🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1080. حَدِيثُ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23632
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ، كَمَا تَحْمُونَ مَرْضَاكُمْ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ تَخَوُّفًا لَهُ عَلَيْهِ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جس سے وہ محبت کرتا ہو دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جیسے تم لوگ اپنے مریض کو کھانے پینے سے بچاتے ہو اور کھانے کی صورت میں تمہیں اس کی طبیعت خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23632]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عمرو لم يسمعه من محمود بن لبيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23633
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ صَبَرَ، فَلَهُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ، فَلَهُ الْجَزَعُ" .
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23633]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23634
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: حَدِّثُونِي عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ لَمْ يُصَلِّ قَطُّ، فَإِذَا لَمْ يَعْرِفْهُ النَّاسُ سَأَلُوهُ مَنْ هُوَ؟ فَيَقُولُ: أُصَيْرِمُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ، قَالَ الْحُصَيْنُ: فَقُلْتُ لِمَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ : كَيْفَ كَانَ شَأْنُ الْأُصَيْرِمِ؟ قَالَ: كَانَ يَأْبَى الْإِسْلَامَ عَلَى قَوْمِهِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، بَدَا لَهُ الْإِسْلَامُ فَأَسْلَمَ فَأَخَذَ سَيْفَهُ فَغَدَا حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ فَدَخَلَ فِي عُرْضِ النَّاسِ، فَقَاتَلَ حَتَّى أَثْبَتَتْهُ الْجِرَاحَةُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا رِجَالُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَلْتَمِسُونَ قَتْلَاهُمْ فِي الْمَعْرَكَةِ إِذَا هُمْ بِهِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَلْأُصَيْرِمُ وَمَا جَاءَ؟! لَقَدْ تَرَكْنَاهُ وَإِنَّهُ لَمُنْكِرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، فَسَأَلُوهُ مَا جَاءَ بِهِ؟ قَالُوا: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَمْرُو، أَحَرْبًا عَلَى قَوْمِكَ أَوْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: بَلْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وأَسْلَمْتُ، ثُمَّ أَخَذْتُ سَيْفِي فَغَدَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فِي أَيْدِيهِمْ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے پوچھا کہ ایک ایسے آدمی کے متعلق بتاؤ جو جنت میں داخل ہوگا حالانکہ اس نے نماز بھی نہیں پڑھی لوگ جب اسے شناخت نہ کرسکے تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اصیرم جس کا تعلق بنو عبدالاشہل سے تھا اور اس کا نام عمرو بن ثابت بن وقش تھا حصین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اصیرم کا کیا واقعہ ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنی قوم کے سامنے اسلام لانے سے انکار کرتا تھا غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جبل احد کی طرف ہوئے تو اسے اسلام کی طرف رغبت ہوئی اور اس نے اسلام قبول کرلیا پھر تلوار پکڑی اور روانہ ہوگیا۔
وہ لوگوں کے پاس پہنچا اور لوگوں کی صفوں میں گھس گیا اور اس بےجگری سے لڑا کہ بالآخر زخمی ہو کر گرپڑا بنو عبدالاشہل کے لوگ جب اپنے مقتولوں کو تلاش کر رہے تھے تو انہیں میدان جنگ میں وہ بھی پڑا نظر آیا وہ کہنے لگے کہ واللہ یہ تو اصیرم ہے لیکن یہ یہاں کیسے آگیا؟ جب ہم اسے چھوڑ کر آئے تھے تو اس وقت تک یہ اس دین کا منکر تھا پھر انہوں نے اس سے پوچھا کہ عمرو! تم یہاں کیسے آگئے؟ اپنی قوم کا دفاع کرنے کے لئے یا اسلام کی کشش کی وجہ سے؟ اس نے کہا کہ اسلام کی کشش کی وجہ سے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آیا اور میں مسلمان ہوگیا پھر اپنی تلوار پکڑی اور روانہ ہوگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شرکت کی اب جو مجھے زخم لگنے تھے وہ لگ گئے تھوڑی دیر میں وہ ان کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23634]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23635
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز فجر روشن کر کے پڑھا کرو کیونکہ اس کا ثواب زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23635]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زيد بن أسلم لم يسمع من محمود بن البيد، وابنه عبدالرحمن ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23636
قَالَ قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟ قَالَ: الرِّيَاءُ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ تُجَازَى الْعِبَادُ بِأَعْمَالِهِمْ: " اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ بِأَعْمَالِكُمْ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے اوپر سب سے زیادہ " شرک اصغر " کا خوف ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! شرک اصغر سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریاکاری اللہ تعالیٰ قیامت کے ریاکاروں سے فرمائے گا " جبکہ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا " کہ جنہیں دکھانے کے لئے دنیا میں تم اعمال کرتے تھے ان کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا ان کے پاس اس کا کوئی بدلہ ہے؟۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23636]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1081. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23637
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَنْتَقِصُ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا إِلَّا أَتَمَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سُبْحَتِهِ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کی فرض نمازوں میں کمی ہوگی اللہ تعالیٰ نوافل سے اس کی تکمیل فرما دے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23637]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل الكندي، وضعف ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1082. حَدِيثُ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَوْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23638
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ" .
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں وہ کلی یاد ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کی تھی اور پانی اس ڈول سے لیا تھا جو ان کے کنوئیں سے نکالا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23638]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وجعله من حديث الزهري عن محمود بن لبيد وهم، وقد تفرد به عبدالرزاق، والصواب أنه من حديث الزهري عن محمود بن الربيع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23639
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: " اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ پر مسلمانوں کی تلواریں پڑنے لگیں مسلمان انہیں پہچان نہ سکے اور انہیں قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر ہی صدقہ کردی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23639]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23640
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ) فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ (لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ: الْمَاءُ وَالتَّمْرُ، وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ، فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ، قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم " پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23640]

الحكم على الحديث:
حديث حسن على اختلاف فى إسناده على محمد بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23641
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ صَبَرَ، فَلَهُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ، فَلَهُ الْجَزَعُ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23641]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں