🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ» . وَفِي قَوْلِهِ: «رَأَيْتُ نُورًا» :
باب: اس بات کا بیان کہ یہ فرمانا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں اور یہ فرمان کہ میں نے نور دیکھا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 178 ترقیم شاملہ: -- 443
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ ".
یزید بن ابراہیم نے قتادہ سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟“ آپ نے جواب دیا: ”وہ نور ہے، میں اسے کہاں سے دیکھوں!“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 443]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ» ”وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 443]
ترقیم فوادعبدالباقی: 178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة النجم وقال: هذا حدیث حسن برقم (3282) انظر ((التحفة)) برقم (11938)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 178 ترقیم شاملہ: -- 444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ، هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَدْ سَأَلْتُ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ نُورًا ".
ہشام اور ہمام دونوں نے دو مختلف سندوں کے ساتھ قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم ان سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتے؟“ عبداللہ بن شقیق نے کہا: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آپ سے (یہی) سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ’میں نے نور دیکھا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 444]
عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ سے پوچھتا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتا؟ عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ نے کہا: میں آپ سے سوال کرتا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پوچھ چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رَأَيْتُ نُورًا» ”میں نے نور دیکھا ہے۔“ یعنی میں نے بس نور دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 444]
ترقیم فوادعبدالباقی: 178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (442)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. باب فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنَامُ» . وَفِي قَوْلِهِ: «حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ» :
باب: اس قول کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور یہ قول کہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اس کو کھول دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 179 ترقیم شاملہ: -- 445
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ، مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ: وَلَمْ يَقُلْ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے عمرو بن مرہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعبیدہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر پانچ باتوں پر مشتمل خطبہ دیا، فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اوپر اٹھاتا ہے، رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اس کا پردہ نور ہے۔ (ابوبکر کی روایت میں نور کی جگہ نار ہے) اگر وہ اس (پردے) کو کھول دے تو اس کے چہرے کے انوار جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں۔“ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”اعمش سے روایت ہے،“ یہ نہیں کہا: ”اعمش نےہمیں حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 445]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں کھڑے ہو کر ہمیں پانچ باتیں بتائیں، فرمایا: ”(1) اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے۔ (2) میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے۔ (3) اس کی طرف رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال (بعد والی رات) سے پہلے اٹھائے جاتے ہیں۔ (4) اس کا پردہ نور ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں نور کی جگہ نار (آگ) ہے۔ (5) اگر وہ اس پردے کو کھول دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کی مخلوق کو جلا دیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 179
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: فيما انكرت الجهمية برقم (195 و 196) انظر ((التحفة)) برقم (9146)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 179 ترقیم شاملہ: -- 446
حَدَّثَنَا، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مِنْ خَلْقِهِ، وَقَالَ: " حِجَابُهُ النُّورُ ".
اعمش کے ایک اور شاگرد جریر نے اسی (مذکورہ) سند سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا ..... پھر جریر نے ابومعاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا اور ”مخلوقات کو جلا ڈالے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور کہا: ”اس کا پردہ نور ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 446]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں کھڑے ہو کر ہمیں چار باتیں بتائیں، پھر جریر رحمہ اللہ نے ابو معاویہ رحمہ اللہ کی طرح حدیث بیان کی اور «مِنْ خَلْقِهِ» کے الفاظ بیان نہیں کیے، اور کہا «حِجَابُهُ النُّورُ» ”اس کا پردہ نور ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 179
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (444)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 179 ترقیم شاملہ: -- 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ، إِنَّ اللَّهَ، لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُهُ، وَيُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ ".
شعبہ نے عمرو بن مرہ کے حوالے سے ابوعبیدہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا: ”اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے، سونا اس کے لائق نہیں، میزان کو اوپر اٹھاتا اور نیچے کرتا ہے۔ دن کا عمل رات کو اور رات کا عمل دن کو اس کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 447]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں چار باتیں بتائیں: ”(1) اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور نہ سونا اس کے لائق ہے۔ (2) وہ ترازو کے پلڑے اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ (3) اس کی طرف دن کا عمل رات کو اور (4) رات کا عمل دن کو اٹھایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 179
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (444)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. باب إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الآخِرَةِ رَبَّهُمْ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى:
باب: اللہ تعالیٰ کا دیدار مؤمنوں کو آخرت میں ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 180 ترقیم شاملہ: -- 448
حَدَّثَنَا نَصْر بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وأَبُو غَسَّانَ الْمَسْمَعِيُّ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ، إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ، عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ".
عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے (وہ بھی۔) اور دو جنتیں سونے کی ہیں، ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کی رؤیت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و کبریائی کی جو چادر ہے، اس چادر کے سوا کوئی چیز نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 448]
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے چاندی کے ہوں گے، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہوں گے، اور لوگوں اور ان کے رب کی جنتِ عدن میں رویت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و بڑائی کی چادر کے سوا کوئی چیز حائل نہیں ہوگی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ﴾ برقم (4878 و 4880) وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ‎،‏ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7444) والترمذى في ((جامعه)) في صفة الجنة، باب: ما جاء في صفة غرف الجنة۔ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2528) وابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: ما انكرت الجهمية، برقم (186) انظر ((التحفة)) برقم (9135)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 181 ترقیم شاملہ: -- 449
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بن مَيْسَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ "،
عبدالرحمن بن مہدی نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، (اس وقت) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: ’تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں؟‘ وہ جواب دیں گے: ’کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟‘“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 449]
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا: ”جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے، اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ”تم کسی اور چیز کے خواہش مند ہو، کہ میں تمہیں اور دوں؟“ تو وہ جواب دیں گے: ”کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟““ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر وہ پردہ اٹھا دے گا، انہیں کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی ہو گی جو انہیں اپنے رب عزت و جلال والے کے دیدار سے زیادہ پسندیدہ ہو (ہر نعمت سے دیدار کی نعمت زیادہ محبوب ہو گی)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 181
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في صفة الجنة، باب: ما جاء في روية الرب تبارك و تعالی برقم (2552) وابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: ما انكرت الجهمية برقم (187) انظر ((التحفة)) برقم (4968)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 181 ترقیم شاملہ: -- 450
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَبِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26.
(عبدالرحمن بن مہدی کے بجائے) یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ اس میں یہ اضافہ ہے: پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ”جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے خوبصورت (جزا) اور مزید (دیدار الٰہی) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 450]
امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے حدیث بیان کی، اور اس میں اتنا اضافہ کیا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ﴾ [سورة يونس: 26] ”جن لوگوں نے اچھی زندگی گزاری ان کے لیے اچھی جگہ ہے (یعنی جنت اور اس کی نعمتیں) اس پر زائد ایک نعمت ہے (دیدار حق ہے)۔“” [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 450]
ترقیم فوادعبدالباقی: 181
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (448)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. باب مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ:
باب: اللہ کے دیدار کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 182 ترقیم شاملہ: -- 451
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ نَاسًا، قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا، وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ، مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ مِنَ ابْنِ آدَمَ، إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ وَقَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ، وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ، أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ، وَمَوَاثِيقَكَ، لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ، أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ، وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ، وَمَوَاثِيقَكَ، أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ مِنْهُ، قَالَ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلَهَا، قَالَ اللَّهُ لَهُ: تَمَنَّهْ، فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّى، حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ "، قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ: لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّ اللَّهَ، قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ، وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.
یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، کہا: میرے والد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پورے چاند کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”جب بادل حائل نہ ہوں تو کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”تم اسے (اللہ) اسی طرح دیکھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: ’جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسی کے پیچھے چلا جائے،‘ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا، جو چاند کی پرستش کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے گا اور جو طاغوتوں (شیطانوں، بتوں وغیرہ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوت کے پیچھے چلا جائے گا اور صرف یہ امت، اپنے منافقوں سمیت، باقی رہ جائے گی۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے پاس اپنی اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچان نہیں سکتے ہوں گے، پھر فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ وہ کہیں گے: ’ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آ جائے، جب ہمارا رب آئے گا ہم اسے پہچان لیں گے۔‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اس کو پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا: ’میں تمہارا پروردگار ہوں۔‘ وہ کہیں گے: ’تو (ہی) ہمارا رب ہے‘ اور اس کے ساتھ ہو جائیں گے، پھر (پل) صراط جہنم کے درمیانی حصے پر رکھ دیا جائے گا تو میں اور میری امت سب سے پہلے ہوں گے جو اس سے گزریں گے۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی بول نہ سکے گا۔ اور رسولوں کی پکار (بھی) اس دن یہی ہو گی: ’اے اللہ! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔‘ اور دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے، کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”وہ (آنکڑے) سعدان کے کانٹوں کی طرح کے ہوں گے لیکن وہ کتنے بڑے ہوں گے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ چکانے کے لیے پکڑیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور ارادہ فرمائے گا کہ اپنی رحمت سے جن دوزخیوں کو چاہتا ہے، آگ سے نکالے تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان لوگوں میں سے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، ’لا إله إلا الله‘ کہنے والوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ رحمت کرنا چاہے گا انہیں آگ سے نکال لیں۔ فرشتے ان کو آگ میں پہچان لیں گے۔ وہ انہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے۔ آگ سجدے کے نشانات کے سوا، آدم کے بیٹے (کی ہر چیز) کو کھا جائے گی۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے، چنانچہ وہ اس حال میں آگ سے نکالے جائیں گے کہ جل کر کوئلہ بن گئے ہوں گے، ان پر آب حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس کے ذریعے سے اس طرح اگ آئیں گے، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں گھاس کا بیج پھوٹ کر اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا۔ بس ایک شخص باقی ہو گا، جس نے آگ کی طرف منہ کیا ہوا ہو گا، یہی آدمی، تمام اہل جنت میں سے، جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: ’اے میرے رب! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبو نے میری سانسوں میں زہر بھر دیا ہے اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے،‘ چنانچہ جب تک اللہ کو منظور ہو گا، وہ اللہ کو پکارتا رہے گا پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: ’کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ یہ (حسن سلوک) کر دوں تو تم کچھ اور مانگنا شروع کر دو گے؟‘ وہ عرض کرے گا: ’میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔‘ وہ اپنے رب عزوجل کو جو عہد و پیمان وہ (لینا) چاہے گا، دے گا، تو اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا کہ وہ چپ رہے (اتنی دیر) چپ رہے گا، پھر کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے تک آگے کر دے،‘ اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: ’کیا تم نے عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تمہیں عطا کر دیا ہے اس کے سوا مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ تجھ پر افسوس ہے! اے ابن آدم! تم کس قدر عہد شکن ہو!‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب!‘ اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس سے کہے گا: ’کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں نے تمہیں یہ عطا کر دیا تو اس کے بعد تو اور کچھ مانگنا شروع کر دے گا؟‘ وہ کہے گا: ’تیری عزت کی قسم! (اور کچھ) نہیں (مانگوں گا۔)‘ وہ اپنے رب کو، جو اللہ چاہے گا، عہد و پیمان دے گا، اس پر اللہ اسے جنت کے دروازے تک آگے کر دے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو گا تو جنت اس کے سامنے کھل جائے گی۔ اس میں جو خیر اور سرور ہے وہ اس کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھے گا۔ تو جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے،‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: ’کیا تو نے پختہ عہد و پیمان نہ کیے تھے کہ جو کچھ تجھے دے دیا گیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟ ابن آدم تجھ پر افسوس! تو کتنا بڑا وعدہ شکن ہے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص نہ بنوں،‘ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا حتی کہ اللہ عزوجل اس پر ہنسے گا اور جب اللہ تعالیٰ ہنسے گا (تو) فرمائے گا: ’جنت میں داخل ہو جا۔‘ جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’تمنا کر!‘ تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور تمنا کرے گا یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا: ’فلاں چیز (مانگ) فلاں چیز (مانگ)‘ حتی کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔‘“ عطاء بن یزید نے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، انہوں نے ان کی کسی بات کی تردید نہ کی لیکن جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا: ”یہ سب کچھ تیرا ہوا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی“ تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اے ابوہریرہ! اس کے ساتھ اس سے دس گنا (اور بھی)،“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے تو آپ کا یہی فرمان یاد ہے: ’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔‘“ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر آپ کا یہ فرمان یاد ہے: ’یہ سب تیرا ہوا اور اس سے دس گنا اور بھی۔‘“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے آخری شخص ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 451]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ پائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودھویں کا چاند دیکھنے میں (اژدحام کی وجہ سے) ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سورج کو، جب اس کے ورے بادل حائل نہ ہوں، دیکھنے میں ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کو بھی اسی طرح (بغیر تکلیف و دشواری کے) دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: جو کسی کی بندگی کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہو جائے۔ پھر جو شخص سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا، جو چاند کی پرستش کرتا تھا اسی کے ساتھ ہو جائے گا، اور جو طاغوتوں (غیر اللہ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوتوں کے ساتھ ہو جائے گا، اور یہ امت رہ جائے گی، اس میں اس کے منافق بھی ہوں گے، تو ان کے پاس اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے نہیں ہوں گے اور فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اسی جگہ ٹھہریں گے، یہاں تک کہ ہمارے پاس ہمارا رب آ جائے۔ جب ہمارا رب آ جائے گا، تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اسے پہچان لیں گے اور فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے، اور وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے۔ پھر جہنم کی پشت پر پل صراط رکھا جائے گا، تو میں اور میری امت سب سے پہلے اس سے گزریں گے، اور رسولوں کے سوا اس دن کسی کو کلام کی جرات نہ ہو گی۔ اور رسولوں کی پکار اس دن یہی ہو گی: اے اللہ! سلامتی دے! سلامتی دے! اور دوزخ میں سعدان (ایک خاردار جھاڑی) کے کانٹوں کی طرح لوہے کے مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے (جن پر گوشت بھونا جاتا ہے)۔ کیا تم نے سعدان جھاڑی کو دیکھا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں جیسے ہوں گے، لیکن ان کی جسامت کی مقدار کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ لوگوں کو ان کے بد اعمال کی بنا پر اچک لیں گے۔ ان میں سے بعض اپنے عملوں کے سبب ہلاک ہوں گے اور بعض کے ٹکڑے کر دیے جائیں گے، پھر وہ نجات پا جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہو جائے گا، اور اپنی رحمت سے دوزخیوں میں سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا، تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو آگ سے نکال دیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ رحمت کرنا چاہے گا، جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہتے تھے، فرشتے انہیں آگ میں پہچان لیں گے، وہ انہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے۔ آگ ابن آدم کے جسم کو سجدوں کے نشان کے سوا ہر جگہ سے کھا جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشان کو جلانا حرام قرار دیا ہے۔ وہ آگ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا، تو وہ اس سے اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ (بہاؤ کے ساتھ آنے والی مٹی) میں اگتا ہے۔ (یعنی بہت جلد ترو تازہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے) پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہو جائے گا، اور ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ آگ کی طرف ہوگا، اور یہی جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے، کیونکہ اس کی بدبو نے مجھے پریشان کر دیا ہے (یا میری شکل و صورت بدل دی ہے) اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے۔ وہ اللہ سے دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں، تو کیا تو اس کے علاوہ بھی کوئی سوال کرے گا؟ وہ عرض کرے گا: میں تجھ سے اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کروں گا، اور وہ اپنے رب کو ہر طرح کے عہد و پیمان دے گا۔ پھر اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا۔ جب وہ جنت کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کی شادابی دیکھے گا، تو جب تک اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے اپنے پختہ عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کرے گا؟ اے آدم کے بیٹے! تو کس قدر بے وفا ہے! وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا: اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں، تو شاید تو کچھ اور مانگنے لگے؟ وہ عرض کرے گا: تیری عزت کی قسم! اب اور کچھ نہیں مانگوں گا، اور وہ اپنے رب کو ہر طرح کے عہد و پیمان دے گا۔ پھر اللہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ جب وہ وہاں کھڑا ہوگا، تو جنت اس کے لیے کھل جائے گی اور وہ اس کی نعمتوں اور رونقوں کو دیکھے گا، تو جب تک اللہ کو منظور ہوگا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے! تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے اپنے پختہ عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ تجھے دیا گیا ہے اس کے سوا نہیں مانگے گا؟ اے ابن آدم! تجھ پر افسوس ہے، تو کس قدر عہد شکن ہے! وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ رہوں۔ وہ اللہ عزوجل سے مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑے گا، اور جب اللہ تعالیٰ ہنس دے گا، تو فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جا! جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اب تمنا کر! تو وہ اپنے رب سے سوال کرے گا اور تمنائیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز کی تمنا کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تیرے لیے ہے اور اتنا ہی مزید اور بھی۔“ عطاء بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے اور وہ ان کی اس حدیث کی کسی بات کی تردید نہیں کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا: ”یہ سب کچھ تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی“ تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید، اے ابوہریرہ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی الفاظ یاد ہیں: ”تیرے لیے یہ سب کچھ ہے اور اتنا ہی مزید اور بھی۔“ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول یاد ہے: ”تجھے یہ سب کچھ حاصل ہے اور اس سے دس گنا مزید۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور یہ آدمی جنت میں داخل ہونے والا آخری فرد ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ‎، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7437) وفى الرقاق، باب: الصراط جسر جهنم برقم (6573) مطولا والنسائي في ((المجتبى)) 229/2 في التطبيق، باب: موضع السجود باختصار - انظر ((التحفة)) برقم (14213)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 182 ترقیم شاملہ: -- 452
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أن أبا هريرة أخبرهما، أن الناس، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
شعیب نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا: عطاء اور سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ .....آگے ابراہیم بن سعد کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 452]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الاذان، باب: فضل السجود برقم (806) مطولا، وأخرجه في الرقاق، باب: الصراط جسر جهنم برقم (6573) مطولا - انظر ((التحفة)) برقم (1351)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں