🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء في المرأة تتطيب للخروج
باب: عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4173
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَةُ فَمَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: قَوْلًا شَدِيدًا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے (ایسی عورت کے متعلق) بڑی سخت بات کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4173]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت خوشبو لگا کر کسی قوم پر سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو پا لیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت بات فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 35 (2786)، سنن النسائی/الزینة 35 (5129)، (تحفة الأشراف: 9023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/400، 414، 418) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1065)
أخرجه الترمذي (2786 وسنده حسن) ورواه النسائي (5129 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥غنيم بن قيس الكعبي، أبو العنبر
Newغنيم بن قيس الكعبي ← عبد الله بن قيس الأشعري
له رؤية
👤←👥ثابت بن عمارة الحنفي، أبو مالك
Newثابت بن عمارة الحنفي ← غنيم بن قيس الكعبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← ثابت بن عمارة الحنفي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4173
إذا استعطرت المرأة فمرت على القوم ليجدوا ريحها فهي كذا وكذا
سنن النسائى الصغرى
5129
أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا من ريحها فهي زانية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4173 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4173
فوائد ومسائل:
عورت کو خوشبو لگا کر باہر نکلنا حرام ہے۔
سنن نسائی اور جامع ترمذی کی روایات میں ایسی عورت کے لیئے زانیہ اور بد کارہ ہو نے کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الزینة، حدیث:5169 و  جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2786)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4173]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5129
عورتوں کے لیے ناپسندیدہ اور مکروہ خوشبو کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5129]
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشبو سے معطر عورت کا گھر سے باہر نکلنا شرعاً حرام ہے، جبکہ آج کی عورت خوشبو میں لت پت ہوکر دفتروں میں جاتی اور مختلف مخلوط پارٹیوں اور تقریبات میں شامل ہوتی ہے اور اسی حالت میں مختلف شاپنگ سنٹروں میں بھی اس کا آنا جانا رہتا ہے۔ فإنا للہ وإنا الیه راجعون. دین و شریعت سے کوسوں دور، ایمان کی لذت سے ناآشنا اور تہذیب مغرب کی دل دادہ، نیز مسنون زندگی کی برکتوں سے محروم، شمع محفل بننے کے جنوں میں مبتلا آج کی بزعم خویش روشن خیال درحقیقت ظلمتوں اور اندھیروں کی باسی عورت مخلوط محفلوں میں نہ صرف شمولیت اختیار کرتی ہے بلکہ ان محفلوں کی زینت بنتی ہے، ان کی روح رواں بننے کی کوشش کرتی اور پھر اس بے راہ روی پر نہ صرف وہ بلکہ اس کے دیوث اور بے حمیت عزیزو اقارت، نیز باپ، خاوند اور بھائی وغیرہ سرعام فخر بھی کرتے ہیں۔ کیا ان حضرات و خواتین نے کبھی یہ سوچا ہے کہ روزِ قیامت اپنے رب کے سامنے کون سا منہ لے کر جائیں گے؟ اور کیا ایسی پیغمبر مخالفانہ زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہونے پر نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے حق دار بن سکیں گے؟ اللہ کریم ہم سب کو اپنے دین متین کی سمجھ اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(2) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو چیز کسی دوسری چیز کا سبب بنتی ہے اس سبب بننے والی چیز کا حکم بھی وہی ہوتا ہے جو اصل چیز کا ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورت کو زانیہ اور بدکارہ قراردیا ہے جو خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلتی اور مردوں کو فتنے میں مبتلا کرتی ہے اور یہ اس لیے کہ عورت کے وجود سے پھوٹنے والی مہک مردوں کو ابھارتی ہے کہ وہ اسے دیکھیں، لہٰذا جب وہ اجنبی عورت کو دیکھیں گے تو یہ نظر اور آنکھ کا زنا ہوگا۔ عورت کو اس لیے زانیہ کہا گیا ہے کہ وہ اس کا سبب بنتی ہے، لہٰذا اس کا سبب بننے والی عورت پر بھی وہی حکم لگایا گیا ہے جو اصل چیز کا حکم ہے۔
(3) بدکار عور ت ہے یعنی یہ بدکارہ اور زانیہ عورت کی علامت ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرتی ہے تاکہ لوگ اس کی طرف مائل ہوں۔ یا اشارہ ہے کہ اس کا انجام بدکاری ہے۔ آخر کار وہ زانیہ بن جائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5129]

Sunan Abi Dawud Hadith 4173 in Urdu