مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(صبح صادق کے قریب سونے کی روایت)
حدیث نمبر: 189
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا أَلْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرَ الآخِرَ قَطُّ عِنْدِي إِلا نَائِمًا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح صادق کے قریب سوتے ہوئے ہی پایا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1133، ومسلم: 742، وابن حبان فى ”صحيحه“: 2637، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4662، 4835»
(نفلی روزہ رکھ کر حیس کھانے کی روایت)
حدیث نمبر: 190
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنِ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ قَعْبًا فِيهِ حَيْسٌ خَبَّأْنَاهُ لَهُ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَأَكَلَ، وَقَالَ:" أَمَا إنَّي قَدْ كُنْتُ صَائِمًا" .
عائشہ بنت طلحہ اپنی خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا جس میں حیس (مخصوص قسم کا حلوہ) موجود تھا، جسے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنبھال کر رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور اسے کھا لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تو (نفلی) روزہ رکھا ہوا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 1154 وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 3628،3629، 3630 وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4563،4596، 4743»
(کھانا نہ ہونے پر نفلی روزہ رکھنے کی روایت)
حدیث نمبر: 191
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , فَقُلْتُ: مَا عِنْدَنَا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ:" فَإنَي صَائِمٌ" .
عائشہ بنت طلحہ اپنی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں (نفلی) روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر حديث سابق، وأخرجه مسلم 1154 وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 3628،3629، 3630 وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4563،4596، 4743»
(عمر زیادہ ہونے پر بیٹھ کر نماز کی روایت)
حدیث نمبر: 192
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ قَائِمًا، فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيتْ عَلَيْهِ ثَلاثُونَ , أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةَ قَامَ فَقَرَأَهَا , ثُمَّ رَكَعَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ جب تیس یا چالیس آیات کی تلاوت باقی رہ جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے، پھر رکوع میں جاتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1118، 1119، 1148، 1161، 1168 ومسلم: 731، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 2509، 2630، 2632 2633، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4722»
(استخاضہ پر حیض کے بعد غسل کی ہدایت کی روایت)
حدیث نمبر: 193
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهَا:" إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيضِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ، فَاتْرُكِي الصَّلاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ , فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، أَوْ قَالَ: اغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت «ابوحُبَيْشٍ» کو استخاضہ کی شکایت ہو گئی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے، یہ حیض نہیں ہے، جب حیض آ جائے، تو تم نماز ترک کر دو اور جب وہ رخصت ہو جائے، تو تم غسل کر کے نماز ادا کرنا شروع کر دو۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”تم اپنے آپ سے خون کو دھو کر نماز پڑھنا شروع کر دو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري:228، ومسلم: 333، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1348، 1350، 1354، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4486»
(عصر کی بعد کی دو رکعات نہ ترک کرنے کی روایت)
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعات کبھی ترک نہیں کیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 590، ومسلم: 835، وابن حبان فى ”صحيحه“برقم: 1570، 1571،1572، 1573، 1577، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4489»
(پانچ رکعات وتر کے آخر میں بیٹھنے کی روایت)
حدیث نمبر: 195
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ لا يَجْلِسُ إِلا فِي آخِرِهِنَّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعات وتر ادا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آخر میں بیٹھتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم: 737، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 2437، 2438، 2439، 2440، 2464، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4526، 4560»
(رمضان کے عشرے میں اعتکاف اور خیموں کی روایت)
حدیث نمبر: 196
قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَسَمِعْتُ بِذَلِكَ فَاسْتَأَذَنْتُهُ، فَأَذِنَ لِي، ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْهُ حَفْصَةُ، فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْهُ زَيْنَبُ، فَأَذِنَ لَهَا، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ، صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَأَى فِي الْمَسْجِدِ أَرْبَعَةَ أَبْنِيَةٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" , قَالُوا: لِعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آلْبِرَّ يُرِدْنَ بِهَذَا؟" , فَلَمْ يَعْتَكِفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْعَشَرَةَ، فَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِي هَذَا الْحديث: آلْبِرُّ تَقُولُونَ بِهِنَّ؟.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ کیا میں نے اس بارے میں سنا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی (کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کروں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت عطا کر دی، پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی، پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے اعتکاف کے مقام پر تشریف لے جاتے تھے (اس موقع پر) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چار خیمے لگے ہوئے دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کس کے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہم کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان خواتین نے ان کے ذریعہ نیکی کا ارادہ کیا ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے عشرے میں اعتکاف کیا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض اوقات سفیان نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کیا تم ان خواتین کے بارے میں نیکی کی رائے رکھتے ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 196]
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض اوقات سفیان نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کیا تم ان خواتین کے بارے میں نیکی کی رائے رکھتے ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 2033، 2034، 2041، 2045، ومسلم: 1172، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3667، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4506، 4912»
(روزہ دار کے بوسہ لینے اور مباشرت کی روایت)
حدیث نمبر: 197
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَتَذَاكَرَ الْقَوْمُ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، وَقَالَ آخَرُ: قَدْ صَامَ سَنَتَيْنِ، وَقَامَ لَيْلَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي هَذِهِ، فَأَضْرِبُكَ بِهَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ سَلْهَا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ أَرْفُثُ عِنْدَهَا سَائِرَ الْيَوْمِ، فَسَمِعَتْ مَقَالَتَهُمْ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ إِنَّمَا أَنَا أُمُّكُمْ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ الصَّائِمُ يُقَبِّلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ , وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرَبِهِ" .
علقمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ چھیڑ دیا: کیا روزہ دار شخص (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: جی ہاں! ایک دوسرے صاحب بولے: جو دو سال تک مسلسل نفلی روزے رکھتے رہے تھے اور رات بھر نوافل ادا کرتے رہے تھے، میں نے یہ ارادہ کیا میں اپنی یہ کمان پکڑوں اور اس کے ذریعہ تمہیں ماروں (راوی کہتے ہیں) جب ہم مدینہ منورہ آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ان لوگوں نے کہا: اے ابوشبل! تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کرو، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کوئی برائی کی بات نہیں کروں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کی گفتگو سن لی انہوں نے دریافت کیا: تم لوگ کس موضوع پر بات کر رہے ہو؟ میں تمہاری ماں ہوں۔ لوگوں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! روزہ دار شخص (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی زوجہ محترمہ کا) بوسہ لے لیا کرتے تھے، ان کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو حاصل تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1927، ومسلم: 1106، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4428، 4718»
(روزے کی حالت میں بوسہ لینے کی تصدیق کی روایت)
حدیث نمبر: 198
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ : أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ" .
سفیان کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے دریافت کیا: کیا آپ نے اپنے والد کو یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے، تو وہ ایک گھڑی کے لیے خاموش رہے، پھر انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 1928 ومسلم: 1106 وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 3537، 3539، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4428»