🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1322. مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27493
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ , وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ تلے اور روئے زمین پر ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27493]

الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ , أَنَّ مُخْبِرًا أَخْبَرَهُ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ قَالَ: " سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , مِنْهُنَّ سَجْدَةُ النَّجْمِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں، جن میں سورت نجم کی آیت ِ سجدہ بھی شامل ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27494]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف رشدين، ولجهالة عمر الدمشقي، ولإبهام الراوي عن أم الدرداء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27495
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ , يُحَدِّثُ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟" , فَقِيلَ: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" اقْرَأْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے)۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27495]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 811
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27496
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ خَالِهِ عَطَاءِ بْنِ نَافِعٍ , أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ , فَأَخْبَرَتْهُمْ , أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27496]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27497
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ يَعْنِي أَبَا مُحَمَّدٍ الْمَرَئِيَّ التَّمِيمِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , أَتَعَلَّمُ مِنْهُ , فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِي , فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ , فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ , قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِكَ , وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ , قَالَ: أَخْرِجُونِي , فَأَخْرَجْنَاهُ , قَالَ: أَجْلِسُونِي , قَالَ: فَأَجْلَسْنَاهُ , قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ , فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا , أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا" , قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ , فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ , فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ , فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرِيضَةِ .
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے، میں ان سے علم حاصل کرتا تھا، جب ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا لوگوں کو میرے وقت آخر کی اطلاع دے دو، چنانچہ میں یہ لوگوں کو بتانے کے لئے نکلا، جب واپس آیا تو سارا گھر بھر چکا تھا اور باہر بھی لوگ کھڑے تھے، میں نے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو اطلاع دے دی ہے اور اب گھر کے اندر باہر لوگ بھرے ہوئے ہیں انہوں نے فرمایا لوگو! میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں مکمل خشوع کے ساتھ پڑھے تو اللہ سے اس کی مانگی ہوئی چیزیں ضرور دیتا ہے خواہ جلدی ہو یا تاخیر سے، انہوں نے مزید فرمایا لوگو! نماز میں دائیں بائیں دیکھنے سے بچو، کیونکہ ایسے شخص کی کوئی نماز نہیں ہوتی، اگر نوافل میں ایسا ہو تو فرائض میں اس سے مغلوب نہ ہونا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27497]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل ميمون أبى محمد، ومحمد ابن بكر البرساني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27498
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَا: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟" , قَالُوا: نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ وَأَعْجَزُ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام پر بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27498]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 811
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27499
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ , يُحَدِّثُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ , إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ , فَصَدِّقُوا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ , فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ , وَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پاس بیٹھے آئندہ پیش آنے والے حالات پر مذاکرہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ بات سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو اس کی تصدیق کرسکتے ہو لیکن اگر یہ بات سنو کہ کسی آدمی کے اخلاق بدل گئے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ وہ پھر اپنی فطرات کی طرف لوٹ جائے گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27499]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يدرك أبا الدرداء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27500
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا , إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا" .
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27500]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 650
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27501
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: " مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الصَّلَاةَ .
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27501]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 650
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27502
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " قَاءَ , فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَاءَ فَأَفْطَرَ , قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نبی کے آزاد غلام حضرت ثوبان سے دمشق کی مسجد میں ملا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے، نبی کے لئے پانی میں نے ہی انڈیلا تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27502]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں