مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1200. حَدِيثُ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27050
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ كُلْثُومٍ ، قَالَتْ: كَانَتْ زَيْنَبُ تَفْلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ يَشْكُونَ مَنَازِلَهُنَّ، وَأَنَّهُنَّ يَخْرُجْنَ مِنْهُ، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِنَّ فِيهِ، فَتَكَلَّمَتْ زَيْنَبُ، وَتَرَكَتْ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكِ لَسْتِ تَكَلَّمِينَ بِعَيْنَيْكِ، تَكَلَّمِي وَاعْمَلِي عَمَلَكِ" , فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَنْ: يُوَرَّثَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ" ، فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ، فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ.
حضرت کلثوم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکال رہیں تھی، اس وقت وہاں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی موجود تھیں اور دیگر مہاجر خواتین بھی، وہ اپنی گھریلو مشکلات کا تذکرہ کر رہی تھیں اور یہ کہ مکہ مکرمہ سے نکل کر وہ تنگی کا شکار ہو گئی ہیں، حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر چھوڑ کر اس گفتگو میں شریک ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے آنکھوں سے بات نہیں کرنی، باتیں بھی کرتی رہو اور اپنا کام بھی کرتی رہو۔“ اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم جاری کر دیا کہ مہاجرین کی عورتیں وراثت کی حقدار ہوں گی، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات پر ان کی بیوی مدینہ منورہ میں ایک گھر کی وارث قرار پائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27050]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
1201. حَدِيثُ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27051
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ، وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا، وَقَامَ عَلِيٌّ يَأْكُلُ مِنْهَا، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِعَلِيٍّ: " مَهْ، إِنَّكَ نَاقِهٌ" , حَتَّى كَفَّ , قَالَتْ: وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا، فَجِئْتُ بِهِ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ:" مِنْ هَذَا أَصِبْ، فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ" .
حضرت ام منذر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ان کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن پر بیماری کی وجہ سے نقاہت کے آثار باقی تھے، ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کھجوریں تناول فرمانے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کھجوریں کھانا چاہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! رک جاؤ، تم پر نقاہت کے آثار ابھی واضح ہیں“، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے، پھر میں نے جَو کی روٹی اور چقندر کا سالن بنایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ کھاؤ کہ یہ تمہارے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27051]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف فليح، وقد تفرد بهذا الإسناد، وأختلف عليه فيه، وأيوب بن عبدالرحمن مجهول الحال، وقد تفرد به ، ولا يحسن تفرده
حدیث نمبر: 27052
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ جَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا , قَالَ أَبِي: وَكَذَلِكَ قَالَ فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو سِلْقًا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27052]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف فليح، وقد تفرد بهذا الإسناد، واختلف عليه فيه، وأيوب بن عبدالرحمن مجهول الحال ، وقد تفرد به، ولا يحسن تفرده
حدیث نمبر: 27053
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ، قَالَتْ: وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ يَأْكُلَانِ مِنْهَا، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ: " مَهْلًا، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ ," حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ , قَالَتْ: وَقَدْ صَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا، فَلَمَّا جِئْنَا بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ:" مِنْ هَذَا أَصِبْ، فَهُوَ أَوْفَقُ لَكَ" , فَأَكَلَا ذَلِكَ.
حضرت ام منذر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ان کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جن پر بیماری کی وجہ سے نقاہت کے آثار باقی تھے، ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کھجوریں تناول فرمانے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کھجوریں کھانا چاہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! رک جاؤ، تم پر نقاہت کے آثار ابھی واضح ہیں“، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے، پھر میں نے جَو کی روٹی اور چقندر کا سالن بنایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ کھاؤ کہ یہ تمہارے لئے زیادہ نفع بخش ہے، چنانچہ دونوں نے اسے تناول فرمایا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27053]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
1202. حَدِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27054
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ سَنُوطَا يُحَدِّثُ , عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ، فَتَذَاكَرَا الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ" .
حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ”جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں“ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے گھسنے والے ایسے ہیں، جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27054]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبيد سنوطا، وقد توبع
حدیث نمبر: 27055
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ حَمْزَةَ , يُذَاكِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا، فَقَالَ: " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، لَهُ النَّارُ" .
حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ”جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں“ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے گھسنے والے ایسے ہیں، جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27055]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبيد سنوطا
1203. حَدِيثُ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27056
حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقبةَ ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27056]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1376
حدیث نمبر: 27057
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: " مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ" فَأُتِيَ بِهَا، فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا مَرَّتَيْنِ:" أَبْلِي وَأَخْلِقِي" , وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ، أَوْ أَصْفَرَ، وَيَقُولُ:" سَنَاهْ , سَنَاهْ , يَا أُمَّ خَالِدٍ" , و" َسَنَاهْ" فِي كَلَامِ الْحَبَشِ: الْحَسَنُ.
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ کپڑے آئے، جن میں ایک چھوٹا ریشمی کپڑا بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں اس کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام خالد کو میرے پاس بلا کر لاؤ“، انہیں لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑے انہیں پہنا دیئے اور دو مرتبہ ان سے فرمایا: ”پہننا اور پرانا کرنا نصیب ہو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے پر سرخ یا زرد رنگ کے نشانات کو دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ”اے ام خالد! کتنا اچھا لگ رہا ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27057]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3874
حدیث نمبر: 27058
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , سَمِعَ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ , قَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا , تقول: سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27058]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6364
1204. حَدِيثُ أُمِّ عُمَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27059
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مَوْلَاتِهِ لَيْلَى ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَيْهَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِمْ تَمْرًا، فَأَكَلُوا، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُهُ؟" , فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ صَائِمٍ يَأْكُلُ عِنْدَهُ فَوَاطِرُ، إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا" .
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، جس کی اطلاع ملنے پر ان کی قوم کے کچھ دوسرے لوگ بھی ان کے یہاں آ گئے، انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھجوریں پیش کیں، لوگ وہ کھانے لگے لیکن ان میں سے ایک آدمی ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا؟“ اس نے بتایا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے روزہ توڑنے والی چیزیں کھائی جا رہی ہوں تو ان لوگوں کے اٹھنے تک فرشتے اس روزے دار کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27059]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ليلي مولاة حبيب، وقد اختلف فيه على شريك