مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(ایک برتن سے غسل اور بڑے ٹب کی روایت)
حدیث نمبر: 159
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ , وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قدح یعنی فرق (بڑے ٹب) سے غسل کر لیتے تھے، میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 250، ومسلم: 321، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4546، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1108»
(استخاضہ کے خون پر غسل اور بڑے ٹب کی روایت)
حدیث نمبر: 160
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّي ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ، وَتَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَيَعْلُوَ الدَّمُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ام حبیبہ بنت حجش کو سات سال استخاضہ کی شکایت رہی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کسی دوسری رگ کا خون ہے، یہ حیض نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کر کے نماز ادا کیا کرے، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی، وہ ایک بڑے ٹب میں بیٹھتی تھی، تو خون (پانی پر) غالب آ جاتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 327، ومسلم: 334، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4405، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 1351،1352، 1353»
(اچھے وضو اور ایڑیوں کے لیے جہنم کی تنبیہ)
حدیث نمبر: 161
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمان بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں وضو کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے عبدالرحمان! اچھی طرح وضو کرو! کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(کچھ) ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم 240 وابن حبان فى ”صحيحه“: 1059، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4426»
(مسواک سے منہ کی صفائی اور رضامندی کی روایت)
حدیث نمبر: 162
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضي اللَّهُ عَنْها، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِّ , مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“: 1067، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4569،4598، 4916، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 24840»
(غسل جنابت سے قبل ہاتھ دھونے کی روایت)
حدیث نمبر: 163
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ، ثُمَّ يُشْرِبُ شَعْرَهُ الْمَاءَ، ثُمَّ يُحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل جنابت کا ارادہ کرنا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں ہاتھ ڈالنے سے قبل ہاتھ دھوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شرمگاہ کو دھوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں تک پانی پہنچاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین لپ ڈال لیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 248، ومسلم: 316 وابن حبان فى ”صحيحه“: 1191، 1196، 1197، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 44304481، 4482، 4497، 4855، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 24895»
(بچوں کی دعا اور پیشاب پر پانی بہانے کی روایت)
حدیث نمبر: 164
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُوَ لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ , فَبَالَ عَلَيْهِ , فَأَتْبَعَ بَوْلَهُ الْمَاءَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچے لائے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعائے خیر کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیشاب پر پانی بہا دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 222، 5468، 6002 6355، ومسلم: 286، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1372، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4623، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 24829»
(ابواء کی رات ہار گرنے اور تیمم کی آیت کی روایت)
حدیث نمبر: 165
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا سَقَطَتْ قِلادَتُهَا لَيْلَةَ الأَبْوَاءِ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي طَلَبِهَا، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ، فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَصْنَعَانِ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ تَكْرَهِينَهُ إِلا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: «ابواء» کی رات ان کا ہار گر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے دو آدمی اس کی تلاش میں بھیجے، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا، ان دونوں کے ساتھ پانی نہیں تھا، انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں، تو تیمم سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ اس پر سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں) کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، آپ کے ساتھ جب بھی کوئی معاملہ پیش آیا جو آپ کو ناپسند ہو تو، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس میں نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں بھلائی پیدا کر دی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 334، 336، 3672، 3773، ومسلم: 367، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1300، 1317، 1709، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4771»
(حیض کی حالت میں ہڈی چوسنے کی روایت)
حدیث نمبر: 166
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَتَعَرَّقُهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ، فَيُدِيرُهُ حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فَمِي" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہڈی دیتے تھے میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، میں اسے چوستی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه مسلم فى ”صحيحه“ برقم: 300، وابن حبان فى صحيحه برقم: 1293، 1360، 1361، 4181 وابن خزيمة فى صحيحه، برقم: 110 وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4771، وأحمد فى ”مسنده“: برقم: 24966»
(حیض کے بعد مشک سے طہارت کی ہدایت کی روایت)
حدیث نمبر: 167
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ فِي الْحَيْضَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذِي فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا"، فَقَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ: قُلْتُ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا:" سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا!" , وَاسْتَتَرَ بِثَوْبِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفَتُ الَّذِي أَرَادَ فَاجْتَذَبْتُهَا، وَقُلْتُ لَهَا: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بعد غسل کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مشک سے بسی ہوئی روئی لو اور اس کے ذریعہ طہارت حاصل کرو۔“ اس نے دریافت کیا: میں اس کے ذریعہ کیسے طہارت حاصل کروں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے ذریعہ طہارت حاصل کرو۔“ اس نے دریافت کیا: میں اس کے ذریعہ کیسے طہارت حاصل کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعہ اس طرح اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”سبحان اللہ! تم اس کے ذریعہ طہارت حاصل کرو۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے ذریعہ پردہ کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مجھے سمجھ میں آ گئی میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور اس سے کہا: تم اس کے ذریعہ خون کے اثرات کو صاف کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري 314، ومسلم: 332، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1293، 1360، 1361، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:3733»
(ایک برتن سے غسل اور پانی باقی رکھنے کی روایت)
حدیث نمبر: 168
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتَ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَرُبَّمَا قَالَ لِي:" أَبْقِ لِي، أَبْقِ لِي" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے تھے بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرماتے تھے: ”میرے لیے (پانی) باقی رہنے دینا، میرے لیے باقی رہنے دینا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه وابن حبان فى ”صحيحه“: 1195، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4547»