مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
467. بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی مَسعود البَدرِیِّ الاَنصَارِیِّ
حدیث نمبر: 17079
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17079]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 17080
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: مَا سَمِعَ الشِّيبُ وَلَا الشُّبَّانُ خطبة مثلها.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی جوان یا بوڑھے نے ایسا خطبہ نہیں سنا ہو گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17080]
الحكم على الحديث:
مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17081
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو : أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَقَامَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، وَجَافَى يَدَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ، حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ، حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ"، قَالَ:" فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، أَوْ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سالم البراد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی، رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر رکوع سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17081]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17082
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قُلْتُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پہ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17082]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 55، م: 1002
حدیث نمبر: 17083
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِغِلْمَانِهِ، تَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، تَجَاوَزُوا عَنْهُ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو حساب کتاب کے لئے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا گیا، لیکن اس کی کوئی نیکی نہیں مل سکی، البتہ وہ مالدار آدمی تھا، لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اس نے اپنے غلاموں سے کہہ رکھا تھا کہ تنگدست کو مہلت دیا کرو، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں، فرشتو! میرے بندے سے بھی درگزر کرو چنانچہ اس کی بخشش ہو گئی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17083]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1561
حدیث نمبر: 17084
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَيْ عُبَيْدٍ، قَالُوا: أَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أُبْدِعَ بِي، فَاحْمِلْنِي، قَالَ: مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا، فَأَتَاهُ، فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ، فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَإِنَّهُ قَدْ بُدِعَ بِي.
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا سامان سفر اور سواری ختم ہو گئی ہے لہٰذا مجھے کوئی سواری دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تو میرے پاس کوئی جانور نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر دوں، البتہ فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ“، وہ اس کے پاس چلا گیا اور اس نے سواری دے دی، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نیکی کی طرف رہنمائی کر دے، اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح اجر و ثواب ملتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17084]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1893
حدیث نمبر: 17085
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكَنَّى أَبَا شُعَيْبٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لِي قَصَّابًا، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ رِجَالٍ، قَالَ: ثُمَّ دَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَابَ، قَالَ: " هَذَا قَدْ تَبِعَنَا، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ" فَأَذِنَ لَهُ ..
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا، اس کا ایک غلام قصائی تھا، اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کروں جو کہ پانچ میں سے پانچویں آدمی ہوں گے، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا کہ یہ ہمارے ساتھ آ گیا ہے، کیا تم اسے بھی اجازت دیتے ہو؟ اس نے اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17085]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2036
حدیث نمبر: 17086
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أُبْدِعَ بِي أَيْ انْقَطَعَ بِي فَاحْمِلْنِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17086]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1893
حدیث نمبر: 17087
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَضْرِبُ غُلَامًا لِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ وَرَائِي:" اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ" ثَلَاثًا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا"، قَالَ: فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَضْرِبَ مَمْلُوكًا أَبَدًا .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں اپنے کسی غلام کو مار پیٹ رہا تھا کہ پیچھے سے ایک آواز تین مرتبہ سنائی دی، اے ابومسعود! یاد رکھو! میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخدا! تم اس غلام پر جتنی قدرت رکھتے ہو، اللّٰہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، اسی وقت میں نے قسم کھائی کہ آئندہ کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17087]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1659
حدیث نمبر: 17088
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ، وَعَنْ حُلْوَانِ الْكَاهِنِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی، اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17088]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2237، م: 1567