مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، أَخْبرَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ أَتَاهُ بالْمَدَائِنِ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنْ أَيِّ بالِهِمْ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي عُثْمَانَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ" .
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی! تمہاری قوم کا کیا بنا؟ میں نے پوچھا کہ آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیر کو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23452]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23453
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بنُ عُتَيْبةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بنِ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " شَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بيْنَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْبقَرَةِ عَنْ سَبعَةٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مسلمانوں کو ایک گائے میں شریک کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23453]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23454
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمِ بنِ عَبدٍ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعْيدِ بنِ الْعَاصِ بطَبرِسْتَانَ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، " فَأْمُرْ أَصْحَابكَ يَقُومُونَ طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ خَلْفَكَ، وَطَائِفَةٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَتُكَبرُ وَيُكَبرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ وَيَسْجُدُ مَعَكَ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الَّتِي بإِزَاءِ الْعَدُوِّ قِيَامٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ يَسْجُدُونَ، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمُ الْآخَرُونَ، فَقَامُوا فِي مَصَافِّهِمْ، فَتَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بعْضُهُمْ عَلَى بعْضٍ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ" .
سلیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھنے کا طریقہ آپ لوگوں میں سے کسے یاد ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یاد ہے تم اپنے ساتھیوں کو دو گرہوں میں کھڑے ہونے کا حکم دو، جن میں سے ایک تمہارے پیچھے کھڑا ہو اور ایک دشمن کے سامنے پھر تم تکبیر کہو اور وہ سب بھی تکبیر کہیں پھر تم رکوع کرو وہ سب بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھاؤ اور وہ سب بھی سر اٹھائیں، پھر تم سجدہ کرو اور تمہارے قریب والی صف بھی سجدہ کرے اور دشمن کے سامنے والی صف کے لوگ کھڑے رہیں جب تم سجدے سے سر اٹھا لو تو وہ بھی سجدہ کرلیں پھر پہلی صف والے پیچھے اور پیچھے والے آگے آجائیں اور ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں اور دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھ کر سب سلام پھیر دیں اور اپنے ساتھیوں سے کہہ دو کہ اگر دشمن نماز کے دوران حملہ کر دے تو ان کے لئے قتال اور بات چیت حلال ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23454]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال سليم بن عبد السلولي، وسلف الحديث من طريق أخرى صحيحة عن حذيفة بغير هذا السياق
حدیث نمبر: 23455
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَبيب بنُ سُلَيْمٍ الْعَبسِيُّ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَاتَ لَهُ مَيِّتٌ قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی مرگ ہوجاتی تو وہ کہتے کہ کسی کو اس کی اطلاع نہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ " نعی " میں شمار نہ ہو جس سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23455]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23456
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ، فَلَا تَعُودُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ، فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہوں گے جو یہ کہتے ہوں گے کہ تقدیر کچھ نہیں ہے سوائے ایسے لوگوں میں اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو تم اس کی بیمار پرسی نہ کرو کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک نہ ہو اور یہ دجال کا گروہ ہے اللہ پر حق ہے کہ انہیں دجال کے ساتھ ملا دے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23456]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف، وقد أضطرب فى إسناده، وفيه رجل مبهم
حدیث نمبر: 23457
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَابرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبرِ، قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبرُكُمْ بشَرِّ عِبادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبرُ، أَلَا أُخْبرُكُمْ بخَيْرِ عِبادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنازے میں تھے جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے بیٹھ کر بار بار اس میں دیکھنے لگے پھر فرمایا کہ مسلمان کو قبر میں ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے جس سے اس کے سارے بوجھ دور ہوجاتے ہیں اور کافر پر آگ کو بھر دیا جاتا ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ کا بدترین بندہ کون ہے؟ ہر تندخو اور متکبر۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور آدمی جسے دبایا جاتا ہو، پرانی چادروں والا ہو، لیکن ہو ایسا کہ اگر اللہ کے نام پر کسی کام کی قسم کھالے تو وہ اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23457]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر ، ولانقطاعه ، فإن أبا البختري لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا وَائِلٍ يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23458]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23459
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23459]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6312
حدیث نمبر: 23460
حَدَّثَنَا أَبو الْيَمَانِ ، قَالَ: وَأَخبرنَا شُعَيْب ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ ، يَقُولُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ بكُلِّ فِتْنَةٍ وَهِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ، وَمَا بي أَنْ يَكُونَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْ غَيْرِي بهِ، وَلَكِنْ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِمْ عَنِ الْفِتَنِ، قَالَ وَهُوَ يَعُدُّهَا: " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ، مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبارٌ" ، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَذَهَب أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي.
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! میں اب سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ایسا تو نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ کوئی بات مجھے بتائی ہو جو میرے علاوہ کسی اور کو نہ بتائی ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مجلس میں یہ باتیں بیان فرمائی تھیں میں اس میں موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کے متعلق سوالات پوچھے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شمار کروا رہے تھے ان میں تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ گرمیوں کی ہواؤں جیسے ہوں گے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ اس مجلس کے تمام شرکاء دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23460]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23461
حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ بنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23461]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255