🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
جب میری امت میں تلوار رکھ دی گئی تو وہ قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8594
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابن بُريدة، عن سليمان (2) بن الربيع، عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله:"لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد رواه ثَوْبانُ وعِمران بن حصين عن رسول الله ﷺ. أما حديث ثوبان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8389 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو ثوبان اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8594]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8595
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سنان القزاز، حدثنا إسحاق بن إدريس، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، حدثنا أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي، حدثني أبو أسماء الرَّحَبي، أن ثوبان حدثه، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ رَبِّي زَوَى لي الأرضَ حتى رأيتُ مشارقها ومغاربها، وأعطاني الكنزين: الأحمر والأبيضَ، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زُوِيَ لي منها. وإني سألت ربي لأمتي أن لا يُهلِكَها بسَنَةٍ عامة (1) فأعطانيها، وسألته أن لا يُسلّط عليهم عدوًّا من غيرهم فأعطانيها، وسألته أن لا يُذِيقَ بعضهم بأسَ بعض فَمَنَعَنِيها، وقال لي ربي: يا محمد، إني إذا قضيتُ قضاءً لم يُرَدَّ، إني أعطيتُك لأمَّتِك أن لا أُهلِكَها بسَنَةٍ عامة، ولا أُظْهِرَ عليهم عدُوًّا من غيرهم فيستبيحهم بعامَّةٍ ولو اجْتَمَعَ مَن بأقطارها، حتى يكون بعضهم هو يُهلك بعضًا، وبعضُهم هو يسبي بعضًا. وإني لا أخافُ على أمتي إلَّا الأئمة المضلين. ولن تقوم الساعة حتى تَلحَقَ قبائل من أمتي بالمشركين، وحتى تَعبُدَ قبائل من أمتي الأوثان. وإذا وُضِعَ السيفُ في أمتي لم يُرفع عنها إلى يوم القيامة". وأنه قال:"كل ما يوجد في مئة سنة (1) . وسيخرج في أمتي كذَّابون ثلاثون كلُّهم يَزْعُمُ أَنه نبيٌّ، وأنا خاتَمُ الأنبياء لا نبي بعدي. ولن يزال في أمتي طائفة يقاتلون على الحقِّ ظاهرين، لا يضرهم من خَذَلَهم، حتى يأتي أمر الله". قال: وزعم أنه [قال] :"لا يَنزِعُ رجلٌ من أهل الجنة من ثمرِها شيئًا إِلَّا أَخلَفَ اللهُ مكانها مثلها". وأنه قال:"ليس دينارٌ يُنفِقُه رجلٌ بأعظم أجرًا من دينارٍ يُنفِقُه على عياله، ثم دينارٍ يُنفِقُه على فرسه في سبيل الله، ثم دينارٍ يُنفِقُه على أصحابه في سبيل الله". قال: وزعم: أنَّ نبي الله ﷺ عظَمَ شأن المسألة. و"أنه إذا كان يوم القيامة جاء أهل الجاهلية يحملون أوثانهم على ظهورهم، فيسألهم ربهم: ما كنتم تعبدون؟ فيقولون: ربَّنا لم تُرسل إلينا رسولًا، ولم يأتِنا آمِرٌ، ولو أرسلت إلينا رسولًا لكنا أطوع عبادك لك، فيقول لهم ربهم: أرأيتم إن أمرتكم بأمر، أتطيعوني؟ قال: فيقولون: نعم، قال: فيأخذُ مَواثِيقَهم على ذلك، فيأمرهم أن يعمدوا لجهنَّم فيدخلوها، قال: فينطلقون، حتى إذا جاؤوها رأَوْا لها تغيُّظًا وزفيرًا فهابُوا، فرجعوا إلى ربهم فقالوا: ربَّنا فَرِقْنا منها، فيقول: ألم تُعطوني مواثيقكم لتطيعوني؟ اعمدوا لها، فينطلقون، حتى إذا رأوها فَرِقُوا فرجعوا، فقالوا: ربَّنا لا نستطيع أن ندخلها، قال: فيقول: ادخُلوها داخِرينَ"، قال: فقال نبي الله ﷺ:"لو دخلوها أول مرة، كانت عليهم بردًا وسلامًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السياقة، إنما أخرج مسلم (1) حديث معاذ بن هشام عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرَّحَبي عن ثوبان مختصرًا. [وأما حديث عِمران بن حُصَين] :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8390 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے اللہ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا، میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو بہم دیکھا، اللہ تعالیٰ نے سرخ اور سفید دو خزانے عطا فرمائے ہیں، اور جہاں جہاں تک میرے لئے زمین سمیٹی گئی، وہاں وہاں تک میری امت کی حکومت پہنچے گی، میں نے اپنے رب سے دعا مانگی میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے میری اس دعا کو قبول کر لیا گیا، میں نے دعا مانگی میری امت پر ان کا دشمن غالب نہ آئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی عطا فرما دیا، میں نے دعا مانگی یہ ایک دوسرے کو قتل نہ کریں مجھے اس سے منع فرما دیا گیا، اور فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں پھر اس کو لوٹایا نہیں جا سکتا، میں نے آپ کو یہ دے دیا کہ میں قحط کے ساتھ آپ کی امت کو ہلاک نہیں کروں گا، اور یہ بھی دے دیا کہ ان کے دشمن کو ان پر غالب نہیں ہونے دوں گا، تاکہ وہ ان کا قتل عام نہ کرے، اور اگر ساری دنیا کے لوگ جمع ہو جائیں اور سب ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگ جائیں، اور ایک دوسرے کو گرفتار کرنے لگ جائیں، اور مجھے اپنی امت پر یہ فکر ہے کہ ان کو گمراہ حکمران ملیں گے، اور قیامت قائم ہونے سے پہلے میری امت کے کچھ قبیلے مشرکوں سے جا ملیں گے، اور میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پوجا کریں گے، اور میری امت جب تلوار رکھ دے گی تو قیامت تک ان سے تلوار اٹھائی نہیں جائے گی، اور آپ نے آنے والے سو سال تک کی تمام باتیں بیان کر دیں۔ پھر فرمایا: میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے، سب خود کو نبی سمجھیں گے، حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ لیکن میری امت میں مسلسل ایک گروہ رہے گا جو کہ حق پر جہاد کرے گا اور غالب رہے گا، ان کو برا بھلا کہنے والا ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے، اور فرمایا: کوئی جنتی شخص جنت سے کوئی پھل کھائے گا تو اللہ تعالیٰ اسی جیسا پھل وہاں پر دوبارہ اگا دے گا۔ اور فرمایا: بندے کو اپنے عیال پر خرچ کرنے کا ثواب ہر صدقے سے زیادہ ملے گا، پھر وہ دینار جو جہاد کے لئے پالے گئے گھوڑے پر خرچ کیا، پھر وہ دینار جو مجاہدین پر خرچ کیا گیا، آپ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ کو بہت عظیم جانا، اور قیامت کے دن بتوں کے پجاری اپنے بتوں کو اپنی پشت پر لاد کر لائیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تم ان کی عبادت کیوں کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری جانب کوئی رسول بھیجا ہی نہیں، اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی امر آیا۔ اور تو ہماری جانب کوئی رسول بھیجتا تو ہم سب سے بڑے تیرے عبادت گزار ہوتے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تمہیں حکم دیتا تو تم میری بات مان لیتے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر ان سے پکا وعدہ لے گا، پھر ان کو دوزخ میں جانے کا حکم ہو گا، وہ دوزخ کی جانب چل پڑیں گے، جب وہ دوزخ کے قریب آئیں گے اور اس میں بھڑکتا ہوا عذاب دیکھیں گے تو واپس آ جائیں گے اور کہیں گے: یا اللہ! اس میں داخل ہونے کی ہم میں ہمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم اس میں ذلیل و رسوا ہو کر داخل ہو جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ لوگ پہلی مرتبہ ہی داخل ہو جاتے تو وہ آگ ان پر سلامتی والی ہو جاتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم نے معاذ بن ہشام کی مختصر روایت نقل کی ہے جو کہ معاذ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے اسماء الرحبی سے اور انہوں نے سیدنا ثوبان سے روایت کی ہے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8595]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں