🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب آخِرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا:
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 187 ترقیم شاملہ: -- 463
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْه، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا؟ فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟"، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟، فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ.
انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سب سے آخر میں وہ آدمی داخل ہو گا جو کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی آگ سے جھلسا دے گی۔ جب وہ آگ سے نکل آئے گا تو پلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی۔ اللہ نے مجھے ایسی چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ اسے بلندی پر ایک درخت کے قریب کر دیا جائے گا تاکہ میں اس کے سائے میں دھوپ سے نجات حاصل کروں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں۔ اس پر اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یہ درخت دے دوں تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو۔ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور اللہ کے ساتھ عہد کرے گا کہ وہ اس سے اور کچھ نہ مانگے گا۔ اس کا پروردگار اس کے عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا اور وہ اس کے سائے میں دھوپ سے محفوظ ہو جائے گا اور اس کا پانی پیے گا، پھر اسے اوپر ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے پانی سے سیراب ہوں اور اس کے سائے میں آرام کروں، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہ کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ اور فرمائے گا: مجھے لگتا ہے اگر میں تمہیں اس کے قریب کر دوں تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا، اس کا رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس کے سامنے اس سے صبر نہیں ہو سکتا۔ اس پر اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے کے نیچے آ جائے گا اور اس کے پانی سے پیاس بجھائے گا۔ اور پھر ایک درخت جنت کے دروازے کے پاس دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اور کچھ نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! (وعدہ کیا تھا) بس یہی، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو وہ اس شخص کو اس (درخت) کے قریب کر دے گا تو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! وہ کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے؟ کیا تم اس سے راضی ہو جاؤ گے کہ میں تمہیں ساری دنیا اور اس کے برابر اور دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو میری ہنسی اڑاتا ہے جبکہ تو سارے جہانوں کا رب ہے۔“ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟ سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”رب العالمین کے ہنس پڑنے پر، جب اس نے کہا کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، میری ہنسی اڑاتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: میں تیری ہنسی نہیں اڑاتا بلکہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 463]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا آدمی، وہ کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی اسے آگ جھلسے گی، جب وہ آگ سے نکل جائے گا تو پلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: «تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ» ”بڑی برکت والی ہے وہ ذات، جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔“ اللہ نے مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے، جو پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی ایک کو عطا نہیں کی۔ پھر اسے ایک درخت دکھائی دے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سائے سے سایہ حاصل کروں اور اس کا (پھلوں کا) پانی پیوں۔ تو اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے اگر میں تیری درخواست پوری کر دوں، تو تو اور درخواست پیش کر دے؟ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور وہ اللہ سے مزید سوال نہ کرنے کا معاہدہ کرے گا، اور اس کا رب اس کو معذور سمجھے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا، جس پر صبر کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ تو وہ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا، تو وہ اس کے سائے سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا، جو پہلے سے زیادہ حسین ہوگا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سائے سے آرام حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پیوں، میں تجھ سے کوئی اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ فرمائے گا: کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ میں اور سوال نہیں کروں گا؟ اور فرمائے گا: ممکن ہے اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں، تو تو اور سوال کر دے؟ تو وہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرے گا کہ وہ اس کے سوا سوال نہیں کرے گا، اور اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی نعمت دیکھ رہا ہے جس کی (خواہش کیے) بغیر صبر نہیں ہو سکتا، تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے سے راحت حاصل کرے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر اس کو جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت دکھائی دے گا، جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سائے سے آرام حاصل کروں اور اس کا پانی پیوں، میں اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے میرے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ اور سوال نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں (معاہدہ کیا تھا) یہی سوال ہے اور سوال نہیں کروں گا۔ اس کا رب اس کو معذور سمجھے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہے، جس کے سوال کیے بغیر صبر نہیں ہو سکتا، تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ تو جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا، تو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا، تو کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کون سی چیز تجھے مجھ سے سوال کرنے سے روک سکتی ہے؟ کیا تجھے یہ چیز راضی کر دے گی کہ میں تجھے دنیا اور اس کے برابر مزید دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو رب العالمین ہو کر میرا مذاق اڑاتا ہے؟“ اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟ تو سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ انہوں نے کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بات پر رب العالمین کے ہنسنے کی بنا پر کہ (جب اس نے کہا) کیا تو رب العالمین ہو کر میرے ساتھ مذاق کرتا ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: میں مذاق نہیں کرتا بلکہ میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9188)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 188 ترقیم شاملہ: -- 464
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہو گا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی، وہ کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں‘ .....“ آگے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے.....‘“ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا: ”اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا: ’فلاں چیز مانگ، فلاں چیز طلب کر۔‘ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گنا اور بھی۔‘“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: ’اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی۔‘“ آپ نے فرمایا: ”تو وہ کہے گا: ’جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 464]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبہ وہ آدمی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے جنت کی طرف پھیر دے گا، اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت نظر آئے گی، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، میں اس کے سایہ میں رہوں گا۔“ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بیان نہیں کیے: ”کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تجھے مجھ سے مانگنے سے کون سی چیز روک سکتی ہے...۔“ آخر تک، اور اس میں اتنا اضافہ ہے ”اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا، فلاں فلاں چیز کا سوال کر! اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تجھے ملے گا اور اس سے دس گنا زائد۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا، اور حورِ عین میں سے اس کی دونوں بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: شکر کے لائق وہ اللہ ہے جس نے تجھے ہمارے لیے زندہ کیا، اور ہمیں تیرے لیے زندگی دی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ کہے گا: جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے، وہ کسی ایک کو نہیں دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 188
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4392)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 189 ترقیم شاملہ: -- 465
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سمعا الشعبي يخبر، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ: رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا، أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ، قَالَ: " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ: مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ كَيْفَ؟ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، فَقَالَ: فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً، قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ: وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 الآيَة ".
ہمیں سعید بن عمر اشعثی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف اور (عبدالملک) ابن ابجر سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، ان شاء اللہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ) روایت کے طور پر سنا، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خبر دی، کہا: میں نے ان سے منبر پر سنا، وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے تھے، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا (روایت کے الفاظ انہی کے ہیں) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے شعبی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو (یہ) حدیث سنا رہے تھے۔ سفیان نے کہا: ان دونوں (استادوں) میں سے ایک (میرا خیال ہے ابن ابجر) نے اس روایت کو مرفوعاً (جسے صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو) بیان کیا، آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے رب تعالیٰ سے پوچھا: ’جنت میں سب سے کم درجے کا (جنتی) کون ہو گا؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وہ (ایسا) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! کیسے؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جو لینا تھا سب کچھ لے چکے ہیں۔‘ تو اس سے کہا جائے گا: ’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ اللہ فرمائے گا: ’وہ (ملک) تمہارا ہوا، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور۔‘ پانچویں بار وہ آدمی (بے اختیار) کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہو گیا۔‘ اللہ عز وجل فرمائے گا: ’یہ (سب بھی) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ پھر (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ’اے پروردگار! تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی (جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا۔) (عزت کا) وہ (مقام) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔‘“ فرمایا: اس کا مصداق اللہ عز وجل کی کتاب میں موجود ہے: ”کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 465]
امام صاحب رحمہ اللہ مختلف اساتذہ کی سندوں سے شعبی رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منبر پر سنا، وہ لوگوں کو بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا: جنت میں سب سے کم مرتبہ جنتی کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ ایک شخص ہے، جب جنتی جنت میں داخل کر دیے جائیں گے اس کے بعد وہ آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا! تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیونکر؟ لوگ اپنی اپنی جگہوں میں اتر چکے ہیں اور اپنی عزت و کرامت لے چکے ہیں (یا اپنے گھروں کا رخ کر چکے ہیں)۔ تو اسے کہا جائے گا: کیا تم اس پر راضی ہو کہ تمہیں جنت میں اتنا علاقہ دے دیا جائے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کی ملکیت میں ہوتا ہے؟ تو وہ کہے گا: اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے اتنا دیا اور اتنا اور، اور اتنا اور، اور اتنا اور، اور اتنا اور۔ پانچویں بار وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تجھے دیا اور اس سے دس گنا اور دیا، اور تیرے لیے وہ ہے جس کو تیرا جی چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔ تو وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! پھر موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! تو سب سے بلند مرتبہ والوں کو کیا ملے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو میں نے چنا، ان کی عزت و راحت کو اپنے ہاتھوں سے جمایا اور میں نے اس پر مہر لگائی، (ان نعمتوں کو) کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی دل میں ان کا خیال نہیں گزرا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [سورة السجدة: 17] “ ”کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا نعمتیں چھپائی گئی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة السجدة وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (3198) انظر ((التحفة)) برقم (11503) 329»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 189 ترقیم شاملہ: -- 466
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.
(سفیان کے بجائے) عبیداللہ اشجعی نے عبدالملک بن ابجر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر کہہ رہے تھے: بے شک موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عز وجل سے اہل جنت میں سے سب سے کم حصہ پانے والے کے بارے میں پوچھا..... اور سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 466]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر کہا: ”بے شک موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے پوچھا کہ اہل جنت سے سب سے کم تر درجہ یا قلیل حصہ کس کا ہو گا؟“ اور مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (464)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 190 ترقیم شاملہ: -- 467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ، فَيُقَالُ: عَمِلْتَ يَوْمَ، كَذَا، وَكَذَا، كَذَا، وَكَذَا، وَعَمِلْتَ يَوْمَ، كَذَا، وَكَذَا، كَذَا، وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا "، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سے سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ’اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو (ایک طرف ہٹا دو۔)‘ تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا: ’فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے۔‘ وہ کہے گا: ’ہاں،‘ وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہو گا، (اس وقت) اسے کہا جائے گا: ’تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے۔‘ تو وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں نے بہت سے ایسے (برے) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔‘“ میں (ابوذر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 467]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے جنتی کو جانتا ہوں، اور جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا ہوگا، ایک آدمی ہے اسے قیامت کے دن لایا جائے گا، تو کہا جائے گا: اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور بڑے گناہ اٹھا رکھو، تو اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا: تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیے؟ اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے؟ وہ کہے گا: ہاں! وہ انکار نہیں کر سکے گا، اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہوگا، تو اسے کہا جائے گا: تیرے لیے ہر بدی کے عوض نیکی ہے۔ تو وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے بہت سے ایسے کام کیے ہیں، جنہیں میں یہاں دیکھ نہیں رہا ہوں۔“ (حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 190
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في صفة جهنم، باب: ما جاء ان للنار نفسين، وما ذكر من يخرج من النار من اهل التوحيد وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2596) انظر ((التحفة)) برقم (11983)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 190 ترقیم شاملہ: -- 468
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
اعمش کے دو شاگردوں ابومعاویہ اور وکیع نے اپنی اپنی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 468]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 190
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (466)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 191 ترقیم شاملہ: -- 469
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلاهما، عَنْ رَوْحٍ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ: نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ، قَالَ: فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ، وَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ، أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ، كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ كَذَلِكَ، ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ، حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا ".
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے (جنت اور جہنم میں) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ہم قیامت کے دن فلاں فلاں (سمت) سے آئیں گے (دیکھو)، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کے اوپر ہے۔ کہا: سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن (معبودوں) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی، ایک کے بعد ایک، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا: ’تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟‘ تو وہ کہیں گے: ’ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔‘ وہ فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ تو سب کہیں گے: ’(اس وقت) جب ہم تمہیں دیکھ لیں۔‘ تو وہ ہنستا ہوا ان کے سامنے جلوہ افروز ہو گا۔ انہوں نے کہا: وہ انہیں لے کر جائے گا اور وہ اس کے پیچھے ہوں گے، ان میں ہر انسان کو، منافق ہو یا مومن، ایک نور دیا جائے گا، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ جو نجات پائے گا، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے، (وہ) ستر ہزار ہوں گے، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اسی طرح (درجہ بدرجہ۔) اس کے بعد پھر شفاعت کا مرحلہ آئے گا اور (شفاعت کرنے والے) شفاعت کریں گے حتیٰ کہ ہر وہ شخص جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا ہو گا اور جس کے دل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی (ایمان) ہو گی، انہیں جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتیٰ کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس (کے جسم) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتیٰ کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 469]
ابو زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (جہنم پر) گزرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”ہم قیامت کے دن فلاں فلاں طرف سے آئیں گے دیکھ لیجیے، یعنی: اس کو لوگوں کے اوپر سے کہا، تو امتیں اپنے اپنے بتوں سمیت بلائی جائیں گی اور جن کی بندگی کرتی تھیں، پہلی پھر پہلی، (ترتیب کے ساتھ) پھر ہمارے پاس، اس کے بعد ہمارا رب آئے گا اور پوچھے گا: ”تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟“ تو وہ کہیں گے: ”ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔“ تو وہ فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں!“ تو وہ کہیں گے: ”یہاں تک کہ ہم تجھے دیکھ لیں“، وہ ہنستا ہوا ان کو دکھائی دے گا، تو وہ ان کے ساتھ چلے گا، اور وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے، اور ان میں سے ہر انسان کو، وہ منافق ہو یا مومن، نور دیا جائے گا، پھر وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے، اور جہنم کے پل پر گوشت بھوننے کی لوہے کی سلاخیں اور گھوکھرو ہوں گے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، وہ پکڑ لیں گے، پھر منافقوں کا نور بجھ جائے گا، پھر مومن نجات پا لیں گے، تو پہلا گروہ، جن کے چہرے چودھویں کے چاند جیسے ہوں گے، نجات پائے گا، ستر ہزار، جن کا محاسبہ نہیں ہوگا، پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے، جن کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر ان کے بعد ان سے کم درجہ لوگ ہوں گے، پھر شفاعت شروع ہوگی اور لوگ سفارش کریں گے حتیٰ کہ آگ سے وہ انسان نکل جائے گا جس نے (خلوص نیت سے) «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا ہوگا، اور اس کے دل میں جو کے برابر نیکی ہوگی، تو ان کو جنت کے آنگن (سامنے کی کھلی جگہ) میں ڈال دیا جائے گا، اور جنتی لوگ ان پر پانی چھڑکنے لگیں گے حتیٰ کہ وہ ایسے پھلے پھولیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں نشو و نما پاتی ہے، حتیٰ کہ آگ سے نکلنے والے کی سوزش (جلن) ختم ہو جائے گی، پھر اللہ اس سے پوچھے گا: یہاں تک کہ اس کو دنیا اور اس کا دس گنا دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 469]
ترقیم فوادعبدالباقی: 191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2841)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 191 ترقیم شاملہ: -- 470
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ ".
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے اپنے دونوں کانوں سے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 470]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے کان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 470]
ترقیم فوادعبدالباقی: 191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2545)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 191 ترقیم شاملہ: -- 471
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَار : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ "، قَالَ: نَعَمْ.
حماد بن زید نے کہا: میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو شفاعت کے ذریعے سے آگ میں سے نکالے گا؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 471]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو سفارش سے آگ سے نکالے گا؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 471]
ترقیم فوادعبدالباقی: 191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب صفة الجنة والنار برقم (6558) انظر ((التحفة)) برقم (2514)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 191 ترقیم شاملہ: -- 472
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ، يَحْتَرِقُونَ فِيهَا، إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ، حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ".
قیس بن سلیم عنبری نے کہا: یزید الفقیر نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ کچھ لوگ آگ میں سے نکالے جائیں گے، وہ اپنے چہروں کے علاوہ (پورے کے پورے) اس میں جل چکے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 472]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ آگ سے نکالے جائیں گے، ان کے چہروں کے اطراف کے سوا وہ اس میں جل چکے ہوں گے، حتیٰ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 472]
ترقیم فوادعبدالباقی: 191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3140)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں