مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23552
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبرَنِي أَبو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُمَرَ أَخْبرَهُ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ مَرَّ عَلَى إِبرَاهِيمَ، فَقَالَ: " مَنْ مَعَكَ يَا جِبرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَهُ إِبرَاهِيمُ: مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبتَهَا طَيِّبةٌ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ، قَالَ: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللَّهِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی امت کو تلقین کیجئے کہ وہ کثرت سے جنت کے پودے لگائیں کیونکہ جنت کی مٹی عمدہ اور زمین کشادہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جنت کے پودوں سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23552]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن مجهول الحال، و معنى الحديث صحيح ثابت
حدیث نمبر: 23553
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، وَحَدَّثَنِي عَدِيُّ بنُ ثَابتٍ ، وَمُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بجَمْعٍ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23553]
الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان، خ: 1674، م: 1287
حدیث نمبر: 23554
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ بنِ قُدَامَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنِ الرَّبيعِ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُعْجِب أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ، فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَيْلَةٍ، فَقَدْ قَرَأَ لَيْلَتَئِذٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھ سکے سورت اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے اس لئے جو شخص رات کے وقت تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23554]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة وللاضطراب فى سنده
حدیث نمبر: 23555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَوْنِ بنِ أَبي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْبرَاءِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَجَبتْ الشَّمْسُ، قَالَ فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّب فِي قُبورِهَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23555]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1375، م: 2869
حدیث نمبر: 23556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَرْقَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23556]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 11649
حدیث نمبر: 23557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ: هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكَ" ، قَالَ حَجَّاجٌ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے الحمدللہ علی کل حال کہنا چاہئے جواب دینے والے کو " یرحمک اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو " یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23557]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبدالرحمن، وكان يضطرب فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 23558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ عُبيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابنَ كَرِيزٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ , قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِي ثَوْبهِ قَمْلَةً، فَأَخَذَهَا لِيَطْرَحَهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ، ارْدُدْهَا فِي ثَوْبكَ حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں دیکھی اس نے اسے پکڑ کر مسجد میں ہی پھینکنا چاہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ایسا مت کرو اسے اپنے کپڑوں میں ہی رہنے دو تاآنکہ مسجد سے نکل جاؤ۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23558]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة بن إسحاق، وهو مدلس
حدیث نمبر: 23559
حَدَّثَنَا بهْزُ بنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابنَ عَبدِ اللَّهِ بنِ أَبي طَلْحَةَ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَقْبلُوا الْقِبلَةَ بفُرُوجِكُمْ، وَلَا تَسْتَدْبرُوهَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23559]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23560
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا ظِبيَانَ ، وَيَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي ظِبيَانَ ، قَالَ: غَزَا أَبو أَيُّوب الرُّومَ فَمَرِضَ، فَلَمَّا حُضِرَ، قَالَ: أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي، فَإِذَا صَافَفتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23560]
الحكم على الحديث:
صحيح بمجموع طرقه، إسناده منقطع، أبو ظبيان لم يحضر ذلك من أبى أيوب، إنما رواه عن أشياخ له حضروا ذلك منه
حدیث نمبر: 23561
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ، أَخْبرَنِي عُمَرُ بنُ ثَابتٍ رَجُلٌ مِنْ بنِي الْحَارِثِ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23561]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1164