مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(روزے میں بوسہ لینے اور مسکرانے کی روایت)
حدیث نمبر: 199
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ" , قَالَ: ثُمَّ تَضْحَكُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري:1927، 1928، ومسلم: 1106، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 3537، 3539، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4428»
(صبح صادق پر جنابت کے بعد روزہ رکھنے کی روایت)
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ ذَلِكَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بعض اوقات) صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے اور اس دن کا روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 1925، 1930، 1931، ومسلم: 1109، 1110، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 3486، 3491، 3493، 3494، 3496، 3497 وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4427، 4551، 4637»
حدیث نمبر 201
حدیث نمبر: 201
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْرِدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حمزہ بن عمرو اسلمی جو مسلسل نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں، تو کیا سفر کے دوران بھی روزہ رکھوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو، اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1942، 1943 ومسلم 1121، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3560، 3567، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4502، 4654»
حدیث نمبر 202
حدیث نمبر: 202
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كِلاهُمَا , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عاشورہ کا دن ایسا دن تھا جس میں زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا جاتا تھا، یہ رمضان کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اب جو شخص چاہے اس دن میں روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے اس دن میں روزہ نہ رکھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1592، 1893، 2001، 2002، ومسلم: 1125، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3621، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4638»
حدیث نمبر 203
حدیث نمبر: 203
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَ:" فَلْتَنْفُرْ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آ گیا انہوں نے اپنے حیض کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہیں طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ روانہ ہو جائے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4401، ومسلم: 1211، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3900، 3902-3905، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4504»
حدیث نمبر 204
حدیث نمبر: 204
حَدَّثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ , إِلا أَنَّهُ قَالَ: فَلا إِذًا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی (مسئلہ) نہیں ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 1757، ومالك فى الحج: 334، وابن حبان في ”صحيحه“: 3902، وانظر حديث سابق»
حدیث نمبر 205
حدیث نمبر: 205
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ مِنْكُمْ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ، وَأَهلَّ نَاسٌ بِالْحَج وَالْعُمْرَةِ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةٍ . قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ غَلَبَنِي الْحَدِيثُ فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے، تم سے جو صرف حج کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے اور جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی یہی تلبیہ پڑھا تو کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھا، کچھ لوگوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پڑھا۔ میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا (یا اس کی نیت کی تھی)۔ سفیان کہتے ہیں: پھر میں اس حدیث کے حوالے سے معذور ہو گیا، صرف اس کا یہ حصہ مجھے یاد ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري:294، ومسلم: 1211، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3792، 3795، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4504»
حدیث نمبر 206
حدیث نمبر: 206
حَدَّثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ"، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ ایسا کر لے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے (کا تلبیہ) نہیں پڑھا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 1211، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 3934، 3935، 3936، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4361، 4362،4543»
حدیث نمبر 207
حدیث نمبر: 207
حَدَّثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو الأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَتِيمُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا مَنْ أَفْرَدَ، وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ، وَمِنَّا مَنِ اعْتَمَرَ، فَأَمَّا مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَلَّ، وَأَمَّا مَنْ أَفْرَدَ , أَوْ قَرَنَ , فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم میں سے کچھ نے حج افراد کی نیت کی تھی، کچھ نے حج قران کی نیت کی تھی اور کچھ نے عمرہ کرنے کی نیت کی تھی، تو جس نے عمرہ کرنے کی نیت کی تھی اس نے بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیا، جس نے حج افراد یا حج قران کی نیت کی تھی اس نے احرام اس وقت تک نہیں کھولا جب تک اس نے جمرہ کی رمی نہیں کر لی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1562، ومسلم: 1211، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3912، وأبو يعلى الموصلي فى”مسنده“:3462»
حدیث نمبر 208
حدیث نمبر: 208
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِسَرَفٍ , أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَالَكِ أَنَفِسْتِ؟" , فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ" , قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .
عبدالرحمان بن قاسم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا یہاں تک کہ جب میں ”سرف“ کے مقام پر پہنچی یا اس کے قریب پہنچی تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کا مقدر کر دیا ہے، تم وہ مناسک ادا کرو، جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري:294، 305، ومسلم: 1211، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3834، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4719»