🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23522
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ رَاشِدٍ الْيَافِعِيِّ ، عَنْ حَبيب بنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَرَّب طَعَامًا، فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ برَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا، وَلَا أَقَلَّ برَكَةً فِي آخِرِهِ، قُلْنَا: كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا، ثُمَّ قَعَدَ بعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ، فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23522]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة راشد اليافعي وحبيب بن أوس، وابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة عنه صالحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23523
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبو أَيُّوب، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ أَبو أَيُّوب : إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ، فَأَخْبرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ" ، وَلْيَنْطَلِقُوا بي فَلْيَبعُدُوا بي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبو أَيُّوب، فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ، وَانْطَلَقُوا بجِنَازَتِهِ.
اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23523]

الحكم على الحديث:
صحيح بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المكي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ ، أَخْبرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبلَنَّ الْقِبلَةَ، وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّب" ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23524]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبعَثَ بفَضْلِهِ إِلَيَّ، وَإِنَّهُ بعَثَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، فِيهَا ثُومٌ، فَسَأَلْتُهُ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23525]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2053
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23526
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ نَالَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَنَالَ، ثُمَّ يَبعَثُ بسَائِرِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب وَفِيهِ أَثَرُ يَدِهِ، فَأُتِيَ بطَعَامٍ فِيهِ الثُّومُ، فَلَمْ يَطْعَمْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، وَبعَثَ بهِ إِلَى أَبي أَيُّوب، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ: ادْنُوهُ مِنِّي، فَإِنِّي أَحْتَاجُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، كَفَّ يَدَهُ مِنْهُ، وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، بأَبي وَأُمِّي، هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ، آكُلُ مِنْهُ؟ قَالَ: " فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ فَكُلْ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23526]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23527
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ وَاصِلٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، وعَنْ عَطَاءٍ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَبذَا الْمُتَخَلِّلُونَ"، قِيلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ:" فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ" .
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خلال کرنے والے لوگ کیا خوب ہیں؟ کسی نے پوچھا کہ خلال کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اور کھانے کے دوران خلال کرنے والے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23527]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب، وهذا الحديث من جهة عطاء مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23528
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، يَذْكُرُ فِيهِ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23528]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6237 ، م: 2560
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23529
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ، وَابنُ عَباسٍ، وَقَالَ مَرَّةً: امْتَرَى فِي الْمُحْرِمِ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى أَبي أَيُّوب : كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا، مُقْبلًا وَمُدْبرًا" ، وَصَفَهُ سُفْيَانُ.
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23529]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1840 ، م: 1205
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23530
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بنِ بشِيرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار پر کیا جائے جو اس سے پہلو تہی کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23530]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة حجاج، وهو مدلس، ولم يسمع من الزهري، وقول الحجاج : "حكيم بن بشير عن أبى أيوب" خطأ صوابه : الزهري، عن أيوب بن بشير الأنصاري عن الحكيم بن حزام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23531
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23531]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن السائبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں