🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ
باب: خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَى الصَّفِيَّ إِنْ شَاءَ عَبْدًا وَإِنْ شَاءَ أَمَةً وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ تھا، جس کو «صفي» کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2991]
عامر شعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غنیمت میں ایک خاص حصہ ہوا کرتا تھا جسے «صَفِيٌّ» کہا جاتا تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہتے تو غلام لے لیتے یا لونڈی یا گھوڑا (اور یہ) خمس نکالنے سے پہلے لے سکتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الفيء 1 (4150)، (تحفة الأشراف: 18868) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (عامر تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4150)
السند صحيح إلي الشعبي لكنه مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَزْهَرُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ، قَالَ:" كَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ".
ابن عون کہتے ہیں میں نے محمد (محمد ابن سیرین) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور «صفي» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ لگایا جاتا تھا اگرچہ آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے اور سب سے پہلے خمس میں سے ۱؎ صفی آپ کے لیے لیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2992]
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور «صَفِيّ» کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواہ کسی جہاد میں شریک نہ بھی ہوتے آپ کا حصہ نکالا جاتا تھا اور خمس میں سے سب سے پہلے آپ کے لیے کوئی خاص چیز نکال لی جاتی تھی اور اسے «صَفِيّ» کہا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19295) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (یہ بھی مرسل ہے، محمد بن سیر ین تابعی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «صفي» خمس میں سے ہوتا تھا اور اس سے پہلے شعبی والی روایت دلالت کرتی ہے کہ «صفي» خمس سے پہلے پورے مال غنیمت میں سے ہوتا تھا دونوں میں تطبیق کے لئے تاویل یہ کی جاتی ہے کہ «قبل الخمس» سے مراد «قبل أن يقسم الخمس» ہے یعنی صفی خمس میں سے ہوتا تھا لیکن خمس کی تقسیم سے پہلے اسے نکالا جاتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،محمد بن سير ين من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2993
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَهُ فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ، وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يُخَيَّرْ.
قتادہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے، ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا (جو جنگ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں) اسی حصے میں سے آئیں اور جب آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لگایا جاتا اور اس میں آپ کو انتخاب کا اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کر لے لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2993]
جناب قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) اسی حصے میں سے تھیں، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک نہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھا جاتا تھا، مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتخب نہ کرایا جاتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19214) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (قتادہ تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت بھی مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وھو من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2994
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صفیہ رضی اللہ عنہا «صفي» میں سے تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2994]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ «صَفِيّ» میں آئی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16918) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2995
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سُدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم خیبر آئے (یعنی غزوہ کے موقع پر) تو جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے حسن و جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر مارا گیا تھا، وہ دلہن تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم سد صہباء ۱؎ پہنچے، وہاں وہ حلال ہوئیں (یعنی حیض سے فارغ ہوئیں اور ان کی عدت پوری ہو گئی) تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شب زفاف منائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2995]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہوا، ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا جبکہ وہ ابھی دلہن تھیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ان کے صدمے کے ازالے اور معاشرے میں اونچا مقام دینے کے لیے) اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب ہم «سَدُّ الصَّهْبَاء» کے مقام پر پہنچے تو وہ حلال (حیض سے پاک) ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شب زفاف گزاری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 111 (2235)، الجہاد 74 (2893)، المغازی 39 (4211)، الأطعمة 28 (5425)، الدعوات 36 (6363)، وانظر حدیث رقم (2054)، (تحفة الأشراف: 1117) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خیبر میں ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2235)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا پہلے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2996]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پہلے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے چنا تھا، مگر بعد میں (ان کے پورے حالات گوش گزار کیے جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آ گئیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ النکاح 42 (1957)، (تحفة الأشراف: 1018)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/280) وانظر حدیث رقم (2054) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ دحیہ رضی اللہ عنہ کو دوسری لونڈی دے دی، اور ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لئے منتخب کر لیا، صفیہ قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی تھیں، اس لئے ان کا ایک عام صحابی کے پاس رہنا مناسب نہ تھا، کیونکہ اس سے دوسروں کو رشک ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (1957 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ،فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سات غلام دے کر خرید لیا اور انہیں ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا کہ انہیں بنا سنوار دیں۔ حماد کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا کہ وہ وہاں عدت گزار کر پاک و صاف ہو لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2997]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بہت ہی خوبصورت لونڈی آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سات غلام دے کر خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کیا تاکہ اسے بنائیں سنواریں اور بطور دلہن تیار کریں۔ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت پوری کر لے اور یہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (2054) (تحفة الأشراف: 377، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م لكن قوله وأحسبه فيه نظر لأنه بنى بها في سد الصهباء
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ. ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جُمِعَ السَّبْيُ يَعْنِي بِخَيْبَرَ فَجَاءَ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، قَالَ:" اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ، قَالَ يَعْقُوبُ: صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: ادْعُوهُ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا"، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر میں سب قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قیدیوں میں سے مجھے ایک لونڈی عنایت فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو، دحیہ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا، تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! آپ نے (صفیہ بنت حیی کو) دحیہ کو دے دیا، صفیہ بنت حیی قریظہ اور نضیر (کے یہودیوں) کی سیدہ (شہزادی) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دحیہ کو صفیہ سمیت بلا لاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم کوئی اور لونڈی لے لو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور ان سے نکاح کر لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2998]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر میں قیدیوں کو جمع کیا گیا، تو سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ایک لونڈی لے لو۔ تو انہوں نے صفیہ بنت حیی کو چن لیا۔ پھر ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے صفیہ بنت حیی کو سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا ہے۔ وہ قریظہ اور نضیر (یہودی قبیلوں) کی سردار ہے (سردار کی بیٹی ہے) یہ صرف آپ ہی کے زیبا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دحیہ کو بلاؤ۔ اسے لے کر آئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو دیکھا تو دحیہ سے فرمایا: قیدیوں میں سے اس کے علاوہ کوئی اور لونڈی لے لو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا اور پھر اس سے نکاح کر لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الصلاة 12 (371)، صحیح مسلم/ النکاح 14 (1365)، سنن النسائی/ النکاح 64 (3342)، (تحفة الأشراف: 990، 1059)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/101، 186) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2893) صحيح مسلم (1365 بعد ح1427)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ فَجَاءَ رَجُل أَشْعَثُ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَقُلْنَا: كَأَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: أَجَلْ قُلْنَا: نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الأَدِيمَ الَّتِي فِي يَدِكَ، فَنَاوَلَنَاهَا فَقَرَأْنَاهَا فَإِذَا فِيهَا مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ:" إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَأَدَّيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفِيَّ أَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ"، فَقُلْنَا مَنْ كَتَبَ لَكَ هَذَا الْكِتَابَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں ہم مربد (ایک گاؤں کا نام ہے) میں تھے اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے کہا: تم گویا کہ صحراء کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ہم نے کہا: چمڑے کا یہ ٹکڑا جو تمہارے ہاتھ میں ہے تم ہمیں دے دو، اس نے اس کو ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زہیر بن اقیش کے لیے ہے (انہیں معلوم ہو کہ) اگر تم اس بات کی گواہی دینے لگ جاؤ گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے لگو گے اور مال غنیمت میں سے (خمس جو اللہ و رسول کا حق ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ «صفی» کو ادا کرو گے تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہو گی، تو ہم نے پوچھا: یہ تحریر تمہیں کس نے لکھ کر دی ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2999]
جناب یزید بن عبداللہ رحمہ اللہ (عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم (بصرہ کے محلہ) مربد میں تھے کہ ایک شخص آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا لیے ہوئے تھا، ہم نے کہا: تم گویا دیہات کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ ہم نے کہا: یہ تیرے ہاتھ میں چمڑے کا ٹکڑا کیسا ہے، ذرا ہمیں دکھاؤ؟ وہ اس نے ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے۔ تم لوگ اگر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» کی شہادت دو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ خاص «الصَّفِيُّ» ادا کرو، تو اللہ اور اس کے رسول کی امان سے امن میں ہو۔ ہم نے پوچھا: تمہیں یہ تحریر کس نے دی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15683)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/77، 78، 363) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الصحابي اسمه النمر بن تولب الشاعر

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں