مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23572
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بنُ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيْنَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ بجَمْعٍ" .
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے خوشبو یا تیل لگائے پھر جمعہ کے لئے آئے مسجد پہنچ کر وقت ہو تو نماز پڑھے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی کو تکلیف نہ دے جب امام نکل آئے تو خاموش رہے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23572]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
حدیث نمبر: 23573
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ مُبارَكٍ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي الْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ بإِقَامَةٍ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23573]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 23574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبا أَيُّوب َنَزَعَ خُفَّيْهِ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا" ، وَلَكِنْ حُبب إِلَيَّ الْوُضُوءُ.
علی بن مدرک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو وضو کے دوران موزے اتارتے ہوئے دیکھا لوگ بھی انہیں تعجب سے دیکھنے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے البتہ مجھے پاؤں دھونا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23574]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23575
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ وَكَانَ مَرْضِيًّا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23575]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن السائبة وعبدالرحمن بن سعاد
حدیث نمبر: 23576
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يَرْوِيهِ , قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23576]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6237، م: 2560
حدیث نمبر: 23577
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا، وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّب" ، قَالَ أَبو أَيُّوب: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ، وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23577]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ . وَحدثَنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابنِ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي زَيْدُ بنُ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ عَيَّاشٍ وَقَالَ رَوْحٌ: مَوْلَى عَباسٍ أَنَّهُ أَخْبرَهُ، عَنْ أَبيهِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابنِ عَباسٍ، وَالْمِسْوَرِ بالْأَبوَاءِ، فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا، وَقَالَ ابنُ عَباسٍ: بلَى، فَأَرْسَلَنِي ابنُ عَباسٍ إِلَى أَبي أَيُّوب: يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابنُ أَخِيكَ عَبدُ اللَّهِ بنُ عَباسٍ السَّلَامَ، وَيَسْأَلُكَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ مُحْرِمًا؟ قَالَ: فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بيْنَ قَرْنَيْ بئْرٍ قَدْ سُتِرَ عَلَيْهِ بثَوْب، فَلَمَّا اسْتَبنْتُ لَهُ، ضَمَّ الثَّوْب إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بدَا لِي وَجْهُهُ، وَرَأَيْتُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَأَشَارَ أَبو أَيُّوب بيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا، عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ، فَأَقْبلَ بهِمَا وَأَدْبرَ ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابنِ عَباسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبدًا، قَالَ الْحَجَّاجُ، وَرَوْحٌ: فَلَمَّا انْتَسَبتُ لَهُ وَسَأَلْتُهُ، ضَمَّ الثَّوْب إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بدَا لِي رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ.
عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ابواء میں حضرت ابن عباس اور مسور رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ہم لوگ باتیں کر رہے تھے کہ محرم کے سرد ھونے کا ذ کر آگیا حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت کی نفی کی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت دی پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا بھتیجا عبداللہ بن عباس آپ کو سلام کہتا ہے اور آپ سے پوچھ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟ عبداللہ بن حنین وہاں پہنچے تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو ایک کنوئیں کے دو کناروں کے درمیان ایک کپڑے کا پردہ لٹکا کر غسل کرتے ہوئے پایا جب میں نے ان سے اس کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے اپنے سینے پر کپڑا لپیٹا اور اپنا چہرہ باہر نکالا میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کے سر پر پانی بہار ہا ہے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پورے سر کی طرف اشارہ کیا اور آگے پیچھے ہاتھوں کو پھیرا یہ معلوم ہونے پر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آئندہ میں کبھی آپ سے اختلاف نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23578]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1840، م: 1205
حدیث نمبر: 23579
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب يُخْبرُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسْتَقْبلُوا الْقِبلَةَ بغَائِطٍ وَلَا بوْلٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبوا" ، قَالَ أَبو أَيُّوب: فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23579]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 144، م: 2649
حدیث نمبر: 23580
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابنِ أَبي ذِئْب ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا الْمَغْرِب لِفِطْرِ الصَّائِمِ، وَبادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مغرب افطاری کے وقت اور ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23580]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، إسناده صحيح، الرجل المبهم هو ثقة
حدیث نمبر: 23581
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا الْحَجَّاجُ بنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ: قَالَ أَبو أَيُّوب : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: التَّعَطُّرُ، وَالنِّكَاحُ، وَالسِّوَاكُ، وَالْحَيَاءُ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں تمام پیغمبروں کی سنت ہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک اور مہندی لگانا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23581]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة حجاج بن أرطاة، وهو مدلس، ومكحول عن أبى أيوب مرسل