Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلاَةِ عَقِبَهُ:
باب: وضو کی اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 229 ترقیم شاملہ: -- 544
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: " أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ.
ابن عبدہ کی روایت میں ہے: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں عبدالعزیز دراوردی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتا، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: جس نے اس طریقے سے وضو کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا زائد (ثواب کا باعث) ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 544]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران رحمہ اللہ سے روایت سنائی: کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لایا، تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بیان کرتے ہیں، جن کی حقیقت کو میں نہیں جانتا، مگر میں نے رسول اللہ کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: جس نے اس طرح وضو کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے، اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا نفل (زائد ثواب کا باعث) ہو گا۔ ابن عبدہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے وضو کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9791)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 230 ترقیم شاملہ: -- 545
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَأَبُو بَكْرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ، فَقَالَ: " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا "، وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو النَّضْرِ: عَنْ أَبِي أَنَسٍ، قَالَ: وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: (اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کے ہیں) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابونضر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوانس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا، پھر کہا: ’کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو (کر کے) نہ دکھاؤں؟‘ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: سفیان نے کہا: ابونضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا: ان (عثمان رضی اللہ عنہ) کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
ابو انس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مقاعد (بیٹھنے کی جگہ) کے پاس وضو کرنے کا ارادہ کیا، تو کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ کا وضو نہ بتاؤں؟ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ اور قتیبہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کافی ساتھی موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
ترقیم فوادعبدالباقی: 230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم {9835)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 231 ترقیم شاملہ: -- 546
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ، إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً، وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهَا الْعَصْرَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ، أَوْ أَسْكُتُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ، فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا ".
مسعر نے ابوصخرہ جامع بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے (ہلکا سا غسل نہ کر لیتے)۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے: میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی، آپ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ہم نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اسے مکمل طریقے سے کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 546]
حمران بن ابان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا، وہ ہر دن کچھ پانی سے غسل فرماتے تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نماز سے (مسعر رحمہ اللہ نے کہا: میرا خیال ہے عصر مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد کہا: میں نہیں جانتا تم سے کچھ بیان کروں یا چپ رہوں؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر بہتری و بھلائی کی بات ہے، تو ہمیں بتا دیں! اور اگر کچھ اور ہے، تو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے، اس کو پوری طرح (مکمل طور پر) کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے، تو یہ نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان سرزد ہوئے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 231
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبي)) 91/1 في الطهارة، باب: ثواب من توضا كما أمر وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: ما جاء في الوضوء علی ما امر الله تعالی برقم (459) انظر ((التحفة)) برقم (9789)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 231 ترقیم شاملہ: -- 547
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ "، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ، وَلَا ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ.
عبیداللہ بن معاذ نے اپنے والد سے اور محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے محمد بن جعفر (غندر) سے روایت کی، ان دونوں (معاذ بن معاذ اور محمد بن جعفر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے جامع بن شداد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ بشر بن مروان کے دورِ امارت میں اس مسجد میں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس طرح وضو کو مکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو (اس کی) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے۔ یہ عبیداللہ بن معاذ کی روایت ہے، غندر کی حدیث میں بشر بن مروان کے دورِ حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے। [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 547]
جامع بن شداد رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہ میں نے حمران بن ابان رحمہ اللہ سے اس مسجد میں ابو بردہ رحمہ اللہ کو بشر کے دور حکومت میں بتاتے ہوئے سنا، کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کو اس طرح پورا کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے، تو فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ بنیں گی جو ان کے درمیان ہوئے۔ یہ ابن معاذ رحمہ اللہ کی روایت ہے، غندر رحمہ اللہ کی حدیث میں بشر کی امارت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 547]
ترقیم فوادعبدالباقی: 231
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (545)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 232 ترقیم شاملہ: -- 548
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: " تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا، وُضُوءًا حَسَنًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ ".
بکیر بن عبداللہ (مخرمہ کے والد) نے حمران (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف نکلا، نماز ہی نے اسے (جانے کے لیے) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 548]
حمران رحمہ اللہ (مولیٰ عثمان) سے روایت ہے، کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضو کیا پھر فرمایا: جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد کو محض نماز کے ارادے سے گیا، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 548]
ترقیم فوادعبدالباقی: 232
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم {9787)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 232 ترقیم شاملہ: -- 549
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ، أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ ".
معاذ بن عبدالرحمن نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 549]
حمران رحمہ اللہ مولیٰ عثمان بن عفان، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے نماز کے لیے کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا باجماعت نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 232
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: قول الله تعالی ﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ ‎، إِنَّ الشَّيْطَانَ .. الآية ﴾ برقم (6433) والنسائي في ((المجتبى)) 1/ 111- 112 في الامامة، باب: حد ادراك الجماعة - انظر ((التحفة)) برقم (9797)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ.
باب: بیان ہے کہ پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں جو ان کے درمیان میں کیے جائیں اگر کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 233 ترقیم شاملہ: -- 550
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كلهم، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلاةُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ، مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ ".
علاء نے اپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچوں نمازیں اور (ہر) جمعہ (دوسرے) جمعہ تک اور (ہر) رمضان (دوسرے) رمضان تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 550]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہیں کیا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 233
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة،» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 233 ترقیم شاملہ: -- 551
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ".
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ (دوسرے) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 551]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا: پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 233
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14534)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 233 ترقیم شاملہ: -- 552
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ".
اسحاق بن عبداللہ (عمر بن اسحاق کے والد) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جب (انسان) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں، ایک جمعہ (دوسرے) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 552]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: پانچ نمازیں، جمعہ سے اگلے جمعہ تک، رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں جب کہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 233
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1283)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الذِّكْرِ الْمُسْتَحَبِّ عَقِبَ الْوُضُوءِ:
باب: وضو کے بعد کیا پڑھنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 234 ترقیم شاملہ: -- 553
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الإِبِلِ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي، فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ؟ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ، يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا عُمَرُ ، قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُبْلِغُ، أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ،
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید کے حوالے سے ابوادریس خولانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اسی طرح (معاویہ نے) کہا: مجھے ابوعثمان نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کو انہیں چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے، مجھے آپ کی یہ بات (سننے کو) ملی: جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا: ’کیا خوب بات ہے یہ!‘ تو میرے سامنے ایک شخص کہنے لگا: ’اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔‘ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: ’میں نے دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے پہلے) فرمایا تھا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے (یا اچھی طرح وضو کرے) پھر یہ کہے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے۔[صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 234
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداود في ((سننه)) في الطهارة، باب: ما يقول الرجل اذا توضا (169) مطولا - وفي الصلاة، باب: كراهية الوسوسة وحديث النفس في الصلاة برقم (906) والنسائي في ((المجتبى)) 94/1-95 في الطهارة، باب: ثواب من احسن الوضوء ثم صلى ركعتين - انظر ((التحفه)) برقم (9914)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں