Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب الإِيتَارِ فِي الاِسْتِنْثَارِ وَالاِسْتِجْمَارِ:
باب: ناک میں طاق مرتبہ پانی ڈالنا، اور طاق مرتبہ استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 238 ترقیم شاملہ: -- 564
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ ".
عیسیٰ بن طلحہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسوں پر رات گزارتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 564]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو تین دفعہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے بانسے پر رات گزارتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 564]
ترقیم فوادعبدالباقی: 238
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: صفة ابليس وجنوده برقم (3295) والنسائي في ((المجتبي)) 1/ 67 في باب: الامر بالاستنثار عند الاستيقاظ من النوم۔ انظر ((التحفة)) برقم (14284)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 239 ترقیم شاملہ: -- 565
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو سنا، کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب ٹھوس چیز سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 565]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ڈھیلے استعمال کرے، تو طاق بار استعمال کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 565]
ترقیم فوادعبدالباقی: 239
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2842)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا:
باب: وضو میں مکمل پاؤں دھونے کے واجب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 240 ترقیم شاملہ: -- 566
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى شَدَّادٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
مخرمہ بن بکیر نے اپنے والد سے، انہوں نے شداد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی، انہوں نے کہا: جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس وضو کیا تو انہوں نے فرمایا: عبدالرحمن! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 566]
شداد رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے آکر ان کے سامنے وضو کیا، تو انہوں نے کہا: اے عبدالرحمن! وضو پورا (کامل) کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایڑیوں کے لیے آگ (جہنم) کی تباہی ہے (یعنی خشک رہنے کی صورت میں عذاب ہو گا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 566]
ترقیم فوادعبدالباقی: 240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (16092)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 240 ترقیم شاملہ: -- 567
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِه.
محمد بن عبدالرحمان نے شداد بن ہاد کے آزاد کردہ غلام ابوعبداللہ (سالم) سے روایت بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا: وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 567]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 567]
ترقیم فوادعبدالباقی: 240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (16092)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 240 ترقیم شاملہ: -- 568
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي، أَوْ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي جَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَابِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے بیان کیا کہ مہری کے آزاد کردہ غلام سالم نے مجھے بتایا کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے کے لیے نکلے تو ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے سے گزرے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ وضو کے لیے اندر گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عبدالرحمن! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 568]
سالم رحمہ اللہ جو مہری کے مولیٰ ہیں، بیان کرتے ہیں: کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے کے لیے نکلے، اور ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے سے گزرے، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 568]
ترقیم فوادعبدالباقی: 240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، التخريج السابق» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 240 ترقیم شاملہ: -- 569
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَذَكَرَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
نعیم بن عبداللہ نے شداد بن ہاد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی: وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 569]
شداد بن الہاد رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 569]
ترقیم فوادعبدالباقی: 240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انظر السابق والذي قبله»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 241 ترقیم شاملہ: -- 570
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ".
جریر نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابویحییٰ (مصدع، الاعرج) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے۔ راستے میں جب ہم ایک پانی والی منزل پر پہنچے تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی، وضو کیا تو جلدی میں تھے، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طرح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 570]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے، حتیٰ کہ جب ہم راست cubierta [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 570]
ترقیم فوادعبدالباقی: 241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في الطهارة، باب: اسباغ الوضوء برقم (97) والنسائي في ((المجتبي)) 78/1 في الطهارة، باب: ايجاب غسل الرجلين وفي باب: الامر باسباغ الوضوء 89/1 وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: غسل العراقيب برقم (450) انظر ((التحفة)) برقم (8936)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 241 ترقیم شاملہ: -- 571
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَفِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِى يَحْيَى الأَعْرَجِ.
منصور کے دوسرے شاگرد سفیان اور شعبہ کے حوالے سے بھی باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی گئی جس میں شعبہ نے (خوب اچھی طرح وضو کرو) کے الفاظ بیان نہیں کیے اور اس کی حدیث (کی سند) میں ہے: ابویحییٰ اعرج سے روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 571]
امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے، جس میں شعبہ نے «أَسْبِغُوا ٱلْوُضُوءَ» وضو مکمل کرو! کے الفاظ بیان نہیں کیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 571]
ترقیم فوادعبدالباقی: 241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (569)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 241 ترقیم شاملہ: -- 572
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
یوسف بن ماہک نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، ہم (میں سے کچھ لوگ) اپنے پاؤں پر (جلدی میں) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا: (ان) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 572]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے، آپ ہمیں اس حال میں ملے کہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے (پانی پاؤں کے لیے کم استعمال کیا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی: ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (ایڑیاں خشک رہ گئی تھیں) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 572]
ترقیم فوادعبدالباقی: 241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العلم، باب: من رفع صوته لعلم برقم (60) وفي باب: من اعاد الحديث ثلالث ليفهم عنه برقم (96) وفي الوضوء، باب: غسل الرجلين، ولا يمسح علي القدمين برقم (163) انظر ((التحفة)) برقم (8936)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 242 ترقیم شاملہ: -- 573
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " رَأَى رَجُلًا لَمْ يَغْسِلْ عَقِبَيْهِ، فَقَالَ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنی ایڑی نہیں دھوئی تھی تو آپ نے فرمایا: (ان) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 573]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے اپنے پاؤں کے پچھلے حصے (ایڑیاں) نہیں دھوئے تھے، تو آپ نے فرمایا: ایڑیوں کے لیے (خشک رہ جانے کی بنا پر) آگ کا عذاب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 573]
ترقیم فوادعبدالباقی: 242
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14371)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں