🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 229
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ" . فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا؟ فَقَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَقُلْ لَنَا هَذَا الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ، إِنَّمَا قَالَهُ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا حکم مختلف ہے۔ سفیان سے دریافت کیا گیا: وہ عورت شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی؟ سفیان نے کہا: زہری نے اپنی روایت میں یہ الفاظ ہمارے سامنے بیان نہیں کیے یہ الفاظ ایوب بن موسیٰ نے اپنی روایت میں ہمارے سامنے بیان کیے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4424، وفي صحيح ابن حبان برقم 4303، من طريق سفيان، بهذا الإسناد» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 230
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ , قَالا: حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو بھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو عورت کو مہر ملے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا ہے اور اگر ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس کو کوئی ولی نہ ہو حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى «‏‏‏‏مسند الموصلي» برقم 2508، وفي صحيح ابن حبان برقم 4074، 4075، وفي موارد الظمآن برقم 1248»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 231
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 231
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے رضاعی چچا فلح بن ابوقعیس آئے اور انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے میں نے انہیں اجازت نہیں دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارا چچا ہے تم اسے اجازت دے دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد 36/6، 37، 271، ومسلم فى الرضاع 1445، والنسائي فى النكاح 103/6 وابن ماجه فى النكاح 1948، وابن حزم فى «‏‏‏‏المحلى» 5/10 من طريق سفيان، بهذا الإسناد، سوانظر الحديث التالي، و مسند الموصلي برقم 4501،و «صحيح ابن حبان، برقم 4109، 4219» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 232
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ , هُوَ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!مجھے ایک عورت نے دودھ پلایا ہے مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا ہاتھ خاک آلود ہوا تمہارا چچا ہے تم اسے اجازت دے دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه عبد الرزاق برقم 13941، وأبو داود فى النكاح 2057، .التمام التخريج انظر «مسند الموصلي» برقم 4501، و التعليق السابق، و «معجم شيوخ أبى يعلى الموصلي» برقم 35»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 233
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 233
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، وَكَانَ مِنْ جَيِّدِ مَا يَرْوِيِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ , أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو اس وقت میں چھ سال کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سات سال کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو اس میں نو سال کی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى «‏‏‏‏مناقب الأنصار» ‏‏‏‏ 3894، - واطرافه -، ومسلم فى النكاح 1422 وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم4673، وانظر أيضا «صحيح ابن حبان برقم 7097»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 234
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 234
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيَّ حَوْفٌ فَمَا هُوَ إِلا أَنْ تَزَوَّجَنِي، فَأُلْقَى عَلَيَّ الْحَيَاءَ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَالْحَوْفُ: ثِيَابٌ مِنْ سُيُورٍ تُلْبِسُهُ الأَعْرَابُ أَبْنَاءَهُمْ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی، تو میں نے حوف (مخصوص قسم کا دیہاتی لباس) پہنا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی تو میں اپنے آپ میں سمٹ گئی۔ سفیان کہتے ہیں: حوف مخصوص قسم کا لباس ہے، جسے دیہاتی اپنے بچوں کو پہناتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف، وقد خرجناه فى مسند الموصلي برقم 4822، من طريق سفيان، بهذا الإسناد. وانظر الحديث السابق.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 235
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 235
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، وَكَانَ طَوِيلا فَحَفِظْتُ مِنْهُ هَذَا، حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَتْ:" عَلِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَنْفُثُ كَمَا يَنْفُثُ آكِلُ الزَّبِيبِ، وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَهُنَّ فِي أَنْ يَكُونَ عِنْدِي فَأَذِنَّ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ" ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ الْعَبَّاسِ، فَقَالَ: لَمْ تُخْبِرْكَ بِالآخَرِ؟ فَقُلْتُ: لا، قَالَ الآخَرُ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں نے عرض کی: اے امی جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائیں جس کے دوران آپ کا وصال ہوا تھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: جس بیماری کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں سانس لیا کرتے تھے، جس طرح کشمش کھانے والا سانس لیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین سے یہ اجازت لی کہ آپ میرے ہاں رہیں، تو ان خواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ان میں سے ایک سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے دریافت کیا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں دوسرے صاحب کے بارے میں نہیں بتایا؟ میں نے یہ جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى الوضوء 198، وانظر أطرافه الكثيرة - ومسلم فى الصلاة 418، 91، 92، 93، من طريق الزهري، بهذا الإسناد. والتمام التخريج انظر مسند الموصلي، برقم 4478، مع التعليق عليه، و صحيح ابن حبان برقم 2116، و 2118، 2119، 2124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 236
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 236
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولَ: " قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَاخْتَرْنَهُ، أَفَكَانَ ذَلِكَ طَلاقًا؟" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اختیار دیا تھا، تو ان ازواج نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تھا، تو کیا یہ چیز طلاق ہوئی تھی؟ [مسند الحميدي/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى الطلاق 1477، والترمذي فى الطلاق 1179، وقد جمعنا طرفه و استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي، برقم 4371، وفي صحيح ابن حبان برقم 4267»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 237
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 237
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحِلَّ لَهُ النِّسَاءَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خواتین کو حلال قرار نہیں دیا گیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی چاہے شادیاں کر سکتے تھے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى موارد الظمآن برقم 2126 وفي صحيح ابن حبان برقم 6366» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 238
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 238
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثُونَا عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِشَعِيرٍ" . قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: فَوَقَفَنَا سُفْيَانُ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ (کے ساتھ شادی کے بعد) ولیمے میں جَو کھلائے تھے۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے اس پر سفیان کو ٹوکا تو انہوں نے کہا: میں نے یہ نہیں سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 238]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد استولينا تخريجه والتعليق عليه فى «مسند الموصلي» برقم 4686، من طريق سفيان، بهذا الإسناد»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں