سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ: الْمُنْفَرِدِ خَلْفَ الصَّفِّ
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 870
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 870]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، میں نے اور ہمارے ایک یتیم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور (ہماری والدہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، 164 (871)، (تحفة الأشراف: 172)، مسند احمد 3/110 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے مصنف نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہوتا ہے لیکن جو لوگ عدم جواز کے قائل ہیں وہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص مانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 871
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» (الحجر: ۲۴) ”ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”ایک بہت خوب صورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی۔ کچھ (نیک) لوگ قصداً پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے تاکہ وہ نظر نہ آئے۔ اور کچھ (منافق قسم کے) لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہتے تھے حتیٰ کہ آخری صف میں کھڑے ہوتے (تاکہ اسے دیکھیں۔) پھر جب رکوع کرتے تو بغل کے نیچے سے اسے دیکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ﴾ [سورة الحجر: 24] ”ہم خوب جانتے ہیں تم میں سے آگے رہنے والوں کو اور خوب جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو۔““ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجر 15 (3122)، سنن ابن ماجہ/إقامة 68 (1046)، (تحفة الأشراف: 5364)، مسند احمد 1/305 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اسے پیچھے تنہا پڑھنے پر محمول کیا ہے لیکن حدیث صراحۃً اس پردلالت نہیں کرتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3122) ابن ماجه (1046) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327