🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى فِيهِ مُؤْمِنٌ إِلَّا لَحِقَ بِالشَّامِ
لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جب ہر مومن (پناہ کے لیے) ملکِ شام پہنچ جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8618
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج، عن ابن حُجَيرة، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"سيأتي على أمتي الزمانُ يَكثُر القراء ويقل الفقهاء، ويُقبَض العِلمُ، ويَكثُر الهَرْجُ" قالوا: وما الهرجُ يا رسول الله؟ قال:"القتل بينكم. ثم يأتي بعد ذلك زمانٌ يَقرأُ القرآنَ رجال لا يجاوز تَراقِيَهم، ثم يأتي بعد ذلك زمانٌ يجادل المنافق الكافر المشرك بالله المؤمنَ بمِثْل ما يقول" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8412 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ قرآن کے قاریوں کی بہتات ہو گی، لیکن فقہاء بہت کم ہوں گے، علم اٹھا لیا جائے گا، ہرج بڑھ جائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان قتل و غارت گری ہو گی، پھر اس کے بعد ایک زمانہ آئے گا، لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر اس کے بعد ایک زمانہ آئے گا، منافق، کافر اور مشرک لوگ مومن سے بحث کریں گے، اور خود کو مومن باور کرائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8618]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8619
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن الأعمش، عن خَيْثَمة، عن عبد الله بن عمرو قال: يأتي على الناس زمانٌ لا يبقى فيه مؤمن إلَّا لَحِقَ بالشام (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8413 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جو بھی مومن ہو گا وہ شام میں چلا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8619]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں