میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے دعویدار) نکلیں گے جن میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور وہ (مخالفین پر) غالب رہیں گے، انہیں چھوڑ کر الگ ہو جانے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اہل جنت کا کوئی شخص جنت کے پھلوں میں سے کوئی چیز نہیں توڑے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ویسا ہی دوسرا پھل پیدا فرما دے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے خرچ کیے ہوئے دیناروں میں سب سے عظیم اجر والا وہ دینار ہے جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ دینار جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرے، پھر وہ دینار جو اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے (سوال کرنے) کے معاملے کو نہایت سنگین قرار دیا۔ نیز فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو دورِ جاہلیت کے لوگ اپنے بتوں کو اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے، ان کا رب ان سے پوچھے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی حکم دینے والا آیا، اگر تو ہماری طرف کوئی رسول بھیجتا تو ہم تیرے سب سے زیادہ فرمانبردار بندے ہوتے، تب ان کا رب ان سے فرمائے گا: اگر میں تمہیں کوئی حکم دوں تو کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، تو اللہ اس پر ان سے پختہ عہد لے گا، پھر انہیں حکم دے گا کہ وہ جہنم کا رخ کریں اور اس میں داخل ہو جائیں، پس وہ روانہ ہوں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا دیکھ کر ڈر جائیں گے اور اپنے رب کی طرف واپس آ کر کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اس سے ڈر گئے ہیں، اللہ فرمائے گا: کیا تم نے مجھ سے میری اطاعت کا عہد نہیں کیا تھا؟ اس کا رخ کرو، وہ پھر جائیں گے اور اسے دیکھ کر ڈر جائیں گے اور واپس آ کر کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اس میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتے، اللہ فرمائے گا: تم اس میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہو جاؤ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ پہلی بار ہی اس میں داخل ہو جاتے تو وہ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جاتی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام مسلم نے معاذ بن ہشام کی قتادہ سے روایت کردہ حدیث کو ابوقلابہ کے واسطے سے سیدنا ثوبان سے مختصر روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8595]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف من أجل إسحاق بن إدريس، فإنه متروك واتهمه ابن معين بالكذب. والراوي عنه محمد بن سنان القزاز ليس بذاك القوي إلا أنه ليس بعلته، فقد توبع، تابعه يحيى بن محمد بن السكن» [ترقيم الرساله 8595] [ترقيم الشركة 8492] [ترقيم العلميه 8390]

الحكم على الحديث: إسناده تالف من أجل إسحاق بن إدريس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8596
فحدثناه (2) أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل وحجاج بن منهال قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا قتادة، عن مطرف، عن عِمران بن حصين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تزالُ طائفةٌ من أمتي يقاتلون على الحقِّ، ظاهرين على من ناوَأَهم، حتى يقاتل آخرهم الدجال" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8391 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر قتال کرتا رہے گا، وہ اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8596]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8596] [ترقيم الشركة 8493] [ترقيم العلميه 8391]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں