مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 219
حدیث نمبر: 219
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ مَرَّةً غَنَمًا". زَادَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ فِيهِ: فَقَلَّدَهَا.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہدی میں بکریاں بھجوائی تھیں۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابومعاویہ نامی راوی نے اس روایت میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنائے تھے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 219]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابومعاویہ نامی راوی نے اس روایت میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنائے تھے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1701، 1702، ومسلم: 1321، وابن حبان فى ”صحيحه“: 4003، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:1394، 4889»
حدیث نمبر 220
حدیث نمبر: 220
ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَة ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ , ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے لیے ہار بنایا کرتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے، جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1696، 1698، ومسلم: 1321، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 4003، 4009،4010، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4394، 4852»
حدیث نمبر 221
حدیث نمبر: 221
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَقُلْتُ: مَا أُبَالِي أَلا أَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي! إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ، لا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ" .
عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ آیت تلاوت کی: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا» ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔“ تو میں نے کہا: میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اگر میں ان دونوں کا طواف نہیں کرتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھانجے تم نے بہت غلط بات کہی ہے۔ جو شخص ”مشلل“ میں موجود منات طاغیہ سے احرام باندھتا تھا وہ صفا و مروہ کی سعی نہیں کیا کرتا تھا (یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا» ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان دونوں) کا طواف کیا ہے اور مسلمانوں نے بھی ان کا طواف کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: مجاہد نے یہ بات بیان کی ہے: یہ سنت ہے۔ زہری کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابوبکر بن عبدالرحمان کو سنائی تو وہ بولے: یہ علم ہے میں نے کئی اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، جو عرب صفا و مروہ کا طواف نہیں کیا کرتے تھے وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہمارا ان دو پتھروں (یعنی پہاڑوں) کا طواف کرنا زمانہ جاہلیت کا کام ہے۔ جبکہ کچھ انصار کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہمیں صفا و مروہ کا چکر لگانے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ» ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ ابوبکر بن عبدالرحمان نے فرمایا: شاید یہ آیت ان لوگوں اور ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم: 1277، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3739، 3740، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4730»
حدیث نمبر 222
حدیث نمبر: 222
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ , سَمِعَ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ: حَضَرْتُ جِنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ وفِي الْجَنَازَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَجَلَسْتُ بَيْنَهُمَا، فَبَكَى النِّسَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ لِلْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: صَدَرْنَا مَعَ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ نُزُولٍ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَانْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ ثُمَّ الْحَقْني، قَالَ: فَذَهَبْتُ , ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا صُهَيْبٌ مَوْلَى ابْنِ جُدْعَانَ، فَقَالَ مُرْهُ: فَلْيَلْحَقْنِي، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثُ عُمَرُ أَنْ طُعِنَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ وَهُوَ يَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: مَهٍ يَا صُهَيْبُ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ , إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164" .
ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں شریک ہوا جنازے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ خواتین نے رونا شروع کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: زندہ شخص کے میت پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: (ایک مرتبہ) ہم لوگ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مکہ سے) واپس آ رہے تھے، جب ہم ”بیداء“ کے مقام پر پہنچے تو وہاں کچھ سوار ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ! تم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ یہ سوار کون ہیں؟ پھر میرے پاس آؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں گیا، میں نے واپس آ کر بتایا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ان سے کہو کہ ہمارے ساتھ مل لیں، جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو کچھ ہی عرصے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: رک جاؤ اے صہیب! میت کو زندہ شخص کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولیں: اللہ تعالیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔“ (یعنی عذاب کے ساتھ اسے اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بھی تکلیف ہوتی ہے)۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے: «وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» ”کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1286، 1287، 1288، ومسلم: 929، 930، 932، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3135، 3136، 3137، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 295»
حدیث نمبر 223
حدیث نمبر: 223
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهَا: " إِنَّ أَهْلَهَا الآنَ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت کے بارے میں یہ فرمایا تھا حالانکہ اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اس وقت اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1286، 1289، ومسلم: 928، 929، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3123، 3133، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4499، 4711، 5681»
حدیث نمبر 224
حدیث نمبر: 224
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعًا لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً، فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلا شُفِّعُوا فِيهِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس بھی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس پر لوگوں کا اتنا گروہ نماز جنازہ ادا کر لے جو ایک سو تک پہنچے ہوں، تو وہ اگر اس میت کے لیے سفارش کریں، تو ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 947، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3081، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4398»
حدیث نمبر 225
حدیث نمبر: 225
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ حُمَّ أَصْحَابُهُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَجِدُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟" , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبِّحٌ فِي أَهْلِه ِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ! وَدَخَلَ عَلَى عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَجِدُكَ؟"، فَقَالَ: وَجَدْتُ طَعْمَ الْمَوْتِ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِه كَالثَّوْرِ يَحْمِي جِلْدَهُ بِرَوْقِهِ قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَى بِلالٍ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَجِدُكَ؟" , فَقَالَ: أَلا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَخٍّ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: بِوَادِ وَحَوْلِي إِذْخَرٌ وَجَلِيلُ، وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنَّ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ، دَعَاكَ لأَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لأَهْلِ الْمَدِينَةَ مِثْلَ مَا دَعَاكَ لأَهْلِ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِينَتِنَا" . قَالَ سُفْيَانُ وَأَرَى فِيهِ: وَفِي فَرَقِنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْهَا إِلَيْنَا مِثْلَ مَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ , أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا وَحُمَّاهَا إِلَى خُمٍّ , أَوْ إِلَى الْجُحْفَةِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو بخار رہنے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کیا حال ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے زیادہ اس سے قریب ہوتی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ (کی عیادت کے لیے) ان کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: میں نے موت کو چکھنے سے پہلے ہی اس کا ذائقہ چکھ لیا ہے، بے شک بزدل کی موت اس پر سے ایسے نکلتی ہے جیسے بیل اپنی کھال کو اپنے گوبر سے بچاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا، جب میں ”فخ“ (مکہ مکرمہ کی ایک وادی) میں رات بسر کروں گا۔ (یہاں سفیان نامی راوی بعض اوقات لفظ وادی نقل کیا ہے) اور میرے اردگرد ”اذخر“ اور ”جلیل“ (مکہ مکرمہ کی گھاس کے مخصوص نام) ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! بے شک سیدنا ابراھیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل تھے۔ انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں میں اہل مدینہ کے لیے تجھ سے دعا کرتا ہوں، اسی کی مانند جو انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے کی تھی۔ اے اللہ ہمارے ”صاع“ میں برکت دے، ہمارے ”مد“ میں برکت دے، ہمارے مدینے میں برکت دے دے۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”ہمارے برتنوں میں برکت دے دے۔ اے اللہ! ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کر دے جس طرح تو نے مکہ کو ہمارے نزدیک محبوب کیا تھا، یا اس سے بھی زیادہ کر دے اور یہاں کی آب و ہوا کو صحت افزا کر دے اور یہاں کی وباء اور بخار کو خم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1889، 3926، 5654، 5677، 6372، ومسلم: 1376، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3724، 5600»
حدیث نمبر 226
حدیث نمبر: 226
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَقُّ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ: إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں کو اب یہ بات پتہ چل گئی ہے، میں دنیا میں ان سے جو کہا کرتا تھا وہ سچ تھا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا: ”بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى الجنائز 1371، من طريق سفيان، بهذا الإسناد وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4518،. وانظر تعليقاً على حديث عمر. برقم 140، فى مسند الموصلي أيضاً»
حدیث نمبر 227
حدیث نمبر: 227
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهِ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهِ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَلِقَاؤُهُ اللَّهَ بَعْدَ الْمَوْتِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری مرنے کے بعد ہوتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد 44/6، 55، 207، 236، ومسلم فى الذكر والدعاء 2684، وأخرجه البخاري تعليقا 6507، ووصله مسلم وقد استوفينا تخريجه فى صحيح ابن حبان، برقم 3010»
حدیث نمبر 228
حدیث نمبر: 228
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي , فَبَتَّ طَلاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لا , حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" ، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى , فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلا تَسْمَعُ إِلَى مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قِيلِ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا لا يَرْوِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ، فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنَّا قَدْ سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ كَمَا قَصَصِنَاهُ عَلَيْكُمْ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رفاعہ قرظی کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور طلاق بتہ دے دی میں نے عبدالرحمان بن زبیر کے ساتھ شادی کر لی لیکن اس کا ساتھ چادر کے پلو کی طرح ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور فرمایا: ”کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں (ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا) جب تک اس کا شہد نہیں چکھ لیتی اور وہ تمہارا شہد نہیں چکھ لیتا ہے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر انتظار کر رہے تھے کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دی جائے انہوں نے بلند آواز سے کہا: اے ابوبکر! کیا آپ سن نہیں رہے ہیں، یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بلند آواز میں کیسی باتیں کر رہی ہے؟ سفیان نامی راوی سے یہ کہا گیا: امام مالک نے اس روایت کو زہری سے نقل نہیں کیا ہے انہوں نے اسے مسور بن رفاعہ سے نقل کیا ہے، تو سفیان نے کہا: لیکن ہم نے یہ روایت زہری سے سنی ہے، جس طرح ہم نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الشافعي فى «المسند» ، ص 192 وأحمد 37/6، والبخاري فى الشهادات 2639، ومسلم فى النكاح 1433، والترمذي فى النكاح 1118، و «الدارمي» فى الطلاق 161/2، وابن ماجه فى النكاح 1932، والبغوي فى «شرح السنة» برقم 3361، من طريق سفيان، بهذا الإسناد.و تمام تخريجه انظر «مسند الموصلي» برقم 4423، و 4964»