🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23562
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ صَلَاةَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23562]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1174، م: 1287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23563
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَنَشُ بنُ الْحَارِثِ بنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِيَاحِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبةِ، فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا، قَالَ: كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَب؟ قَالُوا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، يَقُولُ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ" ، قَالَ رِيَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوْا تَبعْتُهُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ..
ریاح بن حارث کہتے ہیں کہ ایک گروہ " رحبہ " میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا " السلام علیک یا مولانا " حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارا آقا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے مقام پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں جب وہ لوگ چلے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کچھ انصاری لوگ ہیں جن میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23563]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23564
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَنَشٌ ، عَنْ رِيَاحِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: رَأَيْتُ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبةِ، فَقَالَ: مَنْ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23564]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23565
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبلَ الظُّهْرِ أَرْبعًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُصَلِّي صَلَاةً تُدِيمُهَا، فَقَالَ: " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي إِلَى السَّمَاءِ خَيْرٌ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23565]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبى أيوب، وعلي بن الصلت مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23566
قَرَأْتُ عَلَى عَبدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ أَخْبرَهُ أَنَّهُ " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا بالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23566]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23567
حَدَّثَنَا عَتَّاب بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، أَنَّ أَسْلَمَ أَبا عِمْرَانَ التُّجِيبيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ، فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" مَعِي مَعِي" ، وَكَذَا، قَالَ مَعْمَرٌ: فَبدَرَتْ مِنَّا بادِرَةٌ، وَقَالَ: صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23567]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23568
حَدَّثَنَا أَبو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَتَب اللَّهُ لَهُ بكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَحَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَهُ اللَّهُ بهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَاب، وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ، فَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي، فَمِثْلُ ذَلِكَ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وہو علی کل شی قدیر " تو اللہ تعالیٰ ہر مرتبہ کے عوض اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا دس درجات بلند کر دے گا اور یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور وہ دن کے آغاز سے اختتام تک اس کا ہتھیار ہوجائیں گے اور اس دن کوئی شخص ایسا عمل نہیں کرسکے جو اس پر غالب آجائے اور اگر شام کے وقت کہہ لے تب بھی اسی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23568]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23569
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، أَنَّ أَسْلَمَ أَبا عِمْرَانَ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب ، يَقُولُ: صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ، فَبدَرَتْ مِنَّا بادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَعِي مَعِي" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23569]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23570
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب حَدَّثَهُ , أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي بيْتِنَا الْأَسْفَلِ، وَكُنْتُ فِي الْغُرْفَةِ فَأُهْرِيقَ مَاءٌ فِي الْغُرْفَةِ، فَقُمْتُ أَنَا وَأُمُّ أَيُّوب بقَطِيفَةٍ لَنَا نَتْبعُ الْمَاءَ شَفَقَةَ يَخْلُصُ الْمَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُشْفِقٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ يَنْبغِي أَنْ نَكُونَ فَوْقَكَ، انْتَقِلْ إِلَى الْغُرْفَةِ، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَتَاعِهِ فَنُقِلَ، وَمَتَاعُهُ قَلِيلٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتَ تُرْسِلُ إِلَيَّ بالطَّعَامِ، فَأَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابعِكَ وَضَعْتُ يَدِي فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ هَذَا الطَّعَامُ الَّذِي أَرْسَلْتَ بهِ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ فِيهِ، فَلَمْ أَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابعِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ، إِنَّ فِيهِ بصَلًا، فَكَرِهْتُ أَنْ آكُلَهُ مِنْ أَجْلِ الْمَلَكِ الَّذِي يَأْتِينِي، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكُلُوهُ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر کی نچلی منزل میں فروکش ہوئے اور میں بالا خانے میں رہتا تھا ایک دن میرے کمرے میں پانی گرگیا، تو میں اور ام ایوب ایک چادر لے کر پانی خشک کرنے لگے تاکہ وہ چھت سے ٹپک کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ گرنے لگے پھر میں ڈرتا ڈرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بات مناسب نہیں ہے کہ ہم آپ کے اوپر رہیں آپ اوپر منتقل ہوجائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر آپ کا سامان " جو یوں بھی بہت تھوڑا تھا " اوپر منتقل کردیا گیا۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے پہلے جو کھانا بھجواتے تھے میں اسے دیکھتا تھا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشانات محسوس ہوتے میں اپنا ہاتھ وہیں رکھتا تھا لیکن آج جو کھانا آپ نے مجھے بھجوایا ہے اس میں دیکھنے کے بعد بھی مجھے آپ کی انگلیوں کے نشانات نظر نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات صحیح ہے دراصل اس میں پیاز تھا جسے کھانا مجھے پسند نہیں ہے جس کی وجہ وہ فرشتہ ہے جو میرے پاس آتا ہے البتہ تم اسے کھاسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23570]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23571
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عِمْرَانَ بنِ أَبي يَحْيَى ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ كَعْب بنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمَسَّ مِنْ طِيب إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَلَبسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعَ إِنْ بدَا لَهُ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بيْنَهَا وَبيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" ، وقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: إِنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ كَعْب بنِ مَالِكٍ السُّلَمِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبا أَيُّوب صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ"، وَزَادَ فِيهِ،" ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ".
حضرت ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد (رح) سے عرض کیا کہ ایک کہتا ہے جو شخص مغرب کے بعد مسجد ہی میں دو رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ گھر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے انہوں نے پوچھا کہ یہ کون کہتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ محمد بن عبدالرحمن انہوں نے فرمایا خوب کہا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23571]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں