🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ بِإِذْنِ صَاحِبِهَا
باب: مالک کی اجازت کے بغیر کسی کے ریوڑ یا باغ سے کچھ لینا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ، فَقَالَ:" لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ، فَيُكْسَرَ بَاب: خِزَانَتِهِ، فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ، فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2302]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطاب فرمانے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی شخص کسی کے جانور کا دودھ بلا اجازت نہ لے۔ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ کوئی اس کے کمرے میں آ کر اس کے غلہ محفوظ رکھنے کی جگہ کا دروازہ توڑے اور غلہ نکال کر لے جائے؟ لوگوں کے جانوروں کے تھنوں میں ان (مالکوں) کی خوراک محفوظ ہوتی ہے، اس لیے کوئی آدمی کسی شخص کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللقطة 2 (1726)، (تحفة الأشراف: 8300)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللقطة 48 (2435)، سنن ابی داود/الجہاد 95 (2623)، موطا امام مالک/الإستئذان 6 (17) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2303
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ، فَثُبْنَا إِلَيْهَا، فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ"، قُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟، فَقَالَ:" كُلْ وَلَا تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم (کا دودھ دوہنے کے لیے) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس یہ بھی ایسا ہی ہے، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایسی حالت میں) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2303]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک سفر میں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (راستے میں ایک جگہ) ہمیں کیکر کے درخٹوں تلے کچھ تھن بندھی اونٹنیاں نظر آئیں۔ ہم ان کے پاس جمع ہو گئے۔ (اس پر) ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی تو ہم آپ کے پاس واپس آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹنیاں ایک مسلمان گھرانے کی ہیں۔ اللہ کے بعد یہی ان کے لیے خوراک کا ذریعہ اور برکت کا باعث ہیں۔ کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس پہنچو تو دیکھو کہ ان میں جو کچھ تھا، کوئی لے گیا ہے؟ کیا تم اسے انصاف سمجھتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہم نے عرض کیا: اگر ہمیں کھانے پینے کی ضرورت ہو تو (ہم کیا کریں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھا لو اور ساتھ نہ لے جاؤ، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12892، ومصباح الزجاجة: 807)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/405) (ضعیف) لأن ھذا السند فیہ سلیط بن عبد اللہ، قال فیہ البخاری: إسنادہ لیس بالقائم وحجاج بن أرطاة مدلس وقد رواہ بالعنعنة۔» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ اونٹنی ان کی توشہ دان ہیں، اس کے تھن میں ان کے کھانے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليط و ذهيل مجهولان (تقريب: 2521،1843) وحجاج بن أرطاة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں