مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1080. حَدِيثُ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23622
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ يَحْمِيهِ، كَمَا تَحْمُونَ مَرِيضَكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ تَخَافُونَهُ عَلَيْهِ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جس سے وہ محبت کرتا ہو دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جیسے تم لوگ اپنے مریض کو کھانے پینے سے بچاتے ہو اور کھانے کی صورت میں تمہیں اس کی طبیعت خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23622]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 23623
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ فَلَهُ الْجَزَعُ" .
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23623]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 23624
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا فَلَمَّا سَلَّمَ مِنْهَا، قَالَ: " ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ" ، لِلسُّبْحَةِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ.
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور ہماری مسجد میں ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی سلام پھیر کر مغرب کے بعد کی دونوں سنتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دو رکعتیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23624]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23625
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: الْمَوْتُ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ" ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم دو چیزوں کو ناپسند کرتا ہے (١) موت حالانکہ وہ ایک مومن کے لئے فتنوں سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23625]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 23626
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو ابْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَاصِمٍ (٤٢٨/٥) عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ (٤)
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 23627
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ، كَمَا تَحْمُونَ مَرِيضَكُمْ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ تَخَافُونَ عَلَيْهِ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جس سے وہ محبت کرتا ہو دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جیسے تم لوگ اپنے مریض کو کھانے پینے سے بچاتے ہو اور کھانے کی صورت میں تمہیں اس کی طبیعت خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23627]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 23628
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى بِهِمْ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: " ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنَّ رَجُلًا، قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ تُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهُمَا فِي بَيْتِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذِهِ مِنْ صَلَوَاتِ الْبُيُوتِ"، قَالَ: مَنْ قَالَ هَذَا؟ قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ، أَوْ مَا أَحْسَنَ مَا انْتَزَعَ!!.
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور ہماری مسجد میں ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی سلام پھیر کر مغرب کے بعد کی دونوں سنتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دو رکعتیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو۔
ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد (رح) سے عرض کیا کہ ایک کہتا ہے جو شخص مغرب کے بعد مسجد ہی میں دو رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ گھر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے انہوں نے پوچھا کہ یہ کون کہتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ محمد بن عبدالرحمن، انہوں نے فرمایا خوب کہا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23628]
ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد (رح) سے عرض کیا کہ ایک کہتا ہے جو شخص مغرب کے بعد مسجد ہی میں دو رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ گھر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے انہوں نے پوچھا کہ یہ کون کہتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ محمد بن عبدالرحمن، انہوں نے فرمایا خوب کہا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23628]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23629
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: كَسَفَتْ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَلَا وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا كَذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ" ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِيمَا نَرَى بَعْضَ الر كِتَابٌ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ اعْتَدَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَى .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سورج کو گہن لگ گیا لوگ کہنے لگے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج کو گہن لگ گیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گہن نہیں لگتا جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھا کرو تو مساجد کی طرف دوڑا کرو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمارے اندازے کے مطابق سورت ابراہیم جتنی تلاوت کی رکوع کیا سیدھے کھڑے رہے دو سجدے کئے اور دوسری رکعت میں بھی وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23629]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 23630
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ، قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا جُزِيَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ: " اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً" ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ الظَّفَرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے اوپر سب سے زیادہ " شرک اصغر " کا خوف ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! شرک اصغر سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریاکاری اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ریاکاروں سے فرمائے گا " جبکہ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا " کہ جنہیں دکھانے کے لئے دنیا میں تم اعمال کرتے تھے ان کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا ان کے پاس اس کا کوئی بدلہ ہے؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23630]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع ، عمرو لم يسمعه من محمود بن لبيد
حدیث نمبر: 23631
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ الظَّفَرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
الحكم على الحديث:
إسناده حسن