مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1083. حَدِيثُ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23642
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ" .
حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی نماز رہ جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال و دولت تباہ و برباد ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23642]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد روي هذا الحديث صالح بن كيسان عن الزهري، فزاد فيه عبدالرحمن بن مطيع بين أبى بكر و نوفل
1084. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23643
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَلَيْهِ أَوْ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23643]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الرجل الضمري
حدیث نمبر: 23644
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَسُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنَّ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23644]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الرجل
1085. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِضَّةٍ، فَقَالَ: هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَكُونُ مَعَادِنُ يُحْضِرُهَا شِرَارُ النَّاسِ" .
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ چاندی لے کر آئے اور کہا کہ یہ ہماری کان سے نکلی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب بہت سی کانیں ظاہر ہوں گی جہاں بدترین لوگ موجود ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23645]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من بني سليم وجده
1086. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23646
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ" .
ایک نصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پائخانہ کرتے وقت دونوں قبلوں میں سے کسی طرف بھی رخ کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23646]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره لكن بلفظ: القبلة بدل القبلتين، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الأنصاري
1087. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23647
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ،" أَنَّ رَجُلًا وَجَأَ نَاقَةً فِي لَبَّتِهَا بِوَتِدٍ، وَخَشِيَ أَنْ تَفُوتَهُ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَوْ أَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا" .
بنو حارثہ کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں اس کی اونٹنی مر نہ جائے تو اس نے ایک کیل لے کر اس کے سینے میں گھونپ دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23647]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1088. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23648
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا، إِلَّا سَأَلَ إِلْحَافًا" .
بنو اسد کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس ایک اوقیہ چاندی یا اس کے برابر کچھ موجود ہو اور وہ پھر بھی کسی سے سوال کرے تو اس نے الحاف کے ساتھ (لگ لپٹ کر) سوال کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23648]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1089. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23649
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رُئِيَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنَ الْحَرِّ، أَوْ مِنَ الْعَطَشِ، وَهُوَ صَائِمٌ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23649]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1090. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23650
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّكَ" ، قَالَ سُهَيْلٌ: فَكَانَ أَبِي إِنْ لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا، يَقُولُ: قَالَهَا؟ فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ.
ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ انہیں کسی جانور نے ڈس لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات کہہ لئے ہوتے " اعوذ بکلمات اللہ التامات کلہن من شر ماخلق " تو صبح تک تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ راوی حدیث سہیل کہتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کسی کو کوئی جانور ڈس لیتا تو میرے والد صاحب پوچھتے کہ یہ کلمات کہہ لئے؟ اگر وہ جواب میں " ہاں " کہہ دیتا تو ان کی رائے یہی ہوتی تھی کہ اب اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23650]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف عن سهيل بن أبى صالح فى صحابي هذا الحديث
حدیث نمبر: 23651
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَتَيْنِ" ، لَمْ يَرْفَعْهُ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عنقریب دنیا پر کمینہ بن کمینہ غالب آجائے گا اور سب سے افضل انسان وہ مسلمان ہے جو دو معزز چیزوں کے درمیان ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23651]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح