🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1204. حَدِيثُ أُمِّ عُمَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27060
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ لَيْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، قَالَ:" ادْنِي فَكُلِي" , قَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، قَالَ: " الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ" .
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھجوریں پیش کیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام عمارہ سے فرمایا: ”تم بھی قریب آ کر کھاؤ“، انہوں نے بتایا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے روزہ توڑنے والی چیز یں کھائی جا رہی ہوں تو ان لوگوں کے اٹھنے تک فرشتے اس روزے دار کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27060]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ليلي مولاة حبيب، وقد اختلف فيه على شعبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27061
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلَاةً لَنَا، يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى تُحَدِّثُ , عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لَهَا:" كُلِي"، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا" وَرُبَّمَا قَالَ:" حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ" .
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھجوریں پیش کیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام عمارہ سے فرمایا: ”تم بھی قریب آ کر کھاؤ“، انہوں نے بتایا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے روزہ توڑنے والی چیزیں کھائی جا رہی ہوں تو ان لوگوں کے اٹھنے تک فرشتے اس روزے دار کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27061]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ليلي مولاة حبيب، وقد اختلف فيه على شعبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1205. حَدِيثُ رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ وَعَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27062
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , وَيُونُسُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسْوَةَ، وَيَقُولُ: " أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ" , قَالَتْ: فَأَطْرَقْنَ، فَقَالَ لَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْنَ: نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ" , فَكُنَّ يَقُلْنَ وَأَقُولُ مَعَهُنَّ وَأُمِّي تُلَقِّنُنِي: قُولِي أَيْ بُنَيَّةُ: نَعَمْ، فِيمَا اسْتَطَعْتُ , فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُلْنَ.
حضرت عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنی والدہ رائطہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے ان شرائط پر بیعت لیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، بدکاری نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں پیروں کے درمیان نہیں گھڑو گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کرو گی۔)“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ حسب استطاعت اور بقدر ضرورت ایسا ہی کریں گی، ساری عورتیں اس کا اقرار کرنے لگیں، میں بھی ان کے ساتھ یہ اقرار کر رہی تھی اور میری والدہ مجھے حسب استطاعت کی تلقین کر رہی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27062]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عثمان، وأبوه عثمان روي عنه عبدالرحمن أحاديث منكرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27063
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَزِيزٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ كَرِيمَتَيْ مُسْلِمٍ، ثُمَّ يُدْخِلَهُ النَّارَ" , قَالَ يُونُسُ: يَعْنِي: عَيْنَيْهِ.
حضرت عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر یہ بات بڑی شاق گزرتی ہے کہ کسی انسان کی آنکھیں واپس لے لے اور پھر اسے جہنم میں داخل کرے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27063]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عثمان، وأبوه عثمان روى عنه عبدالرحمن أحاديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1206. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27064
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، وَبِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا مِنْهُ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ، فَأَقَرَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَمَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ طُولَ أُصْبُعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى سَائِرِ أَصَابِعِهِ , قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنِّي شَهِدْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ , قَالَتْ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ , فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ؟ قَالَ: أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي، قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي، ثُمَّ تَرَكْتُهُ حَتَّى وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ، وَبَلَغَتْ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: جَهِّزْ لِي أَهْلِي، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، لَا أُجَهِّزُهَا حَتَّى تُحْدِثَ صَدَاقًا غَيْرَ ذَلِكَ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَبِقَدْرِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ؟" , قَلتُ: قَدْ رَأَتْ الْقَتِيرَ، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهَا عَنْكَ، لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا" , قَالَ: فَرَاعَنِي ذَلِكَ، وَنَظَرْتُ إليه، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَأْثَمُ، وَلَا يَأْثَمُ صَاحِبُكَ" , قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ أَبِي فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عَدَدًا مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا , قَالَ: خَمْسِينَ شَاةً عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عَلَيْهَا مِنْ هَذِهِ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟" , قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَوْفِ لِلَّهِ بِمَا نَذَرْتَ لَهُ" , قَالَتْ: فَجَمَعَهَا أَبِي، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا، وَانْفَلَتَتْ مِنْهُ شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي بِنَذْرِي , حَتَّى أَخَذَهَا، فَذَبَحَهَا .
حضرت میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مکہ مکرمہ میں کی ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے والد صاحب کے ساتھ تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اسی طرح کا ایک درہ تھا جیسا معلمین کے پاس ہوتا ہے میں نے دیہاتیوں اور عام لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ طبطبیہ آئی ہے، میرے والد صاحب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے اور ان کے پاؤں پکڑ لئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اٹھا لیا، وہ کہتی ہیں کہ میں بہت سی باتیں بھول گئی لیکن یہ نہیں بھول سکی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی دوسری انگلیوں سے لمبی تھی۔ میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں زمانہ جاہلیت کے ”جیش عثران“ میں شامل تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لشکر کے متعلق معلوم تھا، لہٰذا اسے پہچان گئے، میرے والد نے بتایا کہ اس جنگ میں طارق بن مرقع نے یہ اعلان کیا تھا کہ کون ہے جو مجھے بدلے کے عوض اپنا نیزہ دے گا؟ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا بدلہ کیا ہو گا؟ اس نے کہا کہ میں اپنے یہاں پیدا ہونے والی سب سے پہلی بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا، اس پر میں نے اپنا نیزہ دے دیا۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک میں نے اسے چھوڑے رکھا حتیٰ کہ اس کے یہاں ایک بچی پیدا ہو گئی اور وہ بالغ بھی ہو گئی، میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کی رخصتی کی تیاری کرو، تو وہ کہنے لگا کہ واللہ! میں اس کی تیاری نہیں کروں گا یہاں تک کہ تم اس کے علاوہ کوئی نیا مہر مقرر کرو، اس پر میں نے بھی قسم کھا لی کہ میں ایسا نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اب اس کی کتنی عمر ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اب تو وہ بڑھاپا دیکھ رہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، تمہارے لئے اس میں کوئی خیر نہیں ہے“، اس پر مجھے اپنی قسم ٹوٹنے کا خطرہ ہوا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم گنہگار ہو گے اور نہ تمہارا دوسرا فریق گنہگار ہوگا۔“ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے والد نے اسی جگہ پر یہ منت مان لی کہ میں بوانہ کی چوٹی پر پچاس بکریاں ذبح کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت وغیرہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی ہے اسے پورا کرو“، چنانچہ میرے والد نے ان بکریوں کو جمع کیا اور انہیں ذبح کرنا شروع کر دیا، اسی دوران ایک بکری بھاگ گئی وہ اس کی تلاش میں دوڑے اور کہنے لگے کہ اے اللہ! میری منت پوری کو کر دے حتی کہ اسے پکڑ لیا اور ذبح کر دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27064]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال سارة بنت مقسم، وقصة النذر حسنة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27065
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ ضَبَّةَ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّةٌ لِي , يُقَالُ لَهَا: سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ ، عَنْ مَوْلَاتِهَا مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ ، أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا، فَذَكَرَتْ أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ، وَبِيَدِهِ دِرَّةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27065]

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجهالة حال سارة بنت مقسم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27066
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ مَوْلَاتِهِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ، قَالَتْ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي، فَسَمِعْتُهُ يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ: " أَبِهَا وَثَنٌ أَمْ طَاغِيَةٌ؟" فَقَالَ: لَا، قَالَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ" .
حضرت میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مکہ مکرمہ میں کی ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ان کے پیچھے سوار تھی۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے یہ منت مانی تھی کہ میں بوانہ کی چوٹی پر پچاس بکریاں ذبح کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت وغیرہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی ہے اسے پورا کرو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27066]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1207. حَدِيثُ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27067
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ سَرْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ ، تَقُولُ: " اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
حضرت ام صبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن سے باری باری وضو کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27067]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27068
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ ، قَالَتْ: " اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي الْوُضُوءِ" .
حضرت ام صبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن سے باری باری وضو کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27068]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، أسامة بن زيد الليثي مختلف فيه ، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1208. حَدِيثُ أُمِّ إِسْحَاقَ مَوْلَاةِ أُمِّ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27069
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ دِينَارٍ ، عَنْ مَوْلَاتِهَا أُمِّ إِسْحَاقَ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَأَكَلَتْ مَعَهُ، وَمَعَهُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا، فَقَالَ:" يَا أُمَّ إِسْحَاقَ، أَصِيبِي مِنْ هَذَا"، فَذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَرَدَدْتُ يَدِي، لَا أُقَدِّمُهَا وَلَا أُؤَخِّرُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكِ؟" , قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَنَسِيتُ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: الْآنَ بَعْدَمَا شَبِعْتِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتِمِّي صَوْمَكِ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكِ" .
حضرت ام اسحاق رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، کہ ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالیدین بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوٹی لگی ہوئی ایک ہڈی دی اور فرمایا: ”ام اسحاق! یہ کھاؤ“، اچانک مجھے یاد آیا کہ میں تو روزے سے تھی، یہ خیال آتے ہی میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے اور میں انہیں آگے کر سکی اور نہ پیچھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا کہ میں تو روزے سے تھی اور مجھے یاد ہی نہیں رہا، ذوالیدین کہنے لگے کہ جب خوب اچھی طرح پیٹ بھر گیا، تو اب تمہیں یاد آ رہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا روزہ مکمل کر لو، یہ تو اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے تمہارے پاس بھیج دیا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27069]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أم حكيم بنت دينار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں