🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء في المرأة تتطيب للخروج
باب: عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الطِّيبِ يَنْفَحُ وَلِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ، فَقَالَ: يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لِامْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْإِعْصَارُ غُبَارٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4174]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت ملی، انہوں نے اس سے عطر کی خوشبو محسوس کی اور اس کی چادر کا پلو غبار بھی اڑاتا آ رہا تھا، انہوں نے اس سے کہا: اے جبار کی بندی! بھلا تو مسجد سے آئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو کیا اسی کے لیے تو نے خوشبو لگائی تھی؟ کہنے لگی: ہاں۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو عورت اس مسجد کے لیے خوشبو لگا کر آئے اس کی نماز قبول نہیں حتیٰ کہ واپس جائے اور اس اہتمام سے غسل کرے جیسے کہ وہ جنابت سے کرتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: «إِعْصَار» کا مفہوم ہے: «غُبَار» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفتن 19 (4002)، (تحفة الأشراف: 14130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/246، 297، 365، 444، 461) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ ہوا جو مٹی و غبار کے ساتھ گولائی میں ستون کے مانند اوپر اٹھتی ہے، جسے بگولہ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1064)
عاصم بن عبيد الله تابعه عبد الرحمن بن الحارث بن أبي عبيد عند البيھقي (3/133، 134 وسنده حسن) وللحديث شواھد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبيد بن أبي عبيد الكوثي
Newعبيد بن أبي عبيد الكوثي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي
Newعاصم بن عبيد الله القرشي ← عبيد بن أبي عبيد الكوثي
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم بن عبيد الله القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4174
لا تقبل صلاة لامرأة تطيبت لهذا المسجد حتى ترجع فتغتسل غسلها من الجنابة
سنن ابن ماجه
4002
أيما امرأة تطيبت ثم خرجت إلى المسجد لم تقبل لها صلاة حتى تغتسل
مسندالحميدي
1001
أيما امرأة تطيبت، ثم خرجت تريد المسجد لم تقبل لها صلاة، ولا كذا، ولا كذا حتى ترجع فتغتسل غسلها من الجنابة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4174 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4174
فوائد ومسائل:
1) جہاں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو وہاں اجنبی عورت سے براہِ راست خطاب کر کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا حق ہے۔
بالخصوص بڑی عمر کے بزرگوں کے لیئے یہ عمل کو ئی عیب شمار نہیں ہوتا۔

2) عورتوں کو جائز نہیں کہ خوشبو لگا کر باہر نکلیں خواہ مسجد ہی جانا ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4174]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4002
عورتوں کا فتنہ۔
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4002]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عورت کو گھر سے نکلے وقت خوشبو استعمال کرنا منع ہے۔

(2)
عورت کے لیے نماز باجماعت کےلیے مسجد میں جانا جائز ہے بشرطیکہ زیب و زینت کر کے نہ نکلے بلکہ سادہ لباس میں پردے اور دیگر شرعی آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے جائے۔

(3)
بزرگ شخصیت کے لیے جائز ہے کہ اجنبی عورت کو غلطی پر تنبیہ کرے بشرطیکہ اس سے کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو جس سے نیک آدمی کی عزت کو خطرہ لاحق ہو جائے۔

(4)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اللہ کا خوف دلانے کے لیے اللہ کی بندی کی بجائے جبار کی بندی کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
اس میں ڈانٹ کا پہلو بھی شامل تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4002]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1001
1001-عاصم بن عبیداللہ عمری بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملا قات ایک خاتون سے ہوئی جو خوشبو میں بسی ہوئی تھی، تو انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کی کنیز! تم کہاں جارہی ہو؟ اس نے جوا ب دیا: مسجد۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: مسجد کے لیے تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اسے دھولو! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر پھر مسجد میں جانے کے ارادے سے نکلتی ہے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور یہ بھی نہیں ہوتا اور وہ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1001]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورت کو گھر سے سادگی کے ساتھ باہر نکلنا چاہیے، عورت گھر میں رہ کر خوشبو استعمال کر سکتی ہے، جب اس نے نماز کے لیے مسجد میں آنا ہو یا بازار جانا ہوتو خوشبو ہرگز استعمال نہ کرے، اگر خوشبو لگا کر مسجد میں جائے گی تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اسی طرح جب عورت خوشبو لگا کر بازار وغیرہ جائے گی تو اس کو زانیہ کہا گیا ہے۔
افسوس کہ موجودہ دور میں شادی بیاہ کے موقع پر عورتیں خوشبو بھی استعمال کرتی ہیں اور نیم برہنہ حالت میں بھی ہوتی ہیں، کیا ہو گیا ہے امت مسلمہ کو، وہ کیوں اسلام سے محبت نہیں کرتی۔ مرد و خواتین کی حقیقی عزت و فلاح قرآن و حدیث کی اطاعت میں ہے، نہ کہ یہود و نصاریٰ کی نقالی میں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1000]

Sunan Abi Dawud Hadith 4174 in Urdu