🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَتَطَيَّبُ لِلْخُرُوجِ
باب: عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4173
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَةُ فَمَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: قَوْلًا شَدِيدًا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے (ایسی عورت کے متعلق) بڑی سخت بات کہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4173]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت خوشبو لگا کر کسی قوم پر سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو پا لیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت بات فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 35 (2786)، سنن النسائی/الزینة 35 (5129)، (تحفة الأشراف: 9023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/400، 414، 418) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1065)
أخرجه الترمذي (2786 وسنده حسن) ورواه النسائي (5129 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الطِّيبِ يَنْفَحُ وَلِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ، فَقَالَ: يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لِامْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْإِعْصَارُ غُبَارٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4174]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت ملی، انہوں نے اس سے عطر کی خوشبو محسوس کی اور اس کی چادر کا پلو غبار بھی اڑاتا آ رہا تھا، انہوں نے اس سے کہا: اے جبار کی بندی! بھلا تو مسجد سے آئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو کیا اسی کے لیے تو نے خوشبو لگائی تھی؟ کہنے لگی: ہاں۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو عورت اس مسجد کے لیے خوشبو لگا کر آئے اس کی نماز قبول نہیں حتیٰ کہ واپس جائے اور اس اہتمام سے غسل کرے جیسے کہ وہ جنابت سے کرتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: «إِعْصَار» کا مفہوم ہے: «غُبَار» ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفتن 19 (4002)، (تحفة الأشراف: 14130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/246، 297، 365، 444، 461) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ ہوا جو مٹی و غبار کے ساتھ گولائی میں ستون کے مانند اوپر اٹھتی ہے، جسے بگولہ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1064)
عاصم بن عبيد الله تابعه عبد الرحمن بن الحارث بن أبي عبيد عند البيھقي (3/133، 134 وسنده حسن) وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4175
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدَنَّ مَعَنَا الْعِشَاءَ"، قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ: عِشَاءَ الْآخِرَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے (مسجد میں) نہ آئے (بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے)۔ ابن نفیل کی روایت میں «العشاء» کے بجائے «عشاء الآخرة» ہے (یعنی عشاء کی صلاۃ)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4175]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو کی دھونی لی ہو، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو۔ ابن نفیل نے «عِشَاءَ الْآخِرَةِ» کے لفظ روایت کیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 30 (444)، سنن النسائی/الزینة 37 (5131)، (تحفة الأشراف: 12207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/304) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (444)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں