🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23462
حَدَّثَنَا مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ قَيْسِ بنِ أَبي مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ: ضَرَب لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالًا وَاحِدًا وَثَلَاثَةً وَخَمْسَةً وَسَبعَةً وَتِسْعَةً وَأَحَدَ عَشَرَ، قَالَ: فَضَرَب لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا مَثَلًا وَتَرَكَ سَائِرَهَا، قَالَ: " إِنَّ قَوْمًا كَانُوا أَهْلَ ضَعْفٍ وَمَسْكَنَةٍ قَاتَلَهُمْ أَهْلُ تَجَبرٍ وَعَدَاءٍ، فَأَظْهَرَ اللَّهُ أَهْلَ الضَّعْفِ عَلَيْهِمْ، فَعَمَدُوا إِلَى عَدُوِّهِمْ فَاسْتَعْمَلُوهُمْ وَسَلَّطُوهُمْ، فَأَسْخَطُوا اللَّهَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک، تین، پانچ، سات، نو اور گیارہ ضرب الامثال بیان فرمائی ہیں، جن میں سے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرما دیں اور باقی چھوڑ دیں اور فرمایا کہ ایک قوم تھی جس کے لوگ کمزور اور مسکین تھے ان سے ایک طاقتور اور کثیر تعداد والی قوم نے قتال کیا تو اللہ نے ان کمزوروں کو غلبہ عطا فرما دیا اور وہ لوگ اپنے دشمن کی طرف بڑھے ان پر اپنے حکمران مقرر کئے اور ان پر تسلط جمایا اور ان پر اللہ کی ناراضگی کا سبب بن گئے تاآنکہ وہ اللہ سے جاملے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23462]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، مصعب بن سلام ضعيف يعتبر به، وقد توبع، والأجلح ضعيف، وقيس بن أبى مسلم مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23463
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ نُعَيْمِ بنِ أَبي هِنْدٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ وَإِلَى أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: حَدِّثْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا، بلْ حَدِّثْ أَنْتَ، فَحَدَّثَ أَحَدُهُمَا صَاحِبهُ، وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى برَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ: انْظُرُوا فِي عَمَلِهِ، فَيَقُولُ: رَب مَا كُنْتُ أَعْمَلُ خَيْرًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لِي مَالٌ وَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ، فَمَنْ كَانَ مُوسِرًا يَسَّرْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ مُعْسِرًا أَنْظَرْتُهُ إِلَى مَيْسَرَةٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَحَقُّ مَنْ يَسَّرَ، فَغَفَرَ لَهُ"، فَقَالَ: صَدَقْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا . ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ برَجُلٍ قَدْ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اسْتَقْبلُوا بي رِيحًا عَاصِفًا، فَاذْرُونِي، فَيَجْمَعُهُ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ، قَالَ: فَيَغْفِرُ لَهُ"، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ .
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں وہ ہمیں بھی سنائیے چناچہ ان میں سے ایک نے یہ حدیث سنائی اور دوسرے نے ان کی تصدیق کی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے اعمال دیکھو وہ کہے گا کہ پروردگار! میں کوئی نیک کام نہیں کرتا تھا البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے پاس مال تھا اور میں لوگوں سے مل کر تجارت کرتا تھا جس کے پاس کشادگی ہوتی میں اس پر آسانی کردیتا اور جو تنگدست ہوتا میں اسے سہولت تک مہلت دے دیتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا سہولت دینے کا میں زیادہ حق دار ہوں چناچہ اس کی بخشش ہوگئی دوسرے صحابی نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا جس نے مرتے وقت اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا، دوسرے صحابی نے اس پر بھی ان کی تائید کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23463]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3452، م: 1560، وهذا إسناد حسن فى المتابعات من أجل مصعب والأجلح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23464
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبى زِيَادٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ بالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ، فَرَمَاهُ بهِ مَا يَأْلُو أَنْ يُصِيب بهِ وَجْهَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، لَمْ أَفْعَلْ به هَذَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، قَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ" ، هَذَا آخِرُ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23464]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 5632، م: 2067، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم ويزيد بن أبى زياد، وقد توبعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1050. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23465
حَدَثَنَا عَبد الله، حَدَثَني أبى، سَمِعْتُهُ وَحْدِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَا غُلَامٌ مَعَ أَبي، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حُفْيِرَةِ الْقَبرِ، فَجَعَلَ يُوصِي الْحَافِرَ وَيَقُولُ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبلِ الرَّأْسِ، وَأَوْسِعْ مِنْ قِبلِ الرِّجْلَيْنِ، لَرُب عَذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ" .
ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے میں اس وقت نو عمر تھا اور اپنے والد کے ساتھ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور قبر کھودنے والے کو تلقین کرنے لگے کہ سر کی جانب سے اسے کشادہ کرو اور پاؤں کی جانب سے اسے کشادہ کرو اس کے لئے جنت میں بہت سے خوشے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23465]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1051. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23466
حَدَّثَنَا عَبدُ السَّلَامِ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الدَّالَانِيُّ ، عَنْ أَبي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِب أَقْرَبهُمَا بابا، فَإِنَّ أَقْرَبهُمَا بابا أَقْرَبهُمَا جِوَارًا، فَإِذَا سَبقَ أَحَدُهُمَا، فَأَجِب الَّذِي سَبقَ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک ہی وقت میں دو آدمی تمہیں دعوت دیں تو جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو اس کی دعوت قبول کرلو کیونکہ جس کا دروازہ زیادہ قریب ہوگا اس کا پڑوس زیادہ قریب ہوگا اور اگر ان میں سے کوئی ایک پہلے دعوت دے دے تو پھر پہلے دینے والے کی دعوت کو قبول کرلو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23466]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1052. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23467
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رُئِيَ بالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ مَاءً وَهُوَ صَائِمٌ، مِنَ الْحَرِّ أَوْ مِنَ الْعَطَشِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23467]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1053. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23468
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبرْنِي بكَلِمَاتٍ أَعِيشُ بهِنَّ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ فَأَنْسَى، قَالَ: " اجْتَنِب الْغَضَب"، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" اجْتَنِب الْغَضَب" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے زیادہ نہ کیجئے گا تاکہ میں بھول نہ جاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23468]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1054. حَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23469
حَدَّثَنِي يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ , أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، وَزَائِدَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ سُفْيَانَ، أَوْ سُفْيَانَ بنِ الْحَكَمِ ، قَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بالْمَاءِ"، وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ" .
حضرت سفیان یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مارلئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23469]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا، وقد اختلف فى صحبة الحكم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23470
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفَ وَهُوَ الْحَكَمُ بنُ سُفْيَانَ، أَوْ سُفْيَانُ بنُ الْحَكَمِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ" ..

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف الاضطرابه، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23471
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بنِ سُفْيَانَ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ: وَرَوَاهُ شُعْبةُ ، وَوُهَيْب ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ الْحَكَمِ بنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبيهِ , أَنَّهُ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ غَيْرُهُمَا: عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ سُفْيَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ.

الحكم على الحديث:
في الشطر الأول شريك، وهو سيئ الحفظ، وشطره الثاني ضعيف الاضطراب أسانيده، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں