🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1060. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23482
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، قَالُوا: فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس دس آیات پڑھتے تھے اور اگلی دس آیات اس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک کہ پہلی دس آیات میں علم و عمل سے متعلق چیزیں اچھی طرح سیکھ نہ لیتے یوں ہم نے علم وعمل کو حاصل کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23482]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1061. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23483
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، عَنْ حَرْب بنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبي أُمِّهِ رَجُلٍ مِنْ تَغْلِب، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ، إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى" .
ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23483]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1062. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23484
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَمَّارِ بنِ أَبي عَمَّارٍ ، عَنِ ابنِ عَباسٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ هُمْ مِنْهُمْ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُهُ فَحَدَّثَنِي، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " رَبهُمْ أَعْلَمُ بهِمْ، هُوَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بهِمْ وَبمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وقت تک میں اس بات کا قائل تھا کہ مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہوگی اور مشرکین کی اولاد مشرکین کے ساتھ ہوگی حتیٰ کہ فلاں آدمی نے مجھ سے فلاں کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے (پھر میں ایک اور آدمی سے ملا اور اس نے بھی مجھے یہی بات بتائی تب میں اپنی رائے سے پیچھے ہٹ گیا) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23484]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1063. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23485
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بنِ لَاحِقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ الْقَمْلَةَ فِي ثَوْبهِ، فَلْيَصُرَّهَا وَلَا يُلْقِيهَا فِي الْمَسْجِدِ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے کپڑوں میں کوئی جوں دکھائی دے تو اسے چاہئے کہ اسے باہر لے جائے مسجد میں نہ ڈالے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23485]

الحكم على الحديث:
إن كان الرجل الأنصاري صحابيا فهو منقطع، وإلا فهو مرسل لأن الحضرمي لا يروي إلا عن التابعين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1064. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23486
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْلَا أَشُقُّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23486]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1065. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23487
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوب ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ بعْدِكُمْ أَوْ إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ الْكَذَّاب الْمُضِلَّ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ وَرَائِهِ حُبكٌ حُبكٌ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ: أَنَا رَبكُمْ، فَمَنْ قَالَ: كَذَبتَ لَسْتَ رَبنَا، وَلَكِنَّ اللَّهَ رَبنَا، وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا، وَإِلَيْهِ أَنَبنَا، وَنَعُوذُ باللَّهِ مِنْكَ، فَلَا سَبيلَ لَهُ عَلَيْهِ" .
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا) تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23487]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1066. حَدِيثُ شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23488
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبي برْدَةَ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَدَّثَنِي، َقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبوا إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ، فَإِنِّي أَتُوب إِلَى اللَّهِ وَأَسْتَغْفِرُهُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ" ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ، اثْنَتَانِ، قَالَ: هُوَ مَا أَقُولُ لَكَ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے لوگو اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں، میں نے ان سے پوچھا کہ " اللہم انی استغفرک اور " اللہم انی اتوب الیک " یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں یا ایک ہی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23488]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1067. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23489
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَباكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بالتَّقْوَى، أَبلَّغْتُ؟"، قَالُوا: بلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ بلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: بلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ بيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: أَوْ أَعْرَاضَكُمْ أَمْ لَا، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بلَدِكُمْ هَذَا، أَبلَّغْتُ؟"، قَالُوا: بلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" لِيُبلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِب" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر " سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے کیا میں نے پیغام الہٰی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا پہنچا دیا پھر فرمایا آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا حرمت والا دن فرمایا مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا حرمت والا مہینہ، فرمایا شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا حرمت والا شہر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ نے تمہارے درمیان تمہارے خون اور مال کو اسی طرح حرمت والا بنادیا ہے جیسے اس مہینے اور اس شہر میں آج کے دن کی حرمت ہے کیا میں نے پیغام الہٰی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاضرین کو چاہئے غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23489]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1068. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23490
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، قَالَ: كَانَ مَرْثَدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ لَا يَجِيءُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ يَتَصَدَّقُ بهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ بصَلٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبا الْخَيْرِ، مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا، يُنْتِنُ عَلَيْكَ ثَوْبكَ! قَالَ: يَا ابنَ أَخِي، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا كَانَ فِي مَنْزِلِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بهِ غَيْرُهُ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ" .
یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ مرثد بن عبداللہ جب بھی مسجد آتے تو اپنے ساتھ صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز ضرور لاتے تھے ایک دن وہ مسجد میں آئے تو اپنے ساتھ پیاز لے کر آئے میں نے ان سے کہا اے ابوالخیر! یہ کیوں لے آئے؟ اس سے تو آپ کے کپڑوں سے بدبو آنے لگے گی انہوں نے کہا بھتیجے! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا اور مجھے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مسلمان کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23490]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1069. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23491
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا عَطَاءُ بنُ السَّائِب ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " تُفْتَحُ فِيهِ أَبوَاب الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبوَاب النَّارِ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي فِيهِ مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ: يَا باغِيَ الْخَيْرِ، هَلُمَّ، وَيَا باغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس میں ہر سرکش شیطان کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور ہر رات ایک منادی نداء لگاتا ہے کہ اسے خیر کے طالب! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب! رک جا، یہاں تک کہ رمضان ختم ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23491]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں