مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1037. حَدِيثُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23212
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى جُعِلْتَ نَبيًّا؟ قَالَ: " وَآدَمُ بيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو کب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنایا گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت جب کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی روح اور جسم ہی کے درمیان تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23212]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1038. حَدِيثُ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23213
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ شَيْخًا مِنْ بنِي سَلِيطٍ أَخْبرَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي شَيْءٍ أُصِيب لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ، وَعَلَيْهِ حَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، عَلَيْهِ إِزَارُ قُطْنٍ لَهُ غَلِيظٌ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ يُشِيرُ بإِصْبعَيْهِ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا" ، يَقُولُ: أَيْ فِي الْقَلْب.
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23213]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23214
حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ سَعْدٍ أَبو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابنَ أَبي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بنُ طَارِقٍ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى ، عَنِ عِمْرَانَ بنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبرَنِي أَعْرَابيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا"، قُلْتُ: مَا لَهُمْ؟ قَالَ:" أَشِحَّةٌ نَحِرَةٌ، وَإِنْ طَالَ بكَ عُمْرٌ، لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بيْنَ الْحَوْضَيْنِ، إِلَى هَذَا مَرَّةً، وَإِلَى هَذَا مَرَّةً" .
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا مطلب؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23214]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين
حدیث نمبر: 23215
حَدَّثَنَا الزُبيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مَعْبدِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُمَيْرٍ ، أَوْ عُمَيْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَوْجُ ابنَةِ أَبي لَهَب ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجْتُ ابنَةَ أَبي لَهَب، فَقَالَ:" هَلْ مِنْ لَهْوٍ؟" .
بنت ابولہب کے شوہر کہتے ہیں کہ جب میں نے ابولہب کی بیٹی سے نکاح کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تفریح کا کوئی سامان ہے؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23215]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة معبد بن قيس وشيخه عبدالله بن عمير
حدیث نمبر: 23216
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ ، أَنَّ أَباهُ أَخْبرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ، وَأَصْدَقُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ" .
حیہ تمیمی (رح) کے والد کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا مردے کی کھوپڑی میں کسی چیز کے ہونے کی کوئی حقیقت نہیں نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23216]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حية التميمي مجهول
حدیث نمبر: 23217
حَدَّثَنَا يُونُسُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبانُ ، وَعَبدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبلٌ إِزَارَهُ، إِذْ قَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَب فَتَوَضَّأْ"، قَالَ: فَذَهَب فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَب فَتَوَضَّأْ"، قَالَ: فَذَهَب فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ قَالَ: " إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبلٌ إِزَارَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبلُ صَلَاةَ عَبدٍ مُسْبلٍ إِزَارَهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر دوبارہ وضو کرو دو مرتبہ یہ حکم دیا اور وہ ہر مرتبہ وضو کر کے آگیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ پہلے آپ نے اسے وضو کا حکم دیا پھر خاموش ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23217]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى جعفر
1039. حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 23218
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بعْضُكُمْ بعْضًا، إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" ، وَقُرِئَ عَلَيْهِ إِسْنَادُهُ: يَزِيدُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ عَمْرِو بنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، يَعْنِي: عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23218]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو
حدیث نمبر: 23219
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أُمِّ جُنْدُب الْأَزْدِيَّةِ ، أَنَّها سَمِعَتْ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، وَعَلَيْكُمْ بمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" .
حضرت ام جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفات سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اپنے اوپر سکون اور وقار کو لازم کرلو اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23219]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23220
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَنْصُورِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابنَةِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بنِي شَيْبةَ الْأَكَابرِ ، قَالَ: مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ: وَقَدْ بايَعَتْ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا شَيْبةَ فَفَتَحَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْبيْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ وَرَجَعَ شَيْبةُ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ أَجِب، فَأَتَاهُ فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْبيْتِ قَرْنًا فَغَيِّبهُ"، قَالَ مَنْصُورٌ: فحَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ مُسَافِعٍ، عَنْ أُمِّي، عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابنَةِ سُفْيَانَ، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنَّهُ لَا يَنْبغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبيْتِ شَيْءٌ يُلْهِي الْمُصَلِّينَ" .
حضرت ام عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیبہ کو بلایا اور خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا بیت اللہ میں داخل ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر چلے گئے تو شیبہ بھی واپس چلے گئے اس اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد شیبہ کو بلانے کے لئے دوبارہ آگیا وہ دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے تم اسے وہاں سے غائب کردو اور ایک روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازیوں کو غافل کر دے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23220]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن، ولجهالة حال عبدالله بن مسافع. والصواب ماجاء فيها ان الذى دعاه النبى ﷺ هو عثمان بن طلحة، لا شيبة
1040. حَدِيثُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
حدیث نمبر: 23221
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بنْتِ شَيْبةَ أُمِّ مَنْصُورٍ ، قَالَتْ: أَخْبرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ وَلَّدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بنِ طَلْحَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ لِمَ دَعَاكَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيْ الْكَبشِ حَيْثُ دَخَلْتُ الْبيْتَ، فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ" ، قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَزَلْ قَرْنَا الْكَبشِ فِي الْبيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبيْتُ فَاحْتَرَقَا.
بنوسلیم کی ایک خاتون " جس نے بنو شبیہ کے اکثر بچوں کی پیدائش کے وقت دائی کا کام کیا تھا " سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو قاصد کے ذریعے بلایا یا یہ کہ خود انہوں نے عثمان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیوں بلایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ میں داخل ہوا تھا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ وہاں دیکھے تھے میں تمہیں یہ کہنا بھول گیا تھا کہ انہیں ڈھانپ دو لہٰذا اب جا کر انہیں ڈھانپ دینا کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو غافل کر دے راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں سینگ خانہ کعبہ ہی میں رہے اور جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23221]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح