مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِب، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبةُ؟ قَالَ: شُغِلْنَا، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِب إِلَى أَنْ تَشْتَبكَ النُّجُومُ؟" .
مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے بعد حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23582]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23583
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ أَبي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبعَ رِقَاب مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ" . حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ أَبي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ أَبي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبيِّ ، عَنْ رَبيعِ بنِ خُثَيْمٍ ، بمِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِلَّربيعِ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: مِنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، فَقُلْتُ لِعَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: مِنْ ابنِ أَبي لَيْلَى ، فَقُلْتُ لِابنِ أَبي لَيْلَى: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: مِنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن میمون (رح) کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر '' تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23583]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23584
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَصَالِحٌ , عَنِ ابنِ شِهَاب ، أَنَّ عَطَاءَ بنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھرمنہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23584]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6237، م: 2560، وقرين مالك صالح، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 23585
حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بنِ أَبي صَالِحٍ ، قَالَ: أَقْبلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبرِ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ: نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَبكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ، وَلَكِنْ ابكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ" .
داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان چلا آرہا تھا اس نے ایک قبر پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر) ایک آدمی کو اپنا چہرہ رکھے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا کر رہے ہو؟ وہ آدمی اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا ہاں! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دین پر اس وقت آنسو نہ بہانا جب اس کے اہل اس کے ذمے دار ہوں البتہ جب اس پر نااہل لوگ ذمہ دار ہوں تو اس پر آنسو بہانا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23585]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة داود بن أبى صالح، وكثير بن زيد مختلف فيه، وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 23586
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي أَيُّوب ، حَدَّثَنِي شُرَحْبيلُ بنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبتْ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کے نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23586]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، م: 1883، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 23587
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يُشَمِّتُهُ: يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ" ..
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے " الحمدللہ علی کل حال " کہنا چاہئے جواب دینے والے کو " یرحمک اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو " یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23587]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد ابن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23588
حَدَّثَنَا حُسَين ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَخَاهُ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلْيَقُلْ: هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكَ"، أَوْ قَالَ:" يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ".
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23588]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23589
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ تِعْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبرِ الدَّابةِ" ، قَالَ أَبو أَيُّوب: لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبرْتُهَا.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے اس لئے اگر میرے پاس مرغی بھی ہو تو میں اسے باندھ کر نشانہ نہیں بناؤں گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23589]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد بكير
حدیث نمبر: 23590
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ وَهْب ، عَنْ عَمْرِو بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ ابنِ تِعْلَى ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بأَرْبعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَ بهِمْ فَقُتِلُوا صَبرًا بالنَّبلِ، فَبلَغَ ذَلِكَ أَبا أَيُّوب ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبرِ" .
ابن تعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو دشمن کے چار جنگلی گدھے پکڑ کر لائے گئے انہوں نے حکم دیا اور ان چاروں کو باندھ کر تیروں سے قتل کردیا گیا، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23590]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف فإن فيه بين بكير بن عبدالله وبين أبن يعلى والد بكير عبدالله بن الأشج، وهو مجهول
حدیث نمبر: 23591
حَدَّثَنَا عَتَّاب ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بكَيْرُ بنُ الْأَشَجِّ ، أَنَّ أَباهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُبيْدَ بنَ تِعْلَى حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبرِ الدَّابةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23591]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد بكير