مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1069. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23492
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَاب، قَالَ: جَلَبتُ جَلُوبةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بيْعَتِي، قُلْتُ: لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِي بيْنَ أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ، حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا، يُعَزِّي بهَا نَفْسَهُ عَلَى ابنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ، كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْشُدُكَ بالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ، هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي؟"، فَقَالَ برَأْسِهِ هَكَذَا، أَيْ: لَا، فَقَالَ ابنُهُ: إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ، إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا الْيَهُودَ عَنْ أَخِيكُمْ"، ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ، وَحَنَّطَهُ، وَصَلَّى عَلَيْهِ .
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں میں ایک اونٹ مدینہ منور لے کر آیاجب میں اسے بیچ کر فارغ ہوگیا تو میں نے سوچا کہ اس آدمی سے ملتا ہوں اور اس کی باتیں سنتا ہوں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حضرت ابوبکروعمر رضی اللہ عنہ کے درمیان چلتے ہوئے ملے میں بھی ان کے پیچھے چلنے لگا حتیٰ کہ وہ تینوں ایک یہودی کے پاس پہنچے جو تورات کھولے اسے پڑھ رہا تھا اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا کہ اس کا انتہائی حسین و جمیل جوان بیٹا قریب المرگ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تورات کو نازل کیا ہے کہ کیا تم تورات میں میری یہی صفات اور بعثت کے یہی حالات پڑھتے ہو؟ اس نے اپنے سر سے نفی میں اشارہ کردیا اس کے قریب المرگ بیٹے نے کہا ہاں! اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا ہے ہم اپنی کتاب میں آپ کی یہی صفات اور بعثت کے یہی حالات پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے پاس سے ان یہودیوں کو اٹھا دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے کفن دفن اور نماز جنازہ کا انتظام فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23492]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى صخر، وقد اختلف فى صحبته
1070. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23493
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ رَبيعَةَ ، عَنْ عُقْبةَ بنِ أَوْسٍ ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: يَعْقُوب بنُ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَب رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ، وَقَالَ مَرَّةً: يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: فَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَاب وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تُعَدُّ وَتُدَّعَى، وَدَمٍ وَمَالٍ، تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا سِدَانَةَ الْبيْتِ، أَوْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ، أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ، قَالَ خَالِدٌ: أَوْ قَالَ: قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبهِ الْعَمْدِ، قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا، مِائَةٌ مِنَ الْإِبلِ، مِنْهَا أَرْبعُونَ فِي بطُونِهَا أَوْلَادُهَا" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اسی نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکت سے دو چار کردیا یاد رکھو! زمانہ جاہلیت میں جو چیز بھی قابل فخر سمجھتی تھی اور ہر خون کا یا عام دعویٰ آج میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے البتہ بیت اللہ کی کنجی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کا منصب برقرار رہے گا یاد رکھو! ہر وہ شخص جو شبہ عمد کے طور پر کسی کوڑے، لاٹھی یا پتھر سے ماراجائے اس میں دیت مغلظہ واجب ہوگی یعنی سو ایسے اونٹ جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23493]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1071. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْمُحَرِّرِ بنِ أَبي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أُصِيب بشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ، فَتَرَكَهُ لِلَّهِ، كَانَ كَفَّارَةً لَهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے جسم کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اللہ کے لئے اسے چھوڑ دے تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23494]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
1072. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23495
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَي يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي إِبرَاهِيمَ الَأَنْصَاريِّ ، أَنَّ أباه َحَدَّثَهُ أَوْ أَخْبرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبيرِنَا" .
حضرت ابو ابراہیم (رح) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں، مردوں اور عورتوں اور موجودہ غائب سب کی بخشش فرما۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23495]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إبراهيم و أبوه لا يعرفان
1073. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23496
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبو غِفَارٍ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور اچھی بات کہنی چاہئے یا پھر خاموش رہنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23496]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1074. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23497
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ مُخَضْرَمَةٍ، فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمِكُمْ هَذَا؟"، قَالَ: قُلْنَا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" صَدَقْتُمْ، يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبرِ، أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا؟"، قُلْنَا: ذُو الْحِجَّةِ، قَالَ:" صَدَقْتُمْ، شَهْرُ اللَّهِ الْأَصَمُّ، أَتَدْرُونَ أَيُّ بلَدٍ بلَدُكُمْ هَذَا؟"، قَالَ: قُلْنَا: الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، قَالَ:" صَدَقْتُمْ، فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بلَدِكُمْ هَذَا، أَوْ قَالَ: كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، وَشَهْرِكُمْ هَذَا، وَبلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بكُمْ الْأُمَمَ، فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي، أَلَا وَقَدْ رَأَيْتُمُونِي وَسَمِعْتُمْ مِنِّي وَسَتُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَنْ كَذَب عَلَيَّ، فَلْيَتَبوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ رِجَالًا أَوْ إِنَاثًا، وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي آخَرُونَ، فَأَقُولُ: يَا رَب، أَصْحَابي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سرخ رنگ کی اونٹنی پر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یوم النحر فرمایا تم نے سچ کہا یہ حج اکبر کا دن ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ فرمایا تم نے سچ کہا یہ شہر اصم ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ساشہر ہے؟ ہم نے عرض کیا مشعرحرام فرمایا تم نے سچ کہا تمہاری جان اور تمہارے مال تمہارے لئے اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے اس شہر میں اس مہینے کے آج کے دن کی حرمت ہے یاد رکھو! حوض کوثر پر میں تمہارا انتظار کروں گا اور تمہیں دیکھوں گا اور تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر اپنی کثرت ظاہر کروں گا لہٰذا میرے چہرے کو سیاہ نہ کرنا، تم نے مجھے دیکھا ہے اور میری باتیں سنی ہیں اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کرے گا اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے، یاد رکھو! میں کچھ لوگوں کو چھڑا لوں گا اور بہت سے لوگ مجھ سے چھڑا لئے جائیں گے میں عرض کروں گا کہ پروردگار یہ میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23497]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ، فَقَالَ: " إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَكَلَّمْ بكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا، وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23498]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وجهالة عثمان بن جبير، ومع جهالته فقد اضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 23499
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا فِي الْبحْرِ وَعَلَيْنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ، وَمَعَنَا أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ، فَمَرَّ بصَاحِب الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبيَ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبكِي، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: فَرَّقُوا بيْنَهَا وَبيْنَ وَلَدِهَا , قَالَ: فَأَخَذَ بيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا، فَانْطَلَقَ صَاحِب الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبدِ اللَّهِ بنِ قَيْسٍ، فَأَخْبرَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بيْنَهُ وَبيْنَ الْأَحِبةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ابوعبدالرحمن حبلی (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کردیا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23499]
الحكم على الحديث:
حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة وحيي بن عبدالله، وقد توبعا
حدیث نمبر: 23500
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ عَبدِ رَبهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنِي أَبو سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ، وَسَيَضْرِبونَ عَلَيْكُمْ فِيهَا بعُوثًا، يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبعْثَ، فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبائِلِ يَقُولُ: مَنْ أَكْفِيهِ بعْثَ كَذَا وَكَذَا، أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ" ..
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہوجائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چناچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں؟ یاد رکھو! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23500]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23501
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ هُو ابنُ برِّيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ الطَّائِيِّ ، أَخْبرَنِي ابنُ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ أَنَّهُ كَتَب إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب يُخْبرُهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23501]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب