مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23532
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بنِ مِنْجَاب ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَدْمَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدْمَنْتَهَا؟ قَالَ: " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى تُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ: قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ:" لَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ ان چاروں رکعتوں میں قرأت فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے پوچھا کہ کیا ان میں دو رکعتوں پر سلام بھی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23532]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه ، وقرع الضبي فيه ضعف
حدیث نمبر: 23533
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23533]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1164
حدیث نمبر: 23534
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب غَازِيًا، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِب، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبةُ؟ فَقَالَ: شُغِلْنَا، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ أُمَّتِي بخَيْرٍ، أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِب إِلَى أَنْ يَشْتَبكَ النُّجُومُ" ..
مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23534]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23535]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا، وَلْيُشَرِّقْ وَلْيُغَرِّب" قَالَ أَبو أَيُّوب: فَلَمَّا أَتَيْنَا الشَّامَ، وَجَدْنَا مَقَاعِدَ تَسْتَقْبلُ الْقِبلَةَ، فَجَعَلْنَا نَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23536]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23537
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بعَثَ بفَضْلِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب، قَالَ: فَأُتِيَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ فِيهَا ثُومٌ، فَبعَثَ بهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ رِيحَهُ" ، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23537]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2053
حدیث نمبر: 23538
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بنَ طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب أَخْبرَهُ , أَنَّ أَعْرَابيًّا عَرَضَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ، فَأَخَذَ بخِطَامِ نَاقَتِهِ، أَوْ بزِمَامِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ، أَخْبرْنِي بمَا يُقَرِّبنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُباعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: " تَعْبدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23538]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5983، م: 13
حدیث نمبر: 23539
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بنُ أَبي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْبرَاءِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بعْدَ مَا غَرَبتْ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّب فِي قُبورِهَا" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23539]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1375، م: 2869
حدیث نمبر: 23540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ، وَلَا يَأْمُرُ بشَيْءٍ، وَيُسَلِّمُ بيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ..
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو تین مرتبہ مسواک فرماتے تھے جب رات کو نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے تھے کسی سے بات کرتے اور نہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں پر سلام پھیر دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23540]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن أبى سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23541
وَبهِ وَبهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ تَمَضْمَضَ، وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ مِنْ تَحْتِهَا بالْمَاءِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو کلی کرتے اور اپنی ڈاڑھی مبارک کو نیچے سے پانی کے ساتھ دھوتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23541]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا كسابقه