Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فَضْلِ الْوُضُوءِ:
باب: وضو کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 223 ترقیم شاملہ: -- 534
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا".
حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ ’الحمد لله‘ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ ’سبحان الله‘ اور ’الحمد لله‘ آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے۔ صدقہ دلیل ہے۔ صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان جب دن کا آغاز کرتا ہے تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو وہ خود کو آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا خود کو تباہ کرنے والا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 534]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفائی (پاکیزگی) نصف ایمان ہے، «الحمد لله» میزان کو بھر دیتی ہے، «سبحان الله» اور «الحمد لله» دونوں آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں دلیل ہو گا، یا تمہارے خلاف۔ ہر انسان صبح کرتا ہے (گھر سے نکلتا ہے) اور اپنے آپ کو فروخت کرتا ہے (کام کاج میں مصروف ہوتا ہے) تو (اچھے اور نیک کام کر کے) اپنے آپ کو (اللہ کی پکڑ اور عذاب سے) آزاد کرتا ہے یا (گناہ اور برے کام کر کے) اپنے آپ کو تباہ و ہلاک کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 534]
ترقیم فوادعبدالباقی: 223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الدعوات برقم (3517) وقال: هذا حديث حسن صحيح انظر ((التحفة)) برقم (12167)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب وُجُوبِ الطَّهَارَةِ لِلصَّلاَةِ:
باب: نماز کے لئے طہارت کا ہونا ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 224 ترقیم شاملہ: -- 535
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَلَى ابْنِ عَامِرٍ، يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ، وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ ".
ابوعوانہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے۔ ابن عامر نے کہا: ’اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گے؟‘ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔ اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں (مبادا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابن عامر رحمہ اللہ کے پاس ان کی بیماری کی عیادت کے لیے گئے۔ ابن عامر رحمہ اللہ نے کہا: اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کریں گے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: کوئی نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور نہ کوئی صدقہ خیانت کی صورت میں۔ اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
ترقیم فوادعبدالباقی: 224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذى فى ((جامعه)) في الطهارة، باب: ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور - برقم (1) وقال: هذا الحديث اصح شي في الباب واحسن۔ وابن ماجه ((سننه)) في الطهارة وسنتها، باب: لا يقبل الله صلاة بغير طهور برقم (273) انظر ((التحفة)) برقم (7457)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 224 ترقیم شاملہ: -- 536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ . ح قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ كُلُّهُمْ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
شعبہ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 536]
امام صاحب رحمہ اللہ مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 536]
ترقیم فوادعبدالباقی: 224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (534)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 225 ترقیم شاملہ: -- 537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ، حَتَّى يَتَوَضَّأَ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں سنائیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث کا تذکرہ کیا، ان میں سے یہ بھی تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی بے وضو ہو جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ وضو کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 537]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی جب وہ بے وضو ہو جائے، حتیٰ کہ وہ (نئے سرے سے) وضو کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 537]
ترقیم فوادعبدالباقی: 225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى الوضوء، باب: لا تقبل صلاة بغير طهور برقم (135) وابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: فرض الوضوء برقم (60) والترمذي في ((جـامـعـه)) في الطهارة، باب: ما جاء في الوضوء من الريح، وقال: هذا حديث غريب حسن صحيح برقم (76) انظر ((التحفة)) برقم (14694)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب صِفَةِ الْوُضُوءِ وَكَمَالِهِ:
باب: وضو کی ترکیب اور اس کے پورا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 226 ترقیم شاملہ: -- 538
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا، يَقُولُونَ: هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلَاةِ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، نے انہیں بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور (ناک میں پانی ڈال کر) ناک جھاڑی، پھر تین بار چہرہ دھویا، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں بازو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں، ان دونوں کے دوران اپنے آپ سے باتیں نہ کیں، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے کہا: ہمارے علماء (تابعین) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 538]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے وضو کے لیے پانی لانے کا کہا اور وضو کیا، تو دونوں ہتھیلیاں (ہاتھ) تین مرتبہ دھوئیں، پھر کلی کی اور (ناک میں پانی ڈال کر) ناک جھاڑی، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین دفعہ دھویا، اس طرح بایاں دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اس طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں، ان دونوں میں اپنے آپ سے گفتگو نہ کی (خود کلامی نہ کی)، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے علماء کہتے تھے: کہ یہ خود کامل ترین وضو ہے، جو کوئی نماز کے لیے کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 538]
ترقیم فوادعبدالباقی: 226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: الوضوء ثلاثا ثلاثا برقم (159) وفي، باب: المضمضة في الوضوء - برقم (164) وفى الصيام، باب: سواك الرطب واليابس للصائم برقم (1934) وابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم برقم (106) والنسائي في ((المجتبى)) 64/1 في الطهارة فى، باب: المضمضة والاستنشاق وفي 65/1 في باب: بای اليدين يتمضمض - وفى 80/1 فى باب حد الغسل - انظر ((التحفة)) برقم (9794)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 226 ترقیم شاملہ: -- 539
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ ، " دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
یعقوب کے والد ابراہیم (بن سعد) نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سند کے ساتھ حمران سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر اپنے ہاتھوں پر تین بار پانی انڈیلا اور ان کو دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور (ناک میں پانی ڈال کر) ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور تین بار اپنے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا جس طرح میں نے اب کیا، پھر آپ نے فرمایا: جس نے اس طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں وہ اپنے آپ سے باتیں نہ کر رہا تھا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 539]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہ اس نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، اپنی ہتھیلیوں پر تین دفعہ پانی ڈال کر دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، پھر اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین دفعہ دھوئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، ان میں اپنے آپ سے گفتگو نہ کی، اس کے لیے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 539]
ترقیم فوادعبدالباقی: 226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (537)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلاَةِ عَقِبَهُ:
باب: وضو کی اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 227 ترقیم شاملہ: -- 540
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ لآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، فَيُصَلِّي صَلَاةً، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا "،
جریر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا، وضو کیا، پھر فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا۔‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو مسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے صحن میں سنا، عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا، تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر کتاب اللہ کی ایک آیت (علم چھپانے کی وعید کے بارے میں) نہ ہوتی، تو میں تمہیں نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان آدمی اچھی طرح وضو نہیں کرتا کہ اس سے کوئی نماز پڑھے، مگر اللہ تعالیٰ اس کی اس نماز اور اس سے پیوستہ (بعد والی) نماز کے درمیان کے گناہ (صغیرہ) معاف کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: الوضوء ثلاثا ثلاثا برقم (160) مطولا والنسائي في ((المجتبي)) في الوضوء، باب: ثواب من توضا كما امر 1/ 91 انظر ((التحفة)) برقم (9793)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 227 ترقیم شاملہ: -- 541
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ.
ہشام سے (جریر کے بجائے) ابواسامہ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی۔ ان میں ابواسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
ابو امامہ رحمہ اللہ، وکیع رحمہ اللہ اور سفیان رحمہ اللہ نے ہشام رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے حدیث سنائی۔ ابو اسامہ رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے: تو اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر فرض نماز پڑھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (539)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 227 ترقیم شاملہ: -- 542
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّهُ قَالَ: " فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا "، قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى قَوْلِهِ اللَّاعِنُونَ سورة البقرة آية 159.
ابن شہاب نے کہا: لیکن عروہ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث ضرور سناؤں گا، اللہ کی قسم! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا۔‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں۔ عروہ نے کہا: وہ آیت (جس کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا): ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ﴾ سے لے کر ﴿اللَّاعِنُونَ﴾ تک ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
حمران رحمہ اللہ نے کہا: جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، تو کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی، تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور وہ اپنے وضو کو اچھی طرح کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، تو اسے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: جو لوگ ان دلائل اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، جو ہم نے اتارے ہیں۔ سے لے کر «اللَّاعِنُونَ» لعنت کرنے والوں تک۔ (البقرة: 159) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم {539)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 228 ترقیم شاملہ: -- 543
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ عَبد، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا، وَخُشُوعَهَا، وَرُكُوعَهَا، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ ".
اسحاق بن سعید نے عمرو بن سعید بن عاص سے، انہوں نے اپنے والد (سعید بن عمرو) سے اور انہوں نے اپنے والد (عمرو بن سعید) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے، اور یہ بات ہمیشہ کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے روایت سنائی: کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے پانی طلب کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان انسان نے فرض نماز کا وقت پایا، پھر اس نے اس کے لیے اچھی طرح وضو کر کے اچھی طرح خشوع سے رکوع کیا (نماز پڑھی)، تو یہ نماز پچھلے تمام گناہوں کا کفارہ ہو گی، جب تک وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9833)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں