🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1041. حَدِيثُ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23222
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ بعْضِ أَزْوَاجِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى عَرَّافًا، فَصَدَّقَهُ بمَا يَقُولُ، لَمْ تُقْبلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبعِينَ يَوْمًا" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کاہن (نجومی) کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23222]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2230
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23223
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، وَعَبدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رُئِيَ بالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ، مِنَ الْحَرِّ أَوْ الْعَطَشِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو '' عرج " نامی جگہ پر روزے کی حالت میں گرمی یا پیاس کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23223]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1042. حَدِيثُ امْرَأَةٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23224
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ أَبي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ بشِمَالِي، وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ، فَضَرَب يَدِي، فَسَقَطَتْ اللُّقْمَةُ، فَقَالَ: " لَا تَأْكُلِي بشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ يَمِينًا" ، أَوْ قَالَ:" وَقَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ يَمِينَكِ"، قَالَتْ: فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينِي، فَمَا أَكَلْتُ بهَا بعْدُ.
ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہی تھی میں ایک تنگدست عورت تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا جس سے لقمہ گرگیا اور فرمایا جب اللہ نے تمہارا داہنا ہاتھ بنایا ہے تو بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ چناچہ میں نے دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا اور اس کے بعد کبھی بھی بائیں ہاتھ سے نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23224]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله بن محمد لم نعرفه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1043. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23225
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مَوْلًى لَهُمْ مُزَاحِمِ بنِ أَبي مُزَاحِمٍ ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ خَالِدِ بنِ أَسِيدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ يُقَالُ لَهُ: مِحْرَشٌ أَوْ خَرِّشٌ لَمْ يَكُنْ سُفْيَانُ يَقِفُ عَلَى اسْمِهِ، وَرُبمَا قَالَ: مِخْرَشٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَنَا، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا، فَاعْتَمَرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَصْبحَ بهَا كَبائِتٍ، فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهَا سَبيكَةُ فِضَّةٍ" .
حضرت محرش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات کے وقت (عمرہ کی نیت سے) نکلے (رات ہی کو مکہ مکرمہ پہنچے عمرہ کیا (اور رات ہی کو وہاں سے نکلے) اور جعرانہ لوٹ آئے صبح ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات یہیں گذاری ہے میں نے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کو دیکھا وہ چاندی میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23225]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1044. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23226
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابنِ أَبي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ" .
بنوثقیف کے ایک آدمی کی اپنے والد سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مار لئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23226]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف الاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1045. حَدِيثُ أَبِي جَبِيرَةَ الضَّحَّاكِ بْنِ الضَّحَّاكِ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23227
حدثنا حَفْصُ بنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بنُ أَبي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبيِّ ، عَنْ أَبي جَبيرَةَ بنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ، قَدِمَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَب أَوْ لَقَبانِ، قَالَ:" فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بلَقَبهِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا"، قَالَ: فَنَزَلَتْ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11 .
ابوجبیرہ (رح) اپنے چچاؤں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی " ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23227]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23228
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ سُلَيْمَانَ شَيْخٌ صَالِحٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ مَدَنِيٌّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ خُبيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَاكَ طَيِّب النَّفْسِ؟ قَالَ:" أَجَلْ"، قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بأْسَ بالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى، وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى، وَطِيب النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ" .
عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23228]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23229
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبادٌ يَعْنِي ابنَ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سَلِيطٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى باب مَسْجِدِهِ مُحْتَب، وَعَلَيْهِ ثَوْب لَهُ قُطْنٌ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْب غَيْرُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ"، ثُمَّ أَشَارَ بيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ يَقُولُ:" التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا" .
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہنبد باندھ رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23229]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23230
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بنُ الرَّبيعِ بنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ أَبي عَمْرٍو الشَّيْبانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَرَسٌ يَرْبطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبيلِ اللَّهِ، فَثَمَنُهُ أَجْرٌ، وَرُكُوبهُ أَجْرٌ، وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ، وَعَلَفُهُ أَجْرٌ، وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهَا الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ، فَثَمَنُهُ وِزْرٌ، وَعَلَفُهُ وِزْرٌ، وَرُكُوبهُ وِزْرٌ، وَفَرَسٌ لِلْبطْنَةِ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَّادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں (١) وہ گھوڑے جنہیں انسان اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے تیار کرے اس کی قیمت بھی باعث اجر اس کی سواری بھی باعث اجر اسے عاریت پر دینا بھی باعث اجر اور اس کا چارہ بھی باعث اجر ہے (٢) وہ گھوڑے جو انسان کو تکبر کے خول میں جکڑ دیں اور وہ شرط پر انہیں دوڑ میں شریک کرے اس کی قیمت بھی باعث وبال اور اس کا چارہ بھی باعث وبال ہے (٣) وہ گھوڑے جو انسان کے پیٹ کے کام آئیں عنقریب یہ گھوڑے اس کے فقروفاقہ کو دور کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23230]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1046. حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23231
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بنُ حُصَيْنِ بنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبدٌ يَقُودُكُمْ بكِتَاب اللَّهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا" .
یحییٰ بن حصین (رح) کی اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم پر کسی غلام کو بھی امیر مقرر کردیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق لے کر چلتا رہے تو تم اس کی بات بھی سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23231]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1838
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں