🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ:
باب: اللہ کے دیدار کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 182 ترقیم شاملہ: -- 453
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، أَنْ يَقُولَ: لَهُ تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى، وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) بیان کیں، پھر (ہمام نے) بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں یہ حدیث بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی جنت میں کم از کم جگہ یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ’تمنا کر۔‘ تو وہ تمنا کرے گا، پھر تمنا کرے گا، اللہ اس سے پوچھے گا: ’کیا تم تمنا کر چکے؟‘ وہ کہے گا: ’ہاں۔‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’وہ سب کچھ تیرا ہوا جس کی تو نے تمنا کی اور اس کے ساتھ اتنا ہی (اور بھی۔)‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 453]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک کی جنت میں کم از کم جگہ یہ ہے (کم درجہ کا جنتی وہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: آرزو کر! تو وہ تمنا کرے گا اور تمنا کرے گا، تو اللہ اس سے پوچھے گا: کیا تو نے آرزو کر لی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی تو نے تمنا کی اور اتنا ہی اور۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14741)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 183 ترقیم شاملہ: -- 454
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ نَاسًا فِي زَمَنِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ، صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ؟ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الأَصْنَامِ، وَالأَنْصَابِ، إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ، وَفَاجِرٍ، وَغُبَّرِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَيُدْعَى الْيَهُودُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ، وَلَا وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ؟ قَالُوا: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ، فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ، كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ، وَلَا وَلَدٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا تَبْغُونَ؟ فَيَقُولُونَ: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، قَالَ: فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ، أَلَا تَرِدُونَ، فَيُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ، كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ بَرٍّ، وَفَاجِرٍ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي أَدْنَى صُورَةٍ مِنَ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَا تَنْتَظِرُونَ، تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، قَالُوا: يَا رَبَّنَا، فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا، أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَكَادُ أَنْ يَنْقَلِبَ، فَيَقُولُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ، إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ، وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ، خَرَّ عَلَى قَفَاهُ، ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ وَقَدْ تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ، وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْجِسْرُ؟ قَالَ: دَحْضٌ مَزِلَّةٌ فِيهِ خَطَاطِيفُ، وَكَلَالِيبُ، وَحَسَكٌ تَكُونُ بِنَجْدٍ فِيهَا شُوَيْكَةٌ، يُقَالُ لَهَا: السَّعْدَانُ، فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرْفِ الْعَيْنِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَالطَّيْرِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً لِلَّهِ فِي اسْتِقْصَاءِ الْحَقِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ، يَقُولُونَ: رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا، وَيُصَلُّونَ، وَيَحُجُّونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ، فَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَى النَّار، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا قَدْ أَخَذَتِ النَّارُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ وَإِلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ، فَيَقُولُ: ارْجِعُوا، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا، ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنَ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَحَدًا، ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْر، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا، وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، يَقُولُ: إِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ، قَدْ عَادُوا حُمَمًا، فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهَرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ، يُقَالُ لَهُ: نَهَرُ الْحَيَاةِ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَهَا تَكُونُ إِلَى الْحَجَرِ أَوْ إِلَى الشَّجَرِ، مَا يَكُونُ إِلَى الشَّمْسِ، أُصَيْفِرُ، وَأُخَيْضِرُ، وَمَا يَكُونُ مِنْهَا إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَبْيَضَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّكَ كُنْتَ تَرْعَى بِالْبَادِيَةِ؟ قَالَ: فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ، يَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ، ثُمَّ يَقُولُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَمَا رَأَيْتُمُوهُ فَهُوَ لَكُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا، فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا؟ فَيَقُولُ: رِضَايَ، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا.
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں (آپ سے) عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا دوپہر کے وقت صاف مطلع ہو، جب ابر نہ ہوں، سورج کو دیکھتے ہوئے تمہیں کوئی زحمت ہوتی ہے؟ اور کیا پورے چاند کی رات کو جب مطلع صاف ہو اور ابر نہ ہوں تو چاند کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں!“ آپ نے فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھنے میں اس سے زیادہ دقت نہ ہو گی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہو گا، ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا: ’ہر امت اس کے پیچھے چلے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔‘ کوئی آدمی ایسا نہ بچے گا جو اللہ کے سوا بتوں اور پتھروں کو پوجتا تھا مگر وہ آگ میں جا گرے گا حتی کہ جب ان کے سوا جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، وہ نیک ہوں یا بد، اور اہل کتاب کے بقیہ (بعد کے دور) لوگوں کے سوا کوئی نہ بچے گا تو یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ’تم کس کی عبادت کرتے تھے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اللہ کے بیٹے عزیر کی عبادت کرتے تھے۔‘ تو کہا جائے گا: ’تم نے جھوٹ بولا، اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا، تو (اب) کیا چاہتے ہو؟‘ کہیں گے: ’اے پروردگار! ہمیں پیاس لگی ہے ہمیں پانی پلا۔‘ تو ان کو اشارہ کیا جائے گا کہ تم پانی (کے گھاٹ) پر کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں اکٹھا کر کے آگ کی طرف ہانک دیا جائے گا، وہ سراب کی طرح ہو گی، اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو توڑ رہا ہو گا اور وہ سب (ایک دوسرے کے پیچھے) آگ میں گرتے چلے جائیں گے، پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ’تم کس کی عبادت کرتے تھے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اللہ کے بیٹے مسیح کو پوجتے تھے۔‘ ان سے کہا جائے گا: ’تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی نہ کوئی بیٹا،‘ پھر ان سے کہا جائے گا: ’(اب) تم کیا چاہتے ہو؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم پیاسے ہیں ہمارے پروردگار! ہمیں پانی پلا،‘ آپ نے فرمایا: ”ان کو اشارہ کیا جائے گا: ’تم پانی (کے گھاٹ) پر کیوں نہیں جاتے؟‘ پھر انہیں اکٹھا کر کے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا، وہ سراب کی طرح ہو گی (اور) اس کا ایک حصہ (شدت اشتعال سے) دوسرے کو توڑ رہا ہو گا، وہ (ایک دوسرے کے پیچھے) آگ میں گرتے چلے جائیں گے، حتی کہ جب ان کے سوا کوئی نہ بچے گا جو اللہ تعالیٰ (ہی) کی عبادت کرتے تھے، نیک ہوں یا بد، (تو) سب جہانوں کا رب سبحان وتعالیٰ ان کی دیکھی ہوئی صورت سے کم تر (یا مختلف) صورت میں آئے گا (اور) فرمائے گا: ’تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر امت اس کے پیچھے جا رہی ہے جس کی وہ عبادت کرتی تھی،‘ وہ (سامنے ظاہر ہونے والی صورت کے بجائے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو کر) التجا کریں گے: ’اے ہمارے رب! ہم دنیا میں سب لوگوں سے، جتنی شدید بھی ہمیں ان کی ضرورت تھی، الگ ہو گئے، ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا۔‘ وہ کہے گا: ’میں تمہارا رب ہوں،‘ وہ کہیں گے: ’ہم تم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے‘ (دو یا تین دفعہ یہی کہیں گے) یہاں تک کہ ان میں بعض لوگ بدلنے کے قریب ہوں گے تو وہ فرمائے گا: ’کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی (طے) ہے جس سے تم اس کو پہچان سکو؟‘ وہ جواب دیں گے: ’ہاں!‘ تو پنڈلی ظاہر کر دی جائے گی پھر کوئی ایسا شخص نہ بچے گا جو اپنے دل سے اللہ کو سجدہ کرتا تھا مگر اللہ اسے سجدے کی اجازت دے گا اور کوئی ایسا نہ بچے گا جو جان بچانے کے لیے یا دکھاوے کے لیے سجدہ کرتا تھا مگر اللہ تعالیٰ اس کی پشت کو ایک ہی مہر بنا دے گا، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا اپنی گدی کے بل گر پڑے گا، پھر وہ (سجدے سے) اپنے سر اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی اس صورت میں آ چکا ہو گا جس میں انہوں نے اس کو (سب سے) پہلی مرتبہ دیکھا تھا اور وہ فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ تو وہ کہیں گے: ’(ہاں) تو ہی ہمارا رب ہے،‘ پھر جہنم پر پل دیا جائے گا اور سفارش کا دروازہ کھل جائے گا، اور (سب رسول) کہہ رہے ہوں گے: ’اے اللہ! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔‘“ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! جسر (پل) کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”بہت پھسلنی، ڈگمگا دینے والی جگہ ہے، اس میں اچک لینے والے آنکڑے اور کئی کئی نوکوں والے کنڈے ہیں اور اس میں کانٹے دار پودے ہیں جو نجد میں ہوتے ہیں جنہیں سعدان کہا جاتا ہے۔ تو مومن آنکھ کی جھپک کی طرح اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح اور پرندوں کی طرح اور تیز رفتار گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزر جائیں گے، کوئی صحیح سالم نجات پانے والا ہو گا اور کوئی زخمی ہو کر چھوڑ دیا جانے والا اور کچھ جہنم کی آگ میں تہ بن تہ لگا دیے جانے والے، یہاں تک کہ جب مومن آگ سے خلاصی پا لیں گے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی پورا پورا حق وصول کرنے (کے معاملے) میں اس قدر اللہ سے منت اور آہ وزاری نہیں کرتا جس قدر قیامت کے دن مومن اپنے ان مسلمان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جو آگ میں ہوں گے۔ وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے، نمازیں پڑھتے اور حج کرتے تھے۔‘ تو ان سے کہا جائے گا: ’تم جن کو پہچانتے ہو انہیں نکال لو،‘ ان کی صورتیں آگ پر حرام کر دی گئی ہوں گی۔ تو وہ بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے جن کی آدھی پنڈلیوں تک یا گھٹنوں تک آگ پکڑ چکی ہو گی، پھر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کوئی دوزخ میں نہیں رہا۔‘ تو وہ فرمائے گا: ’واپس جاؤ، جس کے دل میں دینار بھر خیر (ایمان) پاؤ اس کو نکال لاؤ‘ تو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے، پھر کہیں گے: ’اے ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کسی کو ہم دوزخ میں نہیں چھوڑا۔‘ وہ پھر فرمائے گا: ’واپس جاؤ، جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر خیر پاؤ اس کو نکال لاؤ‘ تو وہ (پھر سے) بڑی خلقت کو نکال لائیں گے، پھر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ہم نے ان میں کسی کو دوزخ میں نہیں چھوڑا۔‘ وہ پھر فرمائے گا: ’واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر خیر پاؤ اس کو نکال لاؤ‘ تو وہ کثیر خلقت کو نکال لائیں گے، پھر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کسی صاحب خیر کو نہیں چھوڑا۔‘“ (ایمان ایک ذرے کے برابر بھی ہو سکتا ہے۔) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”اگر تم اس حدیث میں میری تصدیق نہیں کرتے تو چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ”بے شک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو بڑھاتا ہے اور اپنی طرف سے اجر عظیم دیتا ہے۔““ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی، مومنوں نے بھی سفارش کی، اب ارحم الراحمین کے سوا کوئی باقی نہیں رہا‘ تو وہ آگ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو اس میں سے نکال لے گا جنہوں نے کبھی بھلائی کا کوئی کام نہیں کیا تھا اور وہ (جل کر) کوئلہ ہو چکے ہوں گے، پھر وہ انہیں جنت کے دہانوں پر (بہنے والی) ایک نہر میں ڈال دے گا جس کو نہر حیات کہا جاتا ہے، وہ اس طرح (اگ کر) نکل آئیں گے جس طرح (گھاس کا) چھوٹا سا بیج سیلاب کے خس و خاشاک میں پھوٹتا ہے، کیا تم اسے دیکھتے نہیں ہو کہ کبھی وہ پتھر کے ساتھ لگا ہوتا ہے اور کبھی درخت کے ساتھ، جو سورج کے رخ پر ہوتا ہے وہ زرد اور سبز ہوتا ہے اور جو سائے میں ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایسا لگتا ہے کہ آپ جنگل میں جانور چرایا کرتے تھے؟“ آپ نے فرمایا: ”تو وہ لوگ (نہر سے) موتیوں کے مانند نکلیں گے، ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی، اہل جنت (بعد ازاں) ان کو (اس طرح) پہچانیں گے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے آزاد کیے ہوئے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بغیر کسی نیکی کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر وہ فرمائے گا: ’جنت میں داخل ہو جاؤ اور جو تمہیں نظر آئے وہ تمہارا ہے،‘ اس پر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔‘ تو وہ فرمائے گا: ’تمہارے لیے میرے پاس اس سے بڑھ کر کون سی چیز (ہو سکتی) ہے؟‘ تو وہ فرمائے گا: ’میری رضا کہ اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 454]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ فرمایا: ”کیا دوپہر کے وقت جب مطلع صاف ہو، ابر آلود نہ ہو، تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ کیا چودہویں رات جب آسمان صاف ہو بادل نہ ہوں، تمہیں چاند دیکھنے میں کوئی اذیت پہنچتی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ تبارک و تعالیٰ کے دیکھنے میں اتنی ہی کلفت ہو گی، جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہو گا، ایک اعلان کرنے والا منادی کرے گا: ہر امت اپنے معبود کے ساتھ ہو جائے۔ جس قدر لوگ اللہ کے سوا بتوں، آستانوں کو پوجتے تھے، سب آگ میں جا گریں گے، اور صرف وہ لوگ بچ جائیں گے جو اللہ کی بندگی کرتے تھے، نیک ہوں یا بد۔ اور کچھ اہل کتاب کے بقایا لوگ (جو اپنے اصل دین پر قائم رہے) پھر یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: تم کس چیز کی عبادت کرتے تھے؟ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر کی بندگی کرتے تھے، تو ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی بیٹا ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ کہیں گے: ہمیں پیاس لگی ہے، اے ہمارے رب ہمیں پانی پلا! تو ان کو اشارہ کیا جائے گا، تم پانی پر کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں جہنم کی طرف ہانک دیا جائے گا۔ وہ انہیں سراب کی طرح دکھائی دے گی، اور اس کا بعض حصہ دوسرے حصے کو تباہ کر رہا ہوگا، تو وہ سب جہنم میں گر جائیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلا کر پوچھا جائے گا: تم کس چیز کی بندگی کرتے تھے؟ وہ کہیں گے ہم اللہ کے بیٹے مسیح کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ کی کوئی بیوی ہے نہ کوئی اولاد۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا: اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو پیاس لگی ہے، ہمیں پانی پلا!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو اشارہ کیا جائے گا، تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا، گویا کہ وہ سراب ہے۔ بعض بعض کو کھا رہا ہوگا (شدت اشتعال سے ایک دوسرے کو توڑ رہا ہوگا)، تو وہ سب آگ میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو اللہ کی بندگی کرتے تھے، نیک ہوں یا بد، ان کے پاس کائنات کا مالک اس سے قریب تر شکل میں آئے گا جس کو وہ جانتے ہوں گے۔ فرمائے گا: تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر گروہ اس کے ساتھ چلا گیا ہے، جس کی وہ عبادت کرتا تھا۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دنیا میں لوگوں سے اس وقت جدائی اختیار کی، جب کہ ہم ان کے بہت محتاج تھے، اور ان کے ساتھ نہ رہے، تو وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: ہم تم سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے (دو یا تین دفعہ یہی کہیں گے) یہاں تک کہ بعض لوگ ان میں سے (راہ ثواب سے) پھرنے کے قریب ہوں گے (کیونکہ امتحان کی شدت کی وجہ سے دل میں شبہ پیدا ہونے لگے گا)، پھر فرمائے گا: کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے؟ جس سے تم اس کو پہچان سکو؟ تو وہ جواب دیں گے: ہاں! تو پنڈلی ظاہر کر دی جائے گی، تو ہر وہ انسان جو اپنی مرضی سے اللہ کو سجدہ کرتا تھا اس کو اللہ سجدہ کی اجازت (توفیق) دے گا۔ اور ہر وہ شخص جو (مسلمانوں سے) بچنے کے لیے اور لوگوں کے دکھلاوے کے لیے سجدہ کرتا تھا، اللہ تعالیٰ اس کی پشت کو ایک تختہ کی طرح بنا دے گا۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہے گا اپنی گدی کے بل گر جائے گا۔ پھر وہ لوگ سجدے سے سر اٹھائیں گے، اور اللہ تعالیٰ اپنی اس صورت میں ہو چکا ہوگا جس صورت میں انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ تو وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے، پھر جہنم پر پل بچھا دیا جائے گا اور سفارش شروع ہو جائے گی۔ اس وقت (رسول) کہیں گے اے اللہ بچا! بچا!“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جسر (پل) کیسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت پھسلنے کی جگہ ہوگی۔ اس پر اچکنے والے آنکس ہوں گے، اور لوہے کی گوشت بھوننے والی مڑی ہوئی سلاخیں ہوں گی، اور اس میں گھوکرو جو نجد میں ہوتے ہیں، اس میں کانٹے ہوں گے جن کو سعدان کہتے ہیں، تو مومن اس سے پار ہوں گے پلک جھپکنے کی طرح، کوئی بجلی کی طرح، کوئی ہوا کی طرح، کوئی پرندوں کی طرح اور بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، بعض اونٹوں کی طرح، کچھ سالم پار ہو جائیں گے اور بعض زخمی ہو کر چھٹکارا پائیں گے، اور کچھ دھکا دے کر جہنم کی آگ میں گرا دیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب مومن آگ سے خلاصی پا لیں گے، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی اپنا حق پورا پورا وصول کرنے میں اس قدر جھگڑا نہیں کرتا، جس قدر مومن اپنے ان مسلمان بھائیوں کے بارے میں قیامت کے دن جھگڑا کریں گے، جو آگ میں چلے گئے ہوں گے۔ مومن کہیں گے: اے اللہ! اے ہمارے رب! یہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور نمازیں پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے۔ تو ان سے کہا جائے گا: جن کو تم پہچانتے ہو ان کو نکال لو۔ ان کی شکلیں (صورتیں) آگ پر حرام کر دی جائیں گی۔ تو وہ بہت سے ان لوگوں کو نکال لائیں گے جن کے آگ آدھی پنڈلیوں تک پہنچ چکی ہو گی۔ پھر مومن کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کے نکالنے کے لیے تو نے فرمایا تھا، ان میں سے کوئی دوزخ میں نہیں رہا۔ تو اللہ عز و جل فرمائے گا: واپس جاؤ! جس کے دل میں دینار بھر خیر (نیکی) پاؤ اس کو نکال لاؤ۔ تو وہ بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے کسی ایسے فرد کو اس میں نہیں چھوڑا جس کے نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ! جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر خیر پاؤ، اس کو نکال لاؤ، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کسی ایسے آدمی کو نہیں چھوڑا جس کے نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ! جس کے دل میں ذرہ برابر خیر پاؤ، اس کو نکال لاؤ، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے، پھر وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کسی صاحب خیر کو نہیں چھوڑا۔“ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: اگر تم میری اس حدیث کی تصدیق نہیں کرتے، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة النساء: 40] ”بے شک اللہ! ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا اور نیکی ہوگی تو اس کو بڑھائے گا، اور اپنی طرف سے اجر عظیم دے گا۔“ ”پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء علیہم السلام نے سفارش کر لی اور مومن سفارش کر چکے اور ارحم الراحمین کے سوا کوئی نہیں رہا، تو وہ آگ سے ایک مٹھی بھرے گا، تو وہ ایسے لوگوں کو اس سے نکالے گا جنہوں نے کبھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ (جل کر) کوئلہ ہو چکے ہوں گے، تو وہ انہیں جنت کے دروازوں پر ایک نہر میں ڈال دے گا۔ جس کو زندگی کی نہر کہا جاتا ہے، تو وہ اس طرح پھلے پھولیں گے، جس طرح قدرتی بیج سیلاب کے خس و خاشاک میں نشو و نما پاتا ہے۔ کیا تم اسے دیکھتے نہیں ہو؟ کبھی وہ پتھر کے پاس ہوتا ہے، اور کبھی درخت کے پاس جو سورج کے رخ پر ہوتا ہے۔ وہ زرد اور سبز ہوتا ہے، اور جو سایہ میں ہوتا ہے، وہ سفید ہوتا ہے۔“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گویا کہ آپ جنگل میں جانور چرایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ لوگ (نہر سے) موتی کی طرح نکلیں گے، ان کی گردنوں میں نشانی ہو گی۔ اہل جنت ان کو پہچانتے ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو، اور بغیر کسی خیر کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر اللہ فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ! اور تم نے جو کچھ دیکھا وہ تمہارا ہے۔ تو وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ تو وہ فرمائے گا: تمہارے لیے میرے پاس اس سے بھی افضل (برتر) چیز ہے۔ تو وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے افضل چیز کون سی ہے؟ تو وہ فرمائے گا: میری خوشنودی و رضا اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 183
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ﴾ برقم (4581) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالی ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (4739) انظر ((التحفة)) برقم (4172)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 183 ترقیم شاملہ: -- 455
قَالَ مُسْلِم: قَرَأْتُ عَلَى عِيسَى بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ، هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ، وَقُلْتُ لَهُ: أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْكَ، أَنَّكَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ حَمَّادٍ : أَخْبَرَكُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ؟ قُلْنَا: لَا "، وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّى انْقَضَى آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ، أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ، فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ.
امام مسلم نے کہا: میں نے شفاعت کے بارے میں یہ حدیث عیسیٰ بن حماد زغبہ مصری کے سامنے پڑھی اور ان سے کہا: ”(کیا) یہ حدیث میں آپ کے حوالے سے بیان کروں کہ آپ نے اسے لیث بن سعد سے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ (امام مسلم نے کہا:) میں نے عیسیٰ بن حماد سے کہا: آپ کو لیث بن سعد نے خالد بن یزید سے خبر دی، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چمکتا ہوا بے ابر دن ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ (امام مسلم نے کہا:) میں حدیث پڑھتا گیا یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئی اور (سعید بن ابی ہلال کی) یہ حدیث حفص بن میسرہ کی (مذکورہ) حدیث کی طرح ہے۔ انہوں نے ”بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بغیر کسی نیکی کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو“ کے بعد یہ اضافہ کیا: ”چنانچہ ان سے کہا جائے گا: ’تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تم نے دیکھا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور۔‘“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ پل بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہو گا۔“ لیث کی روایت میں یہ جملہ: ”تو وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا‘“ اور اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں۔ چنانچہ عیسیٰ بن حماد نے اس کا اقرار کیا (کہ انہوں نے اوپر بیان کی گئی سند کے ساتھ لیث سے یہ حدیث سنی۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 455]
امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سفارش کے بارے میں یہ حدیث عیسیٰ بن حماد رحمہ اللہ زغبہ مصری کو سنائی اور ان سے کہا: یہ حدیث میں آپ سے بیان کرتا ہوں، کیا آپ نے اسے لیث بن سعد رحمہ اللہ سے سنا ہے؟ تو ان (عیسیٰ رحمہ اللہ) نے کہا: جی ہاں! میں نے عیسیٰ بن حماد رحمہ اللہ کو کہا: آپ کو لیث بن سعد رحمہ اللہ نے خالد بن یزید رحمہ اللہ کے واسطہ سے سعید بن ابی ہلال رحمہ اللہ کی، زید بن اسلم رحمہ اللہ سے، عطاء بن یسار رحمہ اللہ کی ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مطلع صاف ہو، کیا تم آفتاب کے دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں! امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے آخر تک عیسیٰ رحمہ اللہ کو حدیث سنائی جو حفص بن میسرہ رحمہ اللہ کی حدیث جیسی ہے، انہوں نے اس کے بعد کہ ”بغیر اس کے انہوں نے کوئی عمل کیا ہو، یا نیکی آگے بھیجی ہو۔“ یہ اضافہ کیا، تو انہیں کہا جائے گا: ”تمہارے لیے ہے جو تم نے دیکھا، اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے یہ بات پہنچی ہے ”کہ پل بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہو گا۔“ لیث رحمہ اللہ کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”تو وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا“ اور اس کے مابعد، عیسیٰ بن حماد رحمہ اللہ نے میری اس حدیث کا اقرار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 183
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (453)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 183 ترقیم شاملہ: -- 456
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ، وَقَدْ زَادَ، وَنَقَصَ شَيْئًا.
زید بن اسلم کے ایک اور شاگرد ہشام بن سعد نے بھی ان دونوں (حفص اور سعید) کی مذکورہ سندوں کے ساتھ حفص بن میسرہ جیسی حدیث (454) آخر تک بیان کی اور کچھ کمی و زیادتی بھی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 456]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں کچھ کمی بیشی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 183
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (453)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ:
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 184 ترقیم شاملہ: -- 457
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ: انْظُرُوا، مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدِ امْتَحَشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوِ الْحَيَا، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟ "،
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا، اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالے گا، پھر فرمائے گا: دیکھو (اور) جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکال لو، (ایسے) لوگ اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں زندگی یا شادابی کی نہر میں ڈالا جائے گا تو اس میں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گھاس پھونس کا چھوٹا سا بیج سیلاب کے کنارے میں اگتا ہے تم نے اسے دیکھا نہیں کس طرح زرد، لپٹا ہوا، اگتا ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 457]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، اپنی رحمت سے جسے چاہے گا داخل کرے گا، اور دوزخیوں کو دوزخ میں داخل کرے گا، پھر فرمائے گا: دیکھو! جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ، تو اس کو نکال لو، تو انہیں اس حال میں نکالا جائے گا کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، تو انہیں زندگی کی یا بارش کی نہر میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں اس طرح پھلے پھولیں گے جس طرح قدرتی بیج سیلاب کے کٹاؤ پر نشو و نما پاتا ہے۔ کیا تم اسے دیکھتے نہیں ہو، کس طرح زرد لپٹا ہوا اگتا ہے؟!“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 457]
ترقیم فوادعبدالباقی: 184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الايمان، باب: تفاضل اهل الايمان في الاعمال برقم (22) وفي الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6560) انظر ((التحفة)) برقم (4407)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 184 ترقیم شاملہ: -- 458
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَا: فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ: الْحَيَاةُ، وَلَمْ يَشُكَّا، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ، أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ.
وہیب اور خالد دونوں نے عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ اس میں ہے: ”انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے الحیاۃ کہا جاتا ہے۔“ اور دونوں نے (پچھلی روایت کی طرح اس لفظ میں) کوئی شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں (یہ) ہے: ”جس طرح کوڑا کرکٹ (سیلاب میں بہ کر آنے والے مختلف قسم کے بیج) سیلاب کے کنارے اگتے ہیں۔“ اور وہیب کی روایت میں ہے: ”جس طرح چھوٹا سا بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 458]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے: ”اور وہ ایک ایسی نہر میں ڈالے جائیں گے جس کو ’زندگی‘ کی نہر کہا جائے گا۔“ دونوں نے اس میں شک نہیں کیا۔ اور خالد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جس طرح کوڑا کرکٹ اگتا ہے سیلاب کے کنارے۔“ اور وہیب رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جس طرح قدرتی بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (456)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 185 ترقیم شاملہ: -- 459
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ، أَوَ قَالَ: " بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً، حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا، أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ.
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک دوزخ والوں کی بات ہے تو وہ لوگ جو (ہمیشہ کے لیے) اس کے باشندے ہیں نہ تو اس میں مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن تم (اہل ایمان) میں سے جن لوگوں کو گناہوں کی پاداش میں (یا آپ نے فرمایا: خطاؤں کی بنا پر) آگ کی مصیبت لاحق ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک طرح کی موت طاری کر دے گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی، پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! ان پر پانی ڈالو تو وہ اس میں بیج کی طرح اگ آئیں گے جو سیلاب کے خس و خاشاک میں ہوتا ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحرائی آبادی میں رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 459]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہے وہ دوزخی جو اس کے (مستقل) رہائشی ہیں، وہ نہ اس میں مریں گے اور نہ زندہ ہوں گے، لیکن وہ (اہلِ ایمان) لوگ، جو گناہوں کی پاداش میں - یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصوروں کی بنا پر“ - آگ میں جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک قسم کی موت طاری کر دے گا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے، سفارش کی اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو، تو وہ اس قدرتی بیج کی طرح نشو و نما پائیں گے، جو سیلاب کے بہاؤ کے ساتھ آنے والی مٹی میں ہوتا ہے۔“ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 185
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4309) انظر ((التحفة)) برقم (4346)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 185 ترقیم شاملہ: -- 460
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَى قَوْلِهِ: فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
(بشر کے بجائے) شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی کہا، میں نے ابونضرہ سے سنا، (انہوں نے) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت میں «فِي حَمِيلِ السَّيْلِ» ”سیلاب کے خس و خاشاک میں“ (کے جملے) تک بیان کی اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 460]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت «فِي حَمِيلِ السَّيْلِ» تک بیان کی، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 185
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (458)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب آخِرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا:
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 186 ترقیم شاملہ: -- 461
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا، أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي، أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ".
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سے آخر میں اس سے نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ وہ ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا تو اسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر (پھر) کہے گا: اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے لیے (وہاں) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے (یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے) آپ نے فرمایا: وہ شخص کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے (یا میری ہنسی اڑاتا ہے) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے؟“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 461]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں جانتا ہوں کہ جہنم سے سب سے آخر میں کون نکلے گا اور جنت میں سب سے آخر میں کون داخل ہو گا؟ وہ ایک ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا، اللہ تعالیٰ (آخر میں اسے) فرمائے گا: جا! جنت میں داخل ہو جا! وہ جنت میں داخل ہو گا تو وہ یہ سمجھے گا کہ جنت بھر چکی ہے، واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! وہ تو بھر چکی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: جا، جنت میں داخل ہو جا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا تو اسے محسوس ہو گا کہ وہ تو بھر چکی ہے، واپس آ کر پھر کہے گا: اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: جا کر جنت میں داخل ہو جا! کیونکہ تیرے لیے دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زائد جگہ ہے، یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص عرض کرے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یا ہنسی کرتا ہے؟ حالانکہ تو بادشاہ ہے۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہو گئیں، راوی کہتے ہیں: اس بنا پر کہا جاتا تھا کہ یہ سب سے کم درجے والا جنتی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 186
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6571) و في التوحيد، باب: كلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الانبياء وغيرهم برقم (7511) مختصراً والترمذي في ((جامعه)) فى صفة جهنم، باب: ما جاء ان اللنار، نفسين، وما ذكر من يخرج من النار من اهل التوحيد . وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2595) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة الجنة برقم (4339) انظر ((التحفة)) برقم (9405)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 186 ترقیم شاملہ: -- 462
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ "، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
(منصور کے بجائے) اعمش نے ابراہیم سے، سابقہ سند کے ساتھ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یقیناً دوزخ والوں میں سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو جانتا ہوں۔ وہ پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا اس میں سے نکلے گا۔ اس سے کہا جائے گا: چل جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا تو وہ دیکھے گا کہ سب منزلیں لوگ سنبھال چکے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا؟ وہ کہے گا: ہاں! تو اس سے کہا جائے گا: تمنا کر، وہ تمنا کرے گا تو اسے کہا جائے گا: تم نے جو تمنا کی وہ تمہاری ہے اور پوری دنیا سے دس گنا مزید بھی (تمہارا ہے۔) وہ کہے گا: تو بادشاہ ہو کر میرے ساتھ مزاح کرتا ہے؟“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 462]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص کو یقیناً جانتا ہوں، جو دوزخیوں میں سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا۔ ایک شخص ہوگا جو سرین کے بل گھسٹ کر دوزخ سے نکلے گا، اس کو کہا جائے گا: چل کر جنت میں داخل ہو جا!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جا کر جنت میں داخل ہوگا تو وہ لوگوں کو اس حال میں پائے گا، وہ اپنی اپنی جگہ لے چکے ہیں، اسے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جو تو گزار کر آیا ہے؟ وہ کہے گا: ہاں! تو اسے کہا جائے گا: تمنا کر! وہ تمنا کرے گا تو اسے کہا جائے گا: جو تمنا تو نے کی ہے، اس کے ساتھ تیرے لیے دنیا سے دس گنا زائد ہے۔ تو وہ کہے گا: تو بادشاہ ہو کر میرے ساتھ مذاق کرتا ہے؟“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں کھل گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 186
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم {460)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں