مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1077. حَدِيثُ مُعَيْقِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23612
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ، قَالَ: " إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً" .
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں کنکریوں کو برابر کرنے کا حکم پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو اور ایسا کرنا ہی ضروری ہو تو صرف ایک مرتبہ کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23612]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1207، م: 546
1078. حَدِيثُ نَفَرٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ
حدیث نمبر: 23613
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ نَفَرٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، قَالُوا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَشَقَّ ثَوْبَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي وَاعَدْتُ هَدْيًا يُشْعَرُ الْيَوْمَ" .
بنو سلمہ کے ایک گروہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سلے ہوئے کپڑے اتار دیئے اور فرمایا کہ ہدی کا جانور بھیجا تھا جسے آج شعار کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23613]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عطاء، ثم إنه قد اختلف عليه فى إسناده
1079. حَدِيثُ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23614
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابن طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ ضَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ، قَالَ: فَبِتْنَا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ يَطَّلِعُ، فَرَآهُ مُنْبَطِحًا عَلَى وَجْهِهِ، فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ، فَأَيْقَظَهُ، وَقَالَ: " هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ" .
حضرت طخفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کے ساتھ ان کی ضیافت فرمائی چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھرچلے گئے ابھی رات کے وقت میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا سو ہی رہا تھا کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے اور کہنے لگے کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اہل جہنم کا طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23614]
الحكم على الحديث:
النهي عن النوم على البطن حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
حدیث نمبر: 23615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ضِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَضَيَّفَهُ مِنَ الْمَسَاكِينِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ يَتَعَاهَدُ ضَيْفَهُ، فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: " لَا تَضْطَجِعْ هَذِهِ الضِّجْعَةَ، فَإِنَّهَا ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت طخفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کے ساتھ ان کی ضیافت فرمائی چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے ابھی رات کے وقت میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا سو ہی رہا تھا کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے اور کہنے لگے کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اہل جہنم کا طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23615]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن طخفة
حدیث نمبر: 23616
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَلَا تُخْبِرُنَا عَنْ خَبَرِ أَبِيكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْن طِهْفَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ، قَالَ:" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ"، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ" قَالَ: فَكُنْتُ مِمَّنْ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، حُوَيْسَةُ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لِإِفْطَارِكَ، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ" فَأَكَلْنَا مِنْهَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، لُبَيْنَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لَكَ، قَالَ:" هَلُمِّيهَا"، فَجَاءَتْ بِهَا، فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ قَلِيلًا، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبُوا بِسْمِ اللَّهِ" فَشَرِبْنَا، حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ:" الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ" وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا"؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفة، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
یعیش بن طخفہ (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑا ساحلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پانی پلاؤ، چناچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا پیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تو رات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سو ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23616]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن طخفة
حدیث نمبر: 23617
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ، فَجَعَلَ يَنْقَلِبُ الرَّجُلُ بِالرَّجُلِ وَالرَّجُلَيْنِ، حَتَّى بَقِيتُ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا" فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا" فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ جَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا" فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ جَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ"، فَقُلْنَا: لَا، بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ" ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
یعیش بن طخفہ (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چناچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑا ساحلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پانی پلاؤ، چناچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا پیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تو رات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سو ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23617]
الحكم على الحديث:
النهي عن النوم على البطن حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
حدیث نمبر: 23618
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعِيشُ بْنُ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فُلَانُ،" انْطَلِقْ بِهَذَا مَعَكَ"، وَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23618]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة
1080. حَدِيثُ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23619
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُو الحَيْسر أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ مَكَّةَ، وَمَعَهُ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فِيهِمْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ يَلْتَمِسُونَ الْحِلْفَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ، سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُمْ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: " هَلْ لَكُمْ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ؟" قَالُوا: وَمَا ذَاكَ، قَالَ:" أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، بَعَثَنِي إِلَى الْعِبَادِ أَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ كِتَابٌ" ثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ، فَقَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَكَانَ غُلَامًا حَدَثًا: أَيْ قَوْمِ هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو حَيْسر أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ حَفْنَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ، فَضَرَبَ بِهَا فِي وَجْهِ إِيَاسِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ وَانْصَرَفُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَانَتْ وَقْعَةُ بُعَاثٍ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ أَنْ هَلَكَ، قَالَ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ حَضَرَهُ مِنْ قَوْمِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَهُ يُهَلِّلُ اللَّهَ وَيُكَبِّرُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيُسَبِّحُهُ حَتَّى مَاتَ، فَمَا كَانُوا يَشُكُّونَ أَنْ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا، لَقَدْ كَانَ اسْتَشْعَرَ الْإِسْلَامَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ حِينَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابوالحیسر انس بن رافع مکہ مکرمہ آیا تو اس کے ساتھ بنو عبدالاشہل کے کچھ نوجوان بھی تھے جن میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے ان کی آمد کا مقصد اپنی خزرج کے خلاف قریش سے قسم اور حلف لینا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آمد کی خبر سنی تو ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے پاس بیٹھ کر فرمایا کہ کیا جس مقصد کے لئے تم آئے ہو میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ انہوں نے پوچھا وہ کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں اس نے مجھے بندوں کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں انہیں اس بات کی دعوت دوں کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس نے مجھ پر اپنی کتاب بھی نازل کی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی جسے سن کر ایاس بن معاذ " جو نو عمر لڑکے تھے " کہنے لگے کہ اے قوم بخدا! یہ اس چیز سے بہت بہتر ہے جس کے لئے تم یہاں آئے ہو تو ابوالحیسر انس بن رافع نے مٹھی بھر کر کنکریاں اٹھائیں اور ایاس کے منہ پردے ماریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے اٹھ گئے اور وہ لوگ بھی واپس مدینہ چلے گئے اور اوس و خزرج کے درمیان جنگ بعاث ہو کر رہی۔ کچھ عرصہ بعد ہی ایاس بن معاذ فوت ہوگئے حضرت محمود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ ان کی موت کے وقت ان کے پاس موجود تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم نے انہیں مستقل طور پر تہلیل وتکبیر اور تسبیح وتحمید کہتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے اور لوگوں کو اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ وہ مسلمان ہو کر فوت ہوئے ہیں اور اسلام تو ان کے دل میں اسی وقت گھر کر گیا تھا جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23619]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23620
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ ، " وَقَدْ كَانَ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ دَلْوٍ مِنْ بِئْرٍ لَهُمْ" .
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں وہ کلی یاد ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کی تھی اور پانی اس ڈول سے لیا تھا جو ان کے کنوئیں سے نکالا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23620]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 77، م: 265
حدیث نمبر: 23621
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ " يَدْعُو هَكَذَا، وَأَشَارَ بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ نَحْوَ وَجْهِهِ" .
محمد بن ابراہیم (رح) کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارالزیت " جو مدینہ منورہ کا ایک دیہات ہے " میں ہاتھ پھیلا کر دعاء کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23621]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح