مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1054. حَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23472
وقَالَ عَبد اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَاب أَبي بخَطِّ يَدِهِ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ سُفْيَانَ ، أَوْ سُفْيَانَ بنِ الْحَكَمِ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ" .
حضرت سفیان یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23472]
الحكم على الحديث:
ضعيف الاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا، وقد اختلف فى صحبة الحكم بن سفيان
حدیث نمبر: 23473
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفَ وَهُوَ الْحَكَمُ بنُ سُفْيَانَ، أَوْ سُفْيَانُ بنُ الْحَكَمِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ" .
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23473]
الحكم على الحديث:
ضعيف الاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا، وقد اختلف فى صحبة الحكم بن سفيان
1055. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23474
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب الرَّسُولِ صلي الله عليه وسلم، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبنِي عَبدِ الْمُطَّلِب، فَقَالَ: إِنَّهَا تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، فَمَنْ اقْتَدَى بي فَهُوَ مِنِّي، وَمَنْ رَغِب عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ثُمَّ فَتْرَةً، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بدْعَةٍ، فَقَدْ ضَلَّ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ، فَقَدْ اهْتَدَى" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو عبدالمطلب کی ایک باندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیام اللیل اور صائم النہار رہتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں سو جو شخص میری اقتداء کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ہر عمل کی ایک تیزی ہوتی ہے جو کچھ عرصے بعد ختم ہوجاتی ہے سو جس کی تیزی کا اختتام اور انقطاع بدعت کی طرف ہو وہ گمراہ ہوگیا اور جس کی تیزی کا اختتام سنت پر ہوا تو وہ ہدایت پا گیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23474]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23475
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ أَبي عَرُوبةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبيحَةَ عَاشُورَاءَ وَقَدْ تَغَدَّيْنَا، فَقَالَ: " أَصُمْتُمْ هَذَا الْيَوْمَ؟"، قَالَ: قُلْنَا: قَدْ تَغَدَّيْنَا، قَالَ:" فَأَتِمُّوا بقِيَّةَ يَوْمِكُمْ" .
عبدالرحمن بن سلمہ خزاعی (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے دن قبیلہ اسلم کے لوگوں سے فرمایا آج کے دن کا روزہ رکھو وہ کہنے لگے کہ ہم تو کھا پی چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بقیہ دن کچھ نہ کھانا پینا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23475]
الحكم على الحديث:
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن سلمة
حدیث نمبر: 23476
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ حَسْنَاءَ بنْتِ مُعَاوِيَةَ مِنْ بنِي صُرَيْمٍ، قَالَتْ: حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " النَّبيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ وَالْوَلِيدَةُ" .
حسناء جو بنو صریم کی ایک خاتون تھیں اپنے چچا سے نقل کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نبی جنت میں ہوں گے شہید جنت میں ہوں گے نومولود بچے جنت میں ہوں گے اور زندہ درگور کیئے ہوئے بچے بھی جنت میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23476]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حسناء بنت معاوية
1056. حَدِيثُ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23477
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَيُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُوهُمْ غَزْوًا، فَتُنْصَرُونَ، وَتَسْلَمُونَ، وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُواَ بمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبا فَيَقُولُ: غَلَب الصَّلِيب، فَيَغْضَب رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَغْدُرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ" ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: وَتَسْلَمُونَ، وَتَغْنَمُونَ، وَتُقِيمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ.
حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23477]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23478
حَدَّثَنَا يُونُسُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَاحِدِ بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الشَّعْبيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابنَ عُمَرَ قُلْتُ: الْجَزُورُ وَالْبقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبعَةٍ؟ قَالَ: يَا شَعْبيُّ، وَلَهَا سَبعَةُ أَنْفُسٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبقَرَةَ عَنْ سَبعَةٍ!" , قَالَ: فَقَالَ ابنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ: أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا شَعَرْتَ بهَذَا.
امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہوسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا شعبی! کیا اس کی سات جانیں ہوتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے اور ایک اونٹ مقرر فرمایا ہے اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے پوچھا اے فلاں! کیا بات اسی طرح ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے اس کا پتہ نہیں چل سکا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23478]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، والحديث صحيح عن جابر
1057. حَدِيثُ أُخْتِ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
حدیث نمبر: 23479
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابنَ أَبي حَبيب ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ طَلْحَةَ بنِ يَزِيدَ بنِ رُكَانَةَ ، أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ ابنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ أَباهَا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً نُفْدِيهَا يَعْنِي: بأَرْبعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا"، فَأَمَرَ بهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا ، وَهِيَ مِنْ بنِي عَبدِ الْأَسَدِ.
مسعود بن عجماء رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے اس مخزومی عورت کے متعلق " جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم اس کے فدیئے میں چالیس اوقیہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے حق میں بہتر یہی ہے کہ یہ پاک ہوجائے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس عورت کا تعلق بنو عبد الاشہل یا بنو اسد سے تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23479]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقصة المرأة المخزمية قد رواها غير واحد من الصحابة
1058. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23480
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي غِفَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يَحْلِقْ عَانَتَهُ، وَيُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ، وَيَجُزَّ شَارِبهُ، فَلَيْسَ مِنَّا" .
ایک غفاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے زیر ناف بال نہ کاٹے ناخن نہ تراشے اور مونچھیں نہ کاٹے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23480]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
1059. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23481
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي عَائِشَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ"، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ الْكِتَاب" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو؟ دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! واقعی ہم ایسا کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کیا کرو الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23481]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح